فولاد ہے مومن؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کے بعد کیا ہو گا؟ یہ سوال پاکستان کے سیاسی اور میڈیائی حلقوں میں شدت سے زیر بحث ہے۔ جہاں بھی سیاسی موضوعات سے دلچسپی رکھنے والے دو، چار افراد اکٹھے ہوتے ہیں یہ سوال زیر بحث آ جاتا ہے۔ جن لوگوں کو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ بھی اِس سوال سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی افطار بیٹھک ’جو رمضان کے مہینے میں بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھی، اور جس میں پہلی بار مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سر جوڑ کر بیٹھے تھے، میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ عید کے بعد اپوزیشن جماعتیں پھر جمع ہوں گی، اور اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گی۔

مولانا فضل الرحمن کو یہ اجلاس بلانے کا اختیار دے دیا گیا تھا۔ وہ اس کے باقاعدہ کنوینر مقرر ہوئے تھے۔ ایک زمانہ تھا کہ یہ ذمہ داری نواب زادہ نصراللہ خان کے سپرد ہوتی تھی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے ”ڈیک“ (ڈیمو کریٹک ایکشن کمیٹی) بنائی، تو ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی اس میں شامل نہیں تھی، وہ دما دم مست قلندر کے نعرے لگاتے رہے، لیکن ان کو چھوڑ کر تمام اپوزیشن جماعتیں یک جا ہو گئیں۔

نوابزادہ نصر اللہ کو اس کا کنوینر مقرر کیا گیا تھا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان تو اب اِس دُنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کا خلا موجود ہے، انہیں مختلف الخیال عناصر کو یکجا کرنے کا جو ملکہ حاصل تھا، وہ بعد میں کسی پاکستانی سیاست دان کے حصے میں کم ہی آیا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کی غیر موجودگی میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک اٹھی، تو اس کا رنگ ڈھنگ نرالا تھا۔ چیف جسٹس افتخار چودھری اس کا نقطہ ٔ ماسکہ بن گئے تھے، انہوں نے پرویز مشرف کے سامنے سرنڈر کرنے سے انکار کیا، تو ان کا آگا پیچھا بھول کر تبدیلی کے خواہاں ان کے ساتھ ہو لیے تھے۔

جنرل پرویز مشرف کو دوسری بار آئین معطل کرنا پڑا، اور یہی اقدام ان کا اقتدار نگل گیا۔ ایوب خان اور یحییٰ خان تو بخیر و خوبی پاکستان میں رہتے رہے تھے، اور کسی نے اُن کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی تھی لیکن جنرل پرویز مشرف کے لیے پاکستان میں رہنا ممکن نہ رہا۔ آرٹیکل چھ کی تلوار ان کی طرف بڑھی، تو وہ دُم دبا کر بھاگے۔ اب ہانپتے کانپتے دوبئی میں سانس گن رہے ہیں۔ وہ پاکستان جس پر انہوں نے دو بار قبضہ جمایا تھا، اس کے آئین کو تاراج کیا تھا، اور جس میں وہ لہک لہک کر فرمایا کرتے تھے کہ ”آخری مکّہ“ ہمارا ہو گا، اب ان کا منہ ہے اور انہی کا مکّہ۔

2018 ء کے انتخابات کے بعد وزیر اعظم عمران خان برسر اقتدار آئے، تو ان کے مخالف بھی منہ دیکھتے رہ گئے۔ مولانا فضل الرحمن نے دہائی دی کہ تحریک چلاؤ، انتخابی نتائج ماننے سے انکار کر دو، لیکن مسلم لیگ (ن) نے ان کی مانی نہ پیپلز پارٹی نے۔ دوسری سیاسی جماعتیں بھی اودھم مچانے پر راضی نہ ہوئیں لیکن جوں جوں دن گزرے، بات بگڑتی چلی گئی۔ معیشت حکومت کے قابو میں نہ رہی۔ اس پر مستزاد یہ کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معمول کے تعلقات بھی بحال نہ ہو پائے۔

انتخابی مہم کب کی ختم ہو چکی، لیکن برسر اقتدار آنے والوں کے لہجے تلخ ہیں۔ وہ ہر خرابی کی ذمہ داری سابق حکمرانوں پر ڈالے اور اُن کے خلاف دِل کا غبار نکالے چلے جا رہے ہیں۔ لوگ مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں، روپے کی قوتِ خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔ زر مبادلہ کے کم ہوتے ذخائر نے آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینے پر مجبور کیا، تو اس کی شرائط بھی ماننا پڑی ہیں۔ اس سال چار ہزار ارب پہلے ریونیو کا ہدف پورا نہیں ہو پا رہا کہ اگلے سال ساڑھے پانچ ہزار ارب کا ہدف مقرر کیا جا رہا ہے۔

اضافی وسائل کہاں سے آئیں گے، نئے ٹیکس لگانا پڑیں گے یا پرانے ٹیکسوں کا شکنجہ کسنا ممکن ہو گا۔ عوام پر کپکپی طاری ہے اور اپوزیشن کی اپنی تیاری ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اب حکومت کا دامن ہی نہیں گریبان کھینچنے کا وقت آ گیا ہے۔ سوچا جا رہا ہے کہ نئے انتخابات کا مطالبہ کیا جائے اور موجودہ حکومت کے پانچ سال پورے نہ ہونے پائیں۔ دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ سب کچھ جوں کا توں رہا، تو نئے انتخابات سے مسائل کیسے حل ہوں گے؟

وزیر اعظم عمران خان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو پیغام بھیج رہے ہیں، مذاکرات کی دعوت پر دعوت دے رہے ہیں، براہِ راست بات کرنے کے لئے تڑپ رہے ہیں، لیکن وہاں سے مثبت جواب نہیں آ رہا۔ مودی جی نے اپنے دروازے بھی بند کر رکھے ہیں اور کان بھی۔ خارجہ پالیسی کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کا خیال دِل سے نکال دیا ہے۔ ان کے نئے وزیر خارجہ جے شنکر ایک انتہائی زیرک اور تجربہ کار ٹیکنو کریٹ ہیں، جن کی عمر وزارت خارجہ میں گزری ہے۔ وہ بیجنگ میں بھارت کے سفیر رہے، امریکہ میں بھی یہ ذمہ داری نبھائی، سیکرٹری خارجہ بھی رہے اور انہیں وزارت سپرد کر کے نریندر مودی نے بتا دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔

علاقائی سطح پر مودی جی بنگلہ دیش، میانمار، سری لنکا، تھائی لینڈ، نیپال اور بھوٹان کے جھرمٹ میں خوش ہیں، ”بمسٹک“ (بے آف بنگال، انیشی ایٹو فار ملٹی سیکٹورل ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن) پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور انہی کے ذمہ داروں کو انہوں نے اپنی تقریب میں حلف وفا داری میں بُلا کر اپنے آپ سے داد وصول کی ہے، گویا پاکستان کو ایک طرف رکھ کر اسے تنہا کر دینے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اس لیے وزیر اعظم عمران خان کے بڑھے ہوئے ہاتھ تھامنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ اس سے قطع نظر مودی کے عزائم کیا ہیں، پاکستان کو اپنی ”پیش قدمی“ جاری رکھنی ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں اس کا اپنا فائدہ بھی ہے۔ تعجب کی بات البتہ یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان مودی جی سے تو تعلقات کار بحال کرنا چاہتے ہیں، لیکن اپنے سیاسی مخالفوں کو یہ سہولت دینے پر تیار نہیں ہیں۔ ”رزم حق و باطل“ میں تو ابریشم کی نرمی دکھائی جا رہی ہے، لیکن ”حلقۂ یاراں“ میں مومن فولاد بنا ہوا ہے۔

حالانکہ خارجی محاذ پر پیش قدمی سے پہلے داخلی محاذ پر استحکام لازم ہے۔ بھارت میں انتخاب ختم ہوتے ہی انتخابی مہم ختم ہو گئی۔ راہول گاندھی اپنی ماتا جی سونیا گاندھی کے ساتھ نئے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوئے، مبارک باد دی اور اپوزیشن کا کردار ادا کرنے لگے۔ پاکستان میں باوا آدم نرالا ہے۔ اپوزیشن کو تسلیم کیا جا رہا ہے نہ اس کے کردار کو۔ قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزبِ اختلاف ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کے روادار نہیں۔  دستور کی جن شقوں پر ان کی مشاورت کے بغیر عمل نہیں ہو سکتا، ان کا منہ چڑایا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کی تکمیل بھی نہیں ہو پا رہی۔ اپوزیشن رہنماؤں پر احتسابی ادارے کی یلغار اپنی جگہ، مقدمات کی بھرمار اپنی جگہ، انہیں عدالتوں کے سپرد کیجیے، وہ جانیں اور ان کا کام۔ لیکن آپ تو اپنا کام کیجیے، برسر اقتدار جماعت کے مقابلے میں اگر تمام اپوزیشن جماعتوں کے ووٹ یکجا کر لیے جائیں تو زیادہ ہو جائیں گے، ان ووٹوں کی نفی کر کے ریاست کا کاروبار کیسے چل سکے گا، کیسے چل پائے گا، اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ اتنی مروت تو برت ہی لیجیے جو مودی جی کی نذر کی جا رہی ہے، معاملات سڑکوں پر نہیں منتخب ایوانوں میں طے ہوں گے تو سب کا بھلا ہو گا۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •