یہ ہماری وردی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احتجاجی تحریکیں کسی بھی معاشرے کی ذہنی صحت مندی کی علامت ہوتی ہیں۔ سوال ذہن کے بیدار ہونے کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ وصف جن قوموں میں موجود ہوں تو یقین کر لیں کہ وہ زندہ ہیں۔ مگر ہمارے ملک میں ایک پیچیدگی یہ ہے کہ ہم انتہا پسندی کی حد تک جذباتی ہیں۔

کسی سے محبت کرنے پر آئیں تو انسان کو دیوتا بنا بیٹھتے ہیں اور نفرت کریں تو آسمان پر اڑتے ہوئے کو زمین بوس کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ شاید انتہا پسندی کے وار سہتے سہتے ہم سب انتہا پسند ہو گئے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریکیں یا سیاسی جماعتیں جو بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ سے تشکیل پاتی ہیں۔ بے اعتدالی کا شکار ہو جاتیں ہیں اور اپنے حقیقی نظریے سے فاصلہ اختیار کرتی چلی جاتی ہیں۔ پھر چاہے وہ ایم کیو ایم ہو یا پی ٹی ایم، دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے باوجود بھی راندہ درگاہ ہو جاتیں ہیں یا کر دی جاتیں ہیں۔

پی ٹی ایم جن مسائل کی وجہ سے تشکیل پائی اس نے عام لوگوں کے ساتھ خواص کو بھی متوجہ کیا۔ مگر بد نصیبی یہ ہوئی کہ عوام اور خواص کے ساتھ ایک طبقہ اور ہے جو ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ اس طبقے کو آپ ”گھس بیٹھیا“ کہہ سکتے ہیں۔ اس سے بہتر نام ہو نہیں سکتا یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے مفادات اور وفاداریاں مشکوک ہوتی ہیں۔ وہ بھی نہایت عیاری سے اپنی جگہ بنا بیٹھتے ہیں۔

یہی وہ شکاری ہوتے ہیں جو مسائل زدہ لوگوں کے جائز پلیٹ فارم کو اندھی کھائی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اور مظلوم طبقہ سمجھ بھی نہیں پاتا کی ان کے ساتھ کیا واردات ہو گئی ہے۔

پہلی بار جب یہ نعرہ، یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے نظر سے گزرا تو دماغ کے سارے الارم بجا اٹھے۔ یہ نعرہ ”امپورٹڈ“ ہے کوئی محب وطن تو نہیں لگا سکتا امن اور حقوقِ انسانی کی بات کرنے والے افراد ایسے نعرے نہیں لگاتے جن سے ان کی اپنی حق تلفی ہو۔

کسی بھی ملک میں کچھ علاماتِ حساس تسلیم کی جاتی ہیں۔ ہمارا قومی پرچم، ہمارا قومی ترانہ، ہمارے قومی ادارے، افواج پاکستان ان سب کی تقدیس کا احترام کرنا ہمارا ملی فرض ہے۔ جو ایسا نہیں کریں گے وہ غلط ہیں۔ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔

اگر کچھ لوگوں کے انفرادی فیصلوں سے اختلاف ہو تو بھی اجتماعی طور پر پورے ادارے کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا یہی رویہ تو انتہا پسندی کو پروان چڑھاتا ہے۔ احتجاج کریں اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں۔ مگر کسی کے غلط ایجنڈے کو پروموٹ نہ کریں۔ یہی تو اچھے لیڈر کی خوبی ہونی چاہیے کہ وہ اس بات کا ادراک رکھتا ہو کہ کہیں غیر ارادی طور پر وہ کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہو رہا۔ پروپیگنڈہ کی تعریف صرف ایک جملے میں کی جا سکتی ہے۔

جھوٹ اتنے تواتر سے کہو کہ سچ لگنے لگے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے بھی ہم دشمنوں سے نبرد آزما ہیں۔ اور ففتھ جنریشن وارفیر کے پے درپے حملوں سے بھی ہم نفسیاتی جنگ لڑ رہے ہیں۔

جس وردی پر الزام لگایا جا رہا ہے دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار اس وردی کو ہی بنایا گیا ہے۔ اس سے کوئی انکار کر سکتا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی کے عفریت سے ملک کا کون سا طبقہ محفوظ ہے۔ یہاں کون مظلوم نہیں ہے؟

کیا عبادت گاہوں، مزارات، بازاروں میں خودکش دھماکوں میں شہید ہونے والے مظلوم نہیں ہیں؟ سینکڑوں کی تعداد میں ہزارہ برادری کے جو لوگ دہشت گردی کا نشانہ بنے وہ مظلوم نہیں ہیں؟ کیا آرمی پبلک اسکول پشاور کے بے گناہ معصوم بچے جو کبھی نہ واپس آنے والے سفر پر چلے گئے مظلوم نہیں ہیں؟ جو ہزاروں فوجی اہلکار وردی سمیت دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں مظلوم نہیں ہیں؟

یہ درست ہے کہ اس سارے عرصے میں کچھ سیاسی حالات ایسے ہوتے چلے گئے جس سے قوم نظریاتی طور پر تقسیم ہوئی۔ چند افراد کی انفرادی مخالفتیں، انائیں، لاحاصل ضدیں لوگوں کی مایوسی کا سبب بن گئیں۔ لیکن قوموں پر ایسے مرحلے آنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اختلاف تو زندگی کی علامت ہے۔ یکسانیت تو تخلیق کی موت ہے بقول شاعر

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا چکا تھا دل
جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر

ظلم کا شکار پورا ملک ہوا ہے جس تکلیف سے عام لوگ گزرے ہیں اتنی ہی تکلیف وردی کو بھی اپنی پڑی ہے۔ ہم پہلے بھی ایسی ناعاقبت اندیشی سن کے سبب دو لخت ہو چکے ہیں۔ سوچئے کیا اتنی سکت ہے کہ کسی اور تلخ تجربے کو دہرا سکیں۔

کیا اب بھی کسی میں حوصلہ ہے کہ وہ یہ تکلیف دہ نعرہ اپنائے۔ نہیں میرے عزیز ہم وطنوں یہ وردی پہنے ہزاروں فوجی ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ہمارے سمندروں پر پہرہ دے رہے ہیں۔ ہماری فضاؤں کی حفاظت پر مامور ہیں۔

ففتھ جنریشن وار کیاہے؟ الفاظ کی ہیرا پھیری بس اور کچھ نہیں۔ الفاظ کی طاقت کو سمجیں۔ محض چند لفظوں کے ہیر پھیر سے کیسے غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔ یہی تو اس جنگ کا سب سے موثر ہتھیار یے۔

یہ وردی ہماری ہے۔ میری ہے۔ آپ کی ہے۔ ہر پاکستانی کی ہے۔ یہ ہر فوجی اہلکار کے جسم پر ہماری امانت ہے۔ اورامانت میں خیانت گناہ ہے اگر کوئی اس میں خیانت کا مرتکب ہوگا تو اس کی سزا اسے دنیا اور آخرت دونوں میں بھگتنی پڑے گی۔

آپ چاہیں یا نہ چاہیں۔ مانیں یا نہ مانیں۔ رو کر لڑیں یا ہنس کر یہ ففتھ جنریشن وار ایک ادارے آئی ایس پی آر کو اکیلے نہیں ہمیں بھی ساتھ مل کر لڑنی پڑے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صبا جوہی کی دیگر تحریریں
صبا جوہی کی دیگر تحریریں