مانسہرہ: شہنشاہ اشوک کی عظیم سلطنت کے ستون

مانسہرہ زمانہ قدیم سے اتنا اہم شہر رہا ہے کہ تقریباً پورے ہندوستان پر حکومت کرنے والا پہلا بادشاہ اشوک یہاں اپنی یادگار چھوڑ گیا ہے۔ اشوک کے جنوبی ہندوستان کو فتح نہ کرنے کی وجہ ہمیں تو اس کی تامل اور ملیالم زبان سیکھنے میں الجھن کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتی ہے، بہرحال سنا ہے کہ یہ علاقے بھی اس کے باج گزار تھے۔ یونانیوں کو ہندوستان سے مار بھگانے والا چندر گپت موریہ جین مذہب کا پیروکار تھا۔ اس کا بیٹا بندوسار کسی اجیویکا نامی مذہب کا پیروکار تھا جس کا فلسفہ حیات لڑائی جھگڑا کرنے والے حکمرانوں کو پسند تھا، اور اشوک بدھ مت کا ماننے والا تھا۔ لیکن بدھ مت اختیار کر کے اہنسا اختیار کرنے سے پہلے اشوک اپنے تمام بھائیوں کو مارنا اور تمام مقابل ریاستوں کو فتح کرنا نہیں بھولا تھا۔

Read more

شمالی علاقوں میں پولو کا کھیل

پولو، بہادر گھڑ سواروں، مشاق نشانہ بازوں ( پولو کی چھڑی سے گیند کو ہٹ کرنا ) اور خطرات میں گھر کر یکسوئی قائم رکھنے والوں کا کھیل ہے۔ تئیس گھنٹے کی تیاری ایک گھنٹہ دورانیہ کا کھیل۔ گھوڑے میں بہت صبر، چابک دستی اور فرمانبرداری ہونی چاہیے ورنہ گھڑ سوار کی عزت کا جنازہ بھرے میدان میں نکل جاتا ہے۔ اطاعت پیدا کرنے کے لئے پورا گھر اس گھوڑے کے لاڈ اٹھاتا ہے۔ چارہ کھانے سے لے کر کنگھی پٹی تک کہ جاتی ہے اور کھلاڑی کے سوا سب گھر والے گھوڑے کی خاطر مدارات کرتے ہیں۔

کھاڑی بھی خاطر کرتا ہے لیکن گھوڑے کو یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ جب مالک سوار ہو گا تو یقیناً کوئی معرکہ مارنے جائے گا۔ عموماً میچ سے پہلے جب گھوڑا مالک کو دیکھتا ہے تو بھاگنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور گھر والے اسے پکڑ کر لاتے ہیں تا کہ مالک سواری کر سکے۔ فرمانبرداری سکھانے کے لئے مالک لگام پکڑ کر صبح صبح گھوڑے کو دور تک پیدل چلاتا ہے اور اشارے سے لمبے سانس دلواتا ہے۔ یوں گھوڑا فاضل مادوں سے بھی پاک ہو جاتا ہے اور مالک کے اشاروں کو بھی سمجھتا ہے۔

Read more

پاکستان کی تین لیلائیں اپنے مجنوں کی منتظر ہیں

عربی زبان میں لفظ لیلیٰ کے معنی ’رات‘ کے ہیں۔ تاہم مشہور عالم لیلیٰ مجنوں کی عشقیہ داستان کے سبب یہ لفظ محبوبہ کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ تاہم یہاں رات یا عشق و محبت والی لیلیٰ کا ذکر کرنا مقصود نہیں بلکہ لیلیٰ کے نام سے دنیا میں موجود کم از کم ان چار پہاڑی چوٹیوں کا احوال بیان کرنا ہے جن میں سے تین پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ ان چار لیلاؤں میں سب

Read more

گلگت بلتستان کے بہترین سیاحتی مقامات

گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے، جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس علاقے کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے۔ یہاں کے دلکش و دلفریب منظر عمر بھر کے لئے سیاحوں کے ذہنوں میں انمٹ نقوش کے مانند نقش ہو جاتے ہیں۔گلگت بلتستان کو ماضی میں شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا۔ 2009 مین پاکستان پیلیز پارٹی کی حکومت نے امپاور منٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر کے ذریعے یہاں کی قانون ساز اسمبلی کے آختیارات میں اضافہ کرنے کے ساتھ نیا نام گلگت بلتستان رکھ دیا۔ گلگت بلتستان کی آبادی بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہ علاقہ اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کی تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش بھی یہاں آن ملتے ہیں۔

Read more

مہمان، ہنزہ پولیس اور پنجابی افسر

ہوا یوں کہ وقت کا دھارا اب کی باری ہمیں بہا کر ہنزہ اور خنجراب لے گیا۔ راقم کو دیس دیس گھومنے کا موقع ملا ہے۔ گوروں کے دیس دیکھے، کالوں کے دیس دیکھے، اور عربوں کے دیس دیکھے۔ نہیں دیکھا تو بس شمالی پاکستان، کشمیر کا نیلم و شاردا، اور تھر و چولستان نہیں دیکھا کہ بس وہیں جانے کی خواہش ہے۔ ان ملکوں میں سے بہت سے نہایت تہذیب یافتہ گنے جاتے ہیں، کچھ سیاحت کے لیے مشہور

Read more

آؤ وادئ یاسین کی سیر کو چلیں

مشہور شاعر ساحر لدھیانوی کو کالج کے دنوں میں عشق ہوا اور اُنہیں شاعری کرنے کی پاداش میں کالج سے نکالا گیا۔ بہت عرصے بعد اُنہوں نے اپنے کالج کی شان میں ایک نظم لکھی جس کا عنوان ہے ”نذرِ کالج“۔ ہم نے بھی بچپن میں اپنے علاقے وادئی یاسین سے محبت کی اور سکول میں پڑھائی میں دل لگایا اور نسبتاً بہتر کارگردگی دکھائی تو ہمیں بھی گاؤں سے شہر کی طرف بھیجا گیا اور پھر کالج اور یونیورسٹی

Read more