سڈنی میں سمندر کنارے بنے پولز اور ان کا کلچر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سڈنی کے آؤٹ ڈور سوئمنگ پولز وہاں کے باسیوں اور سیاحوں میں یکساں مقبول ہیں۔ تیراکی کے لیے مشہور ایسے ہی ایک مقام کی تجدید کاری کے ایک منصوبے پر گرماگرم بحث و مباحثہ جاری ہے۔ اسی پس منظر میں گیری نن نے وہاں کا دورہ کیا اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ شہر پول کلچر کس طرح پیدا ہوا۔

پول
اوپرا ہاؤس اور سڈنی برج کے علاوہ سڈنی شہر کی ایک اور وجہ شہرت یہاں واقع برلبِ سمندر پولز بھی ہیں

مشہور و معروف اوپرا ہاؤس اور پل کے علاوہ سڈنی شہر ایک اور راز کا امین بھی ہے۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سڈنی کی ایک اور وجہ شہرت برلبِ سمندر واقع 35 سوئمنگ پولز (نہانے اور تیراکی کے تالاب) بھی ہیں۔ دنیا کے کسی بھی شہر میں پولز کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ کیپ ٹاؤن دوسرے نمبر پر ہے جہاں ایسے پولز کی تعداد 19 ہے۔

اس موضوع کی ماہر ڈاکٹر مری لوئس میک ڈرمٹ کہتی ہیں کہ ‘سڈنی میں اتنی بڑی تعداد میں سمندری پولز کا ہونا منفرد بات ہے۔’

‘اوشن پولز’ کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ انسانوں کے بنائے ہوئے ایسے عوامی تالاب ہیں جو سمندر کے دھانے پر بنائے جاتے ہیں اور ان میں سمندر کی موجیں داخل ہو سکتی ہیں۔ ان میں موجود پانی درحقیقت سمندر سے ہی آتا ہے۔

پول
آسٹریلیا کے مشہور پولز میں سے ایک بونڈی آئس برگ پول ہے

ڈاکٹر میک ڈرمٹ نے ان پولز کے معرض وجود میں آنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ چوٹ لگنے سے بچنے، شارک سے حفاظت کے لیے جہاں بنایا گیا وہیں اس کے ساتھ عزت و وقار بھی شامل ہوگیا۔

19ویں صدی میں تیراکی کے دوران پہنے جانے والے مخصوص لباس زیادہ عام نہیں تھے۔ لوگ عموماً ننگے نہاتے یا ایسے کپڑوں میں جن کے بھیگ جانے کی انھیں فکر نہ ہوتی۔

ڈاکٹر میک ڈرمٹ کہتی ہیں کہ ‘عوام کا اکٹھے دن اور روشنی کے اوقات میں نہانا غیر قانونی تھا تاہم لوگ انفرادی طور پر اپنے پولز میں کسی بھی وقت نہا سکتے تھے۔’

اور اس چیز نے مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ نہانے کے اوقات اور پولز کی بنیاد ڈالی۔ یہی وجہ ہے کہ سڈنی کے ساحل پر موجود ایک مضافاتی علاقے کوگی میں ابھی بھی ‘میکلور لیڈیز باتھس’ موجود ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص نہانے کا مقام ہے اور سنہ 1876 میں اسے تعمیر کیا گیا تھا۔

27 سالہ صوفیا ڈے کا کہنا ہے کہ عورتوں کے لیے مخصوص نہانے کے مقامات ایسی جگہیں ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو محفوظ اور آزاد محسوس کرتی ہیں، ‘خاص کر اس وقت جب وہ اوپر کی جانب سے مکمل عریاں ہو کر کے تیراکی کرنا چاہتی ہیں۔’ صوفیا اپنی والدہ کے ہمراہ ایسے مخصوص مقامات پر تیراکی کے لیے جاتی ہیں۔

آسٹریلیا کے ساحلوں پر عموما خطرناک متموج سطح آب ہے جہاں تیز دھار محسوس کی جاتی ہے۔ چنانچہ حفاظتی اقدامات کے طور پر ساحلِ سمندر پر پولز کی تعمیر شروع ہوئی۔ ان پولز کی تعمیر سے پہلے ساحلوں پر ایسے ماہر رضا کار موجود ہوتے تھے جن کے پاس مشکل میں گرفتار ڈوبتے انسانوں کی زندگی بچانے کی تربیت ہوتی تھی۔ سنہ 1911 میں صنف کی بنیاد پر تفریق اور لوگوں کے اکٹھے نہانے پر عائد پابندی ختم ہو گئی۔

تاہم پابندی کے اس خاتمے سے خواتین اور لڑکیوں کے ڈوبنے کے امکانات بڑھ گئے کیوں کے مردوں کی طرح ان کے پاس تیراکی سیکھنے کے زیادہ مواقع موجود نہیں تھے۔

پول
سڈنی میں سمندر کے کنارے بنائے گئے پولز کی تعداد 35 ہے

ڈاکٹر میک ڈرمٹ کہتی ہیں کہ ساحل سمندر پر واقع پولز نہانے کے لیے محفوظ جگہوں کے طور پر سامنے آئے۔

یہ ساحل پر موجود زندگی بچانے والے نئے رضاکاروں کے لیے تربیت کی لیے بھی ایک مناسب جگہ تھی۔ ‘آدھے پیسے لوگ اکٹھے کرتے اور آدھے حکومت مہیا کرتی۔ شاید یہ پہلی ایسی سہولت تھی جسے مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے استعمال کرتے تھے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘یہ آج بھی ایک منفرد تجربہ ہے۔ پول میں آپ کے ساتھ مچھلیاں، سمندری جھاڑیاں، جیلی فش سے ملتی جلتی مخلوق اور آکٹوپس بھی ہو سکتے ہیں۔ اور آپ کو انھیں برداشت کرنا ہو گا۔’

دوسرے ممالک میں صورتحال؟

ڈاکٹر میک ڈرمٹ کہتی ہیں کہ کیپ ٹاؤن میں صورتحال سڈنی جیسی ہی ہے۔ وہاں بھی تیز موجیں اور شارک ہیں۔ تاہم دیگرکئی دوسرے ممالک نے سمندر کنارے پولز تعمیر کرنے کی ثقافت کو فروغ نہیں دیا۔

ڈاکٹر میک ڈرمٹ کا کہنا ہے کہ ‘برطانوی کلچر میں پولز سمندر کے اندر بنانے کے بجائے سمندر کے کناروں پر بنائے جاتے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ وہاں ایک نہانے والی مشین لوگوں کو سمندر کے اندر لے جاتی ہے تاکہ ان کو بغیر کپڑوں کے نہ دیکھا جا سکے۔ آسٹریلیا میں آپ گھوڑا گاڑی کو بپھرے ہوئے سمندرمیں نہیں لے جا سکتے۔

شمالی امریکہ میں لوگوں کو ایسے مقامات پر جانے کا خاص شوق نہیں تھا۔ ‘ان کے سمندر کا پانی سرد تھا، لوگوں کا تفریح کی غرض سے پانی میں جانا اتنا عام نہیں تھا ہر چند کہ وہاں شارک بھی کم تھے۔

پول
1956 کے اولمپک مقابلوں میں آسٹریلیا نے تیراکی میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کے بعد یہاں زیادہ تعداد میں پولز تعمیر کیے گئے

یونیورسٹی آف میلبورن میں فن تعمیر کے شعبے سے وابستہ پروفیسر ہینا لوئی کہتی ہیں کے سڈنی کی ساحلی پٹی پرتھ اور میلبورن سے مختلف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیراکی کے حوالے سے عالمی کھیلوں میں آسٹریلیا کی کامیابی بھی ایک عنصر ہے۔ ڈاکٹر میک ڈرمٹ اس سے متفق ہیں اور کہتی ہیں کہ ‘سنہ 1956 کے اولمپک مقابلوں میں تیراکی کے کھیل میں آسٹریلیا نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اور اس کے بعد بڑی تعداد میں اولمپک سائز پولز بنائے گئے۔’

رہائشی جو انھیں پسند کرتے ہیں

برطانیہ سے سنڈنی منتقل ہونے والے 37 سالہ بن جارڈن اور 30 سالہ لورین ہاکی اکثر ان پولز کا دورہ کرتی ہیں۔

لورین ہاکی کہتی ہیں کہ ‘ان کا کوئی مقابل نہیں۔ آپ محفوظ مقام پر کھارے پانی میں تیر سکتے ہیں جہاں اکثر اوقات دلفریب مناظر بھی ہوتے ہیں۔ آسٹریلیا آنے سے پہلے میں نے بہت کم تیراکی کی تھی۔ اب میں ہر ہفتے کرتی ہوں اور گرمیوں میں تو تقریباً روزانہ۔’

لورین نے مزید کہا کہ ‘یہ ان افراد کے لیے بہترین جگہ ہے جو سمندری لہروں کے مقابل نہیں آنا چاہتے یا جو اس بات سے پریشان ہوتے ہیں کے پانی کے اندر ان کے پیروں کے نیچے کیا ہے۔’

پول

سڈنی کے رہائشی اینڈریو وارڈ نے ‘ہیڈ آبو واٹر، نامی ادارے کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ سمندری پولز کو لوگوں کی نفسیاتی صحت کی بہتری کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اینڈریو کا کہنا ہے کہ ‘گذشتہ برس مجھے نفسیاتی صحت کے مسائل درپیش تھے اور شمالی مضافاتی علاقے کولوروئے کی سوئمنگ کمیونٹی اس حوالے سے میری کافی مددگار رہی۔’

‘نیم ڈپریشن سے بچنے کے لیے کوئی بھی ورزش مددگار ہوتی ہے لیکن سمندر کے قریب ہونے کی اپنی بات ہے۔ سمندر کی لے آپ کی ذہنی سطح کو ٹھیک کرنے میں مدد کرتی ہے اور آپ کے تمام حواس بیدار ہو جاتے ہیں۔

سڈنی میں مصنوعی اور انڈور پولز بھی ہیں۔

حال ہی میں نارتھ سڈنی اولمپک پول کی تجدید کاری کے لیے چار کروڑ امریکی ڈالر سے زیاد کی رقم کا اعلان کیا گیا۔

یہ پول سڈنی ہاربر برج کے ساتھ واقع ہے۔ اس کا افتتاح سنہ 1936 میں ہوا اور سنہ 1938 میں اسے برٹش ایمپائر گیمز میں استعمال کیا گیا۔

پول

وہاں فوری تجدید کاری ہو رہی ہے اور شمالی سڈنی کی مئیر جیلی گبسن کہتی ہیں کے تعمیر نو کے بعد یہ پول ‘مسحور کر دینے والا ہو گا۔ یہ تاریخی اور ہمعصر فن تعمیر کا مرکب ہو گا۔’

لیکن سڈنی کے تمام رہائشی اس سے خوش نہیں ہیں۔

39 سالہ کرس بوڈن کہتے ہیں کہ ‘مجھے اس پول کی خستہ حالی اور دلفریب پرانے پن سے محبت ہے۔ سڈنی کے معیار کے مطابق اس کی قدیم تاریخ ہے۔

‘جیسے ہی آپ اس پرانی عمارت میں واقع لکڑی سے بنے کمروں میں داخل ہوتے ہیں تو آپ اس کو محسوس کر سکتے ہیں۔ سڈنی کے بیشتر حصوں کی تعمیر نو ہو چکی ہے اور یہ بہتر ہوتا کے ایک ایسی جگہ رکھی جائے جس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ ہر عمارت کو نیا پن دینے کی ضرورت نہیں ہے۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9090 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp