گلگت بلتستان کے بہترین سیاحتی مقامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے، جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس علاقے کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے۔ یہاں کے دلکش و دلفریب منظر عمر بھر کے لئے سیاحوں کے ذہنوں میں انمٹ نقوش کے مانند نقش ہو جاتے ہیں۔

گلگت بلتستان کو ماضی میں شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا۔ 2009 مین پاکستان پیلیز پارٹی کی حکومت نے امپاور منٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر کے ذریعے یہاں کی قانون ساز اسمبلی کے آختیارات میں اضافہ کرنے کے ساتھ نیا نام گلگت بلتستان رکھ دیا۔ گلگت بلتستان کی آبادی بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہ علاقہ اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کی تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش بھی یہاں آن ملتے ہیں۔

دنیا کی دوسری بلند چوٹی (کے ٹو) اور نگا پربت بھی گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔ گلگت بلتستان کے کل دس اضلاع ہیں، جبکہ موجودہ صوبائی حکومت نے چار مزید اضلاع کی منظوری دے رکھی یے، جن میں گوپس یاسین، داریل، تانگیر اور روندو شامل ہیں۔ تاہم ابھی ان نئے اضلاع کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن نہیں ہوا ہے۔ سیاحتی مقامات کی اگر ہم بات کریں تو یہاں درجنوں ایسی جگہیں موجود ہیں جو اپنی خوبصورتی کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ سالانہ لاکھوں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح ان مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ ان مشہور مقامات میں فیری میڈوس، دیوسائی، راما، خنجراب، بابوسر ٹاپ، عطا آباد جھیل، شنگریلا، خلتی جھیل، پھنڈر، شندور، ہنزہ بلتت اور التت فورٹ، سکردو میں شگر فورٹ اور گانچھے فورٹ، خپلو میں ہزار سال قدیم مسجد چقچن اور نلتر وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام سیاحتی مقامات ایک سے بڑھ کرایک ہیں۔ موسم گرما کے شروع ہوتے ہی پاکستان کے مختلف شہروں سے اور دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں کم و بیش نو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اور ان تمام زبانیں بولنے والوں کے ثقافت ایک دوسرے سے کچھ مختلف ہیں۔ حکومت گلگت بلتستان کے مطابق گزشتہ سال دس لاکھ ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے ان علاقوں کا رخ کیا۔ اور اس سال سیاحوں کی تعداد بڑھ کر بیس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ گلگت بلتستان کے جس ضلع میں آپ جائیں آپ کو قدرت کے حسین نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔ آپ سکردو جائے یا ہنزہ، استور جائے یا دیامری یا آپ کا سفر وادی غذر کی طرف ہو آپ ان حسین نظاروں سے خوب لطف اندوز ہوں گے۔

آپ نہ صرف لطف اندوز ہوں گے بلکہ آپ اپنے آپ کو قدرت کے قریب محسوس کریں گے۔ وادی غذر بھی دیگر اضلاع کی طرح گلگت بلتستان کا ایک خوبصورت ضلع ہے، اس علاقے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں کے مکین انتہائی مہمان نواز ہیں۔ اور جرائم کی شرح سفر فیصد ہے۔ آپ گلگت شہر سے شمال کی طرف نکلیں گے آپ کا سفر آسمان کو چونے والے پہاڑوں کے دامن سے ہوتے ہوئے آگے بڑھے گا۔ کہی آپ اوپر چڑتے چڑتے پہاڑیوں کے درمیان تک جائیں، جہاں سے نیچے دریا دیکھ کر آپ کو خوف محسوس ہوگا، تو کہی آپ کی گاڑی نیچے اترتے ہوئے دریا کے کنارے پہنچ جائے گی اور دریا کے یخ پانی، جو قریبی گلیشئر پگل کر بہتا ہے، سے اٹھتی ٹھنڈی ہوا سے سکون پائیں گے۔

اس راستے پر پہاڑوں کے دامن میں واقع سر سبز ودایاں آپ کا استقبال کریں گے۔ آپ ہر ایک گھنٹے سفر کے بعد موسم میں تبدیلی محسوس کریں گے۔ اگر آپ گلگت شہر کی سڑکوں پر ایک قمیض کے ساتھ بھی گرمی محسوس کریں گے تو پھنڈر کی ٹھنڈی ہوائیں آپ کو اپنے بیگ سے گرم ملبوسات نکالنے پر مجبور کردیں گے۔ سڑک کنارے آپ کو لوگ نظر آئیں گے اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہوگی۔

خدانخواستہ کہیں آپ کی گاڑی خراب ہو، بے شک آپ کے ساتھ خواتین اور بچے ہوں آپ کو فکر کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں، آپ آس پاس کے گاؤں میں کسی سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ وہ اپنا اولین فرض سمجھ کر آپ کی مدد کریں گے۔ اگر آس پاس کوئی ہوٹل نہ ہو تو بھی کوئی پریشانی والی بات نہیں آپ کو لوگ اپنے گھروں میں ٹھہرائیں گے۔ اگر آپ کے ساتھ خیمہ اور دیگر ضروریات زندگی موجود ہیں تو آپ سڑک کنارے کہی بھی کسی کے باغچے پر اپنا خیمہلگاکر آرام کرسکتے ہیں۔

ان علاقوں میں آنے والے سیاحوں کے ساتھ لوگ اپنے ذاتی مہمان کے جیسا برتاؤ رکھتے ہیں۔ اس علاقے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں چوری چکاری نہیں ہے۔ آپ کے پیسے گم ہوں یا آپ کا موبائل فون کہیں رہ جائے وہ آپ تک پہنچا دیاجائے گا۔ جب آپ اگے اگے بڑھیں گے تو آپ کو پہاڑوں سے دودھ کی مانند آبشار گرتے نظر آئیں گے جو آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیں گے۔ جب آپ خلتی جھیل پہنچ جائیں گے تو وادی گمیس، خلتی اور درمیاں میں جھیل کا نظارہ کریں گے۔

آپ کا دل چاہے گا کہ یہیں بیٹھ کر ان دل کش نظاروں کو دیکھتا رہیں۔ جب آپ پھنڈر کی حسین وادیوں کی سیر کریں گے تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ آپ خواب میں کہیں پریوں کی وادی پرستان میں ہو۔ وادی غذر کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس کے ندی ناکوں اور دریائے غذر میں دنیا کی نایاب مچھلی ٹراوٹ وافر مقدار میں دستیاب ہے آپ کوباآسانی ہوٹلوں اور گیٹ ہاوسز میں ٹراوٹ مچھلی دستیاب ہوگی۔ اگر آپ مچھلی کے شکار کرنے کی مہارت رکھتے ہیں تو آپ پھنڈر میں ہندرپ یا کشش جھیل جاسکتے ہیں۔

غروب افتاب کے چند منٹوں بعد مچھر جھنڈ کی شکل میں جھیل کے اوپر جمع ہوتے ہیں اسی دوران ان مچھروں کی شکار کے لئے مچھلیاں جب اوپر چھلانگ لگاتی ہیں تو یہ نظارے دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یاد رہے ٹراوٹ وادی غذر کی خاص سوغات میں سے ایک ہے۔ پھنڈر سے آپ اگے بڑھیں گے آپ آہستہ آہستہ بلندی کی طرف بڑھیں گے اور سطح سمندر سے چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع شندور پنچ جائیں گے، جہاں دنیا کا سب سے اونچا پولو گرونڈ موجود ہے۔

اس پولو گرونڈ میں جولائی کے پہلے ہفتے شندور میلا سجتا ہے اس میلے کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے سیاح شندور پہنچ جاتے ہیں۔ شندور میلے میں گلگت بلتستان اور چترال کے پولو کے ٹیموں کا مقابلہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں امریکی سیاحوں نے پاکستان آنے والے دنیا بھر کے سیاحوں کو گلگت بلتستان جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں گلگت بلتستان کا شمار سیاحت کے لئے دنیا کی بہترین جگہوں میں ہوتا ہے۔ آپ بھی نفسا نفسی کے اس دور میں شہروں کے بے ہنگم ٹریفک کے دوھواں اوع شور سے نکل کر ان پرسکون اور خوبصورت وادیوں کا رخ کرے۔

اگر آپ شندور میلہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ایک جولائی سے دس جولائی تک کا اپنا پروگرام ترتیب دیں۔ آپ شاہراہ قراقرم سے گلگت اور پھر غذر سے ہوتے ہوئے شندور اور وہاں سے چترال آرام سے سفر کرسکتے ہیں۔ تو رخت سفر باندھیے اپنے پیاروں کے ساتھ زندگی کے خوبصورت لمحات کو ان خوبصورت وادیوں میں گزاریں اور یاد گار بنائیں۔ ان حسین نظاروں کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں قید کرکے ہمیشہ کے لئے اپنے ساتھ رکھیں۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •