بھائی ادریس بختیار، آپ اوجھل ہو گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے آنسووں نے گرنے میں کئی دن لگا دیے

لیکن اب ان کا رکنا دشوار ہو رہا ہے

کیا مجھے اس نقصان کا ادراک دیر سے ہو رہا ہے؟

یا

میں دیگر لوگوں کی رائے سنتا یا پڑھتا رہ گیا اور اپنے ذاتی نوعیت کے نقصان کا سوچ ہی نہیں پایا؟

اب جب تنہا سا ہوا تو احساس ہوا کہ اب کوئی صحافتی یا ذاتی مشکل ہوئی تو میں کہاں اور کس کے پاس جاؤں گا؟

کون سمجھائے گا، کون بتائے گا؟

اس پر کہا جا سکتا ہے کہ سمجھانے بجھانے اور بتانے والے تو بہت ہیں آس پاس

پر میرا جواب سادہ اور معصوم سا ہوگا کہ ان میں کوئی بھی ادریس بھائی نہیں ہے۔ جو ڈانٹتےبھی تھے تو ایسا لگتا تھا کہ ڈرامہ کر رہے ہیں ڈانٹنے کا۔ اصل میں تو پیار ہی کر رہے ہیں۔ انہیں تو ڈانٹنا بھی نہیں آتا۔

 چھوٹے اپنے بڑوں سے خود کو جوڑ کر اپنا قد بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ادریس بھائی کا معاملہ اس کے برعکس نظر آیا۔ اب ایسا کوئی نظر نہیں آرہا جو چھوٹوں کو اہمیت دے کر اپنے برابر تک لے جائے

ایک بار میں ان کے ہیرالڈ کے دفتر گیا تو مانیٹر پر نظریں جمائے اپنا کام بھی کرتے رہے اور باتیں بھی

کمرے میں ایک تصویر بورڈ پر لگی تھی جس میں ایک رپورٹر بھارتی سیاستدان لالو پرساد یادو کے ساتھ کھڑے تھے۔

میں نے ادریس بھائی سے کہا کہ یہ صاحب تو اب ہیرالڈ میں نہیں ہوتے نا؟

ادریس صاحب نے میرا سوال سنا اور سینہ ٹھونک کر بولنے والے انداز میں بولے، یہ دیوار میری ہے جہاں یہ تصویر لگی ہے۔

میں ان کے اس انداز پر مسکرایا تو وہ بھی مسکرائے اور یہ پوچھتے ہوئے بات ختم کر دی کہ “چائے پیو گے؟”

اور میں نے بھی مسکراہٹ جاری رکھتے ہوئے اثبات میں گردن ہلا دی۔

پر مجھے احساس ہوا کہ لوگ بھلے انہیں چھوڑ جائیں، وہ نہیں چھوڑتے اسے جس سے ان کا تعلق رہا ہو۔ وہ اچھے تعلق کو بہت زیادہ سنبھال کر رکھنے والے آدمی لگے

اسی طرح ایک بار میرے سامنے ادریس صاحب کو ایک صاحب نے بتایا کہ فلاں صاحب آپ کے بارے میں منفی باتیں کرتے ہیں۔ مجھے اس پر ذرا حیرت ہوئی کہ جن صاحب کا بتایا گیا تھا کہ وہ ادریس بھائی سے متعلق منفی باتیں کرتے ہیں، وہ صحافیوں کے اسی گروپ کے سرگرم رکن تھے جس کے ادریس بھائی بھی روح رواں تھے۔ جواب میں ادریس بھائی نے نہایت لاپرواہی سے کہا کہ وہ صاحب عرصہ دراز سے ایسا کر رہے ہیں۔ مجھے کیا فرق پڑتا ہے اس سے

اور واقعی یہی سچ تھا آج وہ صاحب دنیا میں ہونے کے باوجود کہیں بھی نہیں۔ اور ادریس بھائی دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود ہر طرف موجود ہیں۔

برائی کرنے والے سے اس طرح کا درگذر تو ایسی نادر صفت ہے جو صرف بڑے انسانوں کو ہی ودیعت کی جاتی ہے۔

اس واقعے سے یہ بھی پتا چلا تھا کہ ادریس بھائی لوگوں کی اچھی اور مثبت باتوں کوبہت سنبھال کر رکھتے تھے۔ اور منفی باتوں سے درگذر کر کے چند سیکنڈز میں ہی جان چھڑا لیتے تھے۔ جس سے منفی بات کرنے والا خود بخود کچرے کے ڈبے کی نذر ہوجایا کرتا تھا۔

ادریس بھائی کی ان ساری عادتوں میں ملنے جلنے والوں کے سیاسی اور سماجی نظریات کا کوئی عمل دخل نہیں ہوا کرتا تھا۔ ان کے پاس افراد کی تقسیم صرف اچھے اور برے کی تھی، اچھے کو بہت سنبھال کر رکھنا اور برے سے جان چھڑا کر خود کو پاک صاف کر لینا۔

ایک ملاقات میں پوچھا کہ کوئی نئی چیز پڑھی؟

میں نے بتایا کہ مصری ناول نگار نجیب محفوظ کے ناول (ہارافش) کا اردو ترجمہ ہوا ہے (عام سے لوگ) وہ پڑھا ہے تازہ تازہ۔ پھر میں نے انہیں وہ ناول دیا، انہوں نے بھی پڑھا اور پسندیدگی کا اظہار کیا۔

پوچھا کہ ناول میں جو حاشیے لگے ہیں وہ تمہارا انتخاب ہے؟

میں نے کہا جی۔

پھر انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے بھی پڑھنے کی کوشش کی لیکن جلد چھوڑ دیا یہ کہہ کر کہ بہت بھاری تحریر ہے تو میں (ادریس بختیار) نے کہا کہ وہ جو حاشیے لگے ہیں نا، ناول میں بس وہ پڑھ لو۔

اب یہ بات ہوئی تھی یا نہیں، پر میرا تو سینہ پھلا دیا ادریس صاحب نے یہ بات کر کے۔ ایسا وہ اکثر کیا کرتے تھے۔ کسی کی بھی تعریف میں کبھی دیر یا بخل نہیں کرتے تھے۔

اور اگر کسی کی کوئی سرزنش یا تصحیح درکار ہوتی تو بہت نیچی آواز کر کے یہ کام کر لیتے کہ مخاطب کے سوا کسی کو پتا نا چلے۔

میں 1992 میں  رپورٹنگ میں آیا اس وقت سے آخر دم تک ادریس بھائی کی کبھی اونچی آواز نہیں سنی، سوائے قہقہے کے۔ سخت غصے میں بھی آواز اور مزاج بہت قابو میں رکھتے تھے۔

جس درجے اور معیار کے وہ صحافی رہے، اس درجے اور معیار نے ان کی شخصیت پر کوئی تکبرانہ مزاج حاوی نہیں ہونے دیا بلکہ نہایت عاجزانہ مزاج کا انہیں عادی بنا دیا اور یہی عادت آج ہر طرف، ہر طبقہ فکر کے لوگوں کا موضوع گفتگو ہے۔

کبھی ملاقات میں وقفہ لمبا ہوجاتا تو ملنے پر ان کی شکایت تین الفاظ پر مشتمل ہوتی تھی

“آپ غائب ہیں؟”

اب سمجھ نہیں آرہا کہ ہم جیسے چھوٹے لوگوں کی کمی کون محسوس کرے گا؟

کون کہے گا کہ آپ غائب ہیں؟ یہ پوچھنے والا تو خود اوجھل ہو گیا

روز افزوں ہے زندگی کا جمال

آدمی ہیں کہ مرتے جاتے ہیں

جون یہ زخم کتنا کاری ہے

یعنی کچھ زخم بھرتے جاتے ہیں

(جون ایلیا)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عقیل رانا کی دیگر تحریریں
عقیل رانا کی دیگر تحریریں