انٹرنیٹ اور جعلی اقوال: ’مفروضہ ماضی کے حوالے سے کچھ بھی گھڑا جا سکتا ہے‘

منزہ انوار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہاں سوشل میڈیا کے بے شمار فوائد ہیں وہیں اس کے نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ چاہے بات جعلی اقوالِ زریں کی ہو یا غلط شاعری کی، سوشل میڈیا صارفین بنا تحقیق کیے کوئی بھی بات کسی معروف تاریخی شخصیت سے منسوب کر کے شئیر کر دیتے ہیں اور چند ہی گھنٹوں میں وہ وائرل بھی ہو جاتی ہے۔ حالی میں اس بحث کی زد میں آئے میں معروف مسلمان جنگجو جرنیل صلاح الدین ایوبی۔

پاکستانی اداکار شان سے تو آپ سب واقف ہی ہیں۔ شان ان دنوں سوشل میڈیا پر خاصے سرگرم ہیں اور کسی بھی معاملے پر ٹویٹ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

حال ہی میں انہوں نے یروشلم فتح کرنے والے مسلمان جرنیل صلاح الدین ایوبی کی تصویر کے ساتھ ان سے منسوب کر کے ایک قول ٹویٹ کیا۔

صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا ’اپنے دشمنوں سے پہلے غداروں کو قتل کرو‘۔

تب سے #صلاحالدینایوبی_نےکہاتھا پاکستای ٹویٹر کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے۔

شان کی اس ٹویٹ نے پاکستانی ٹویٹر پر ایک بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ جہاں کچھ صارفین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ شان کی اس ٹویٹ کا مقصد کیا تھا تو وہیں ایسے صارفین بھی ہیں جو مزید فرضی اور مزاحیہ اقوال صلاح الدین ایوبی سے منسوب کر کے اس ساری صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

ملتانی سینٹ نامی ٹویٹر صارف نے شان سے پوچھا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے یہ کس کتاب میں پڑھا؟

شان نے جواب دیا کہ یہ ایک امریکی جرنیل نے کہا تھا۔

ملتانی سینٹ نے ان سے پوچھا کہ ’کس امریکی جرنیل کا؟ کوئی کتاب یا ویڈیو کا لنک ؟ آپ نے اپنی ٹویٹ میں صلاح الدین ایوبی کے حوالے سے لکھا ہے نہ کہ امریکی جرنیل کے۔‘

اسی بات پر جب محمد تقی نے بھی مذاق کیا تو اس کے جواب مییں شان کا کہنا تھا:

سماجی حقوق پر کام کرنے والی کارکن اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ندا کرمانی نے شان سے ان کی ٹویٹ کے حوالے سے سوال کیا کہ آج کل کے حالات میں اس ٹویٹ کا مقصد کیا ہے؟

ندا کا کہنا تھا ’یہ کھلے عام تشدد کو دعوت دینے جیسا ہے۔‘

ندا نے انھیں یہ بھی کہا کہ فنکاروں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور امن کی آواز بننا چاہیے۔

صحافی قرۃالعین زمان نے بھی شان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انھیں ان کے والد ریاض شاہد کی جدوجہد یاد دلانے کی کوشش کی۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر غدار، غدار کی بازگشت

اج کل سوشل میڈیا پر غدار، غدار کی بازگشت ہر طرف سنائی دیتی ہے۔ ایک ٹرینڈ چل نکلا ہے جس میں کسی کو بھی غدار قرار دے کر ساری توپوں کا رخ اس کی طرف کر دیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان علی عثمان قاسمی کا کہنا تھا کہ یہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح کی الزام تراشی کا یہ ایک پورا ٹرینڈ ہے جیسا کہ انڈیا میں بھی کسی کو بھی ریاست مخالف قرار دے کر اس پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔

ایسے ٹرینڈ میں اس طرح کی دلیل دی جاتی ہے کہ ’خیال اور تشویش یہ ہے کہ باہر کا دشمن ظاہری طور پر آپ پہچان سکتے ہیں اور وہ سامنے آتا ہے۔ ہمارے ملک، ہماری ریاست کو جو خطرہ ہے وہ اندر سے ہے اور باہر کے غداروں سے ہم لڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ ہمارے اندر ہیں، ہماری اپنی صفوں کے اندر ہیں، چھپے ہوئے ہیں اور نظر نہیں آتے لہذا ان کو تلاش کرنا، ان کی شناخت کرنا اور ان کو ٹارگٹ کرنا زیادہ ضروری ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس سوچ کے تحت کسی بھی شخص کو آپ اپنی مرضی اور اپنی تعریف کے مطابق غدار قرار دے کر اس کے عقائد اور نظریات کی بنا پر جس سے آپ کو اختلاف ہو، اس کو غدار کہہ سکتے اور اسے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ علی کہتے ہیں ’اس پوری کیمپین کا مجھے یہی مقصد سمجھ میں آتا ہے۔‘

’تصوراتی ماضی کے حوالے سے کچھ بھی گھڑا جا سکتا ہے‘

جہاں تک ماضی کے کسی قول، تاریخی واقعے یا شخصیت کو استعمال کرنے کی بات ہے، اس بارے میں علی عثمان قاسمی کہتے ہیں ’وہ ایک ایسا ماضی ہے جو تصوراتی ہے۔ اور جس کو بیتے ہوئے اتنا وقت گزر چکا ہے، صدیاں بیت چکی ہیں کہ اس کے بارے میں کوئی بھی گفتگو کی جا سکتی ہے۔ کوئی بھی واقعہ گھڑا جا سکتا ہے، اور کوئی بھی تصور قائم کیا جا سکتا ہے۔

’جیسا کہ شان کی اس ٹویٹ سے بھی ثابت ہو رہا ہے کہ اس بات کو ثابت کرنا، اس کی تصدیق کرنا کہ آیا صلاح الدین ایوبی نے یہ بات کہی تھی، ناممکن ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس اس طرح کے تاریخی شواہد میسر نہیں ہیں نا ہی ان کا احاطہ کرنا ممکن ہے۔‘

علی کہتے ہیں کہ نا تو روزمرہ کی بحث میں کسی کے پاس اتنا وقت ہے نا ہی ایسے وسائل موجود ہیں جن کی بنیاد پر وہ یہ جان سکیں کہ آیا صلاح الدین ایوبی نے یہ بات کی بھی تھی یا نہیں کی تھی۔ اس لیے آپ کوئی بات کسی سے بھی منسوب کر سکتے ہیں۔

’یہ ایک ایسا مثالی اور افسانوی ماضی ہے جس کا استعمال ایک خاص طرح کی طاقت کو عمل میں لانے کے لیے کیا جاتا ہے کہ دیکھیں جب ہم شاندار تھے، جب ہم طاقت ور تھے اور فتوحات کر رہے تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ہماری صفوں میں جو غدار تھے ان کا ہم نے قلع قمع کیا تھا اور ہمارے پاس ایسے ایسے مضبوط لیڈر موجود تھے۔‘

علی کا کہنا ہے کہ اس افسانوی ماضی کے استعمال کی یہی ایک وجہ ہے کیونکہ اسے جھٹلانا ممکن نہیں ہے۔

’بات صرف صلاح الدین ایوبی کے قول تک محدود نہیں‘

تاریخ دان علی عثمان قاسمی کہتے ہیں کہ بات صرف صلاح الدین ایوبی کے قول تک محدود نہیں ہے ’آپ نے کسی سے عقیدت یا نفرت کا اظہار کرنا ہے تو اس کے لیے بھی آپ ماضی کی کسی شخصیت کا قول گھڑیں گے۔‘

’جیسا کہ عموماً آپ نے دیکھا ہو گا کہ یہودیوں سے نفرت کا اظہار کرنے کے لیے ہٹلر کا ایک قول استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دینِ اسلام کی عظمت کو بیان کرنا ہو تو اکثر برناڈ شا یا کسی اور اس طرح کی مغربی شخصیت کا نام لے کر ان سے قول منسوب کر دیا جاتا ہے۔‘

جہاں کچھ لوگوں نے یہ قول شئیر کرنے پر شان کو آڑے ہاتھوں لیا وہیں کچھ صارفین اس صورتحال کا لطف لیتے اور میمز شئیر کرتے اور صلاح الدین ایوبی کا موازنہ انڈین اداکار امیتابھ بچن سے کرتے دکھائی دئیے۔

کچھ صارفین ایسے بھی ہیں جنھیں یقین نہیں کہ یہ اداکار شان نے خود ٹویٹ کیا ہے اور وہ پوچھتے رہے ہیں کہ کہیں یہ ٹویٹ ان کے کسی اسسٹنٹ نے تو نہیں کی۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر رومی سے منسوب جعلی اقوال بھی شئیر کیے جاتے ہیں۔ انھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نتاشا کہتی ہیں:

علی عثمان قاسمی کا ماننا ہے کہ جعلی اقوال استعمال کرنے اور انھیں شئیر کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’یہ جاننا مشکل ہے کہ آیا یہ جعلی اقوال ہیں بھی یا نہیں لیکن ایک افسانوی ماضی اور تصوراتی ہیرو کی مثال دے کر آپ اسے کسی بھی طرح کے مقصد، سیاست یا کسی بھی عقیدے کے فروغ یا اسے رد کرنے کے لیے اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8852 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp