جمیل جالبی، حاجی بغلول اور پاکستانی سیاست
جب آپ بڑے یا بالغ رویے اپناتے ہیں تو آپ سوچنے پر مائل ہوتے ہیں اور احمقانہ کرداروں سے متاثر نہیں ہوتے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ آپ وقتی طور پر لطف اٹھاتے ہیں مگر جلد ہی اس رو سے باہر نکل آتے ہیں۔ اب آپ ایک جیسے کرداروں کو مختلف نظروں سے دیکھنے اور سمجھنے لگتے ہیں۔ آپ کا مشاہدہ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ اسی طرح کے ابواب اور کردار پہلے بھی پڑھ یا دیکھ چکے ہیں۔ آپ کڑی سے کڑی ملانے لگتے ہیں اور جگ ساپزل کے ٹکڑے جوڑنے لگتے ہیں۔ یہی بات اسکرپٹ رائٹر کے لیے مشکل پیدا کرتی ہے کیوں کہ اس کی ترجیح یہ ہے کہ آپ نسیان یا بھولنے کے مرض میں مبتلا رہیں اور ہر نئی تفریح سے لطف اٹھاتے رہیں۔
آزاد، بغلول، خوجی، نکولس نکل بی، نصوح، پِک وِک، سانچو پینرا، امراؤ جان اور ظاہر دار بیگ سب کے اپنے اپنے معرکے ہیں۔ جن میں کچھ ابواب دوسروں سے زیادہ سنجیدہ نوعیت کے ہیں مگر انسانی فطرت ہمیں سب میں نظر آتی ہے اور یہی ادب یا لٹریچر کی کام یابی ہے۔
ان کرداروں میں پورے سماج کی عکاسی ہوتی ہے جس میں یہ کردار ایسے نمایاں اور غیر نمایاں پہلوؤں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ کرداروں پر حالات وواقعات کا اثر ہوتا ہے اورخود کردار بھی حالات پر اثر ڈالتے ہیں۔ مثلاً حاجی بغلول سنجیدگی سے کچھ نہ کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے مگر وہ ایک یک جہتی دماغ کا احمق ہے۔ جس کی انا بہت بلند ہے اور جو احساس برتری کا شکار ہے اور اسی لیے وہ سب کے مذاق کا نشانہ بنتا ہے۔
اس پر طرّہ یہ کہ بغلول کو خود اپنی صلاحیتوں اور علم کے بارے میں خاصی غلط فہمی ہے۔ وہ سب جاننے کا بہانہ کرتا ہے جس کے خوفناک نتائج نکلتے ہیں۔ وہ خود اپنی حماقتوں کا شکار ہے مگراسے اس کا اندازہ بھی نہیں ہے مگر سب اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔
پھر بغلول خود کو سنجیدہ اور فہمیدہ انسان کے طور پر پیش کرتا ہے، اسے اپنے دوستوں پرفخر ہے اور ساتھ ہی خوشامد پسند بھی ہے۔ جب کچھ لوگ اس کی خداداد صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہیں تو وہ پھولے نہیں سماتا اور پھر کسی معقول مشورے کو نہیں سنتا تاوقتیکہ حالات اسے مجبور نہ کردیں۔
بغلول ہر روز اپنے لیے ایک نئی مشکل پیدا کرلیتا ہے جس سے اس کے ساتھی بھی متاثر ہوتے ہیں۔ جب وہ نیلام میں ایک گھوڑا خریدنے جاتا ہے تو اس کے ساتھ دھوکا ہوجاتا ہے۔ جب اسے کسی سے محبت ہوجاتی ہے تو اسے روحانی چکر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اسے ایک کے بعد ایک مہم سر کرنے کا جنون ہے اور ایسے منصوبے بناتا ہے جن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔
بغلول کو تقریریں کرنے کا شوق ہے جن میں وہ ایک نکتے سے دوسرے نکتے تک ڈولتا رہتا ہے۔ بے چارہ بغلول چاہتا ہے کہ اسے سب سے ذہین و فطین شخص مان لیا جائے اور وہ اپنی خدمات بھی پیش کرتا ہے جو سب ناکام ہوجاتی ہیں۔ منشی سجاد حسین کا بغلول سب کچھ بہت جلدی کرنا چاہتا ہے۔ اس میں صبر کی کمی ہے اور جب اس کی خواہشات پوری نہیں ہوتیں تو وہ بچوں کی طرح ہنگامہ کرتا ہے۔ اس کے اعمال پر جذبات غالب ہیں جس سے خود اس کے ماحول کے ساتھ تضادات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی ذہنی حالت اور تخیّل اس کی پسند وناپسند سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک الم ناک طربیہ جنم لیتا ہے۔
سجاد حسین نے بغلول کو مزاح کے لیے تخلیق کیا جو بڑا درد ناک ہے۔ یہ کردار سب کی توجہ کا مرکز تو بن جاتا ہے مگر بالآخر اکیلا رہ جاتا ہے اور اس کی دنیا تاریک ہوجاتی ہے۔ حاجی بغلول اردو ادب کا ایک منفرد کردار ہے جو قارئین کی ہم دردی تو حاصل کرلیتا ہے مگر اس کی شخصیت کا دوغلا پن ہی اس کا سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے۔
مصنف کو اس بات کا احساس ہے اور وہ الم ناک نتائج کو دبانے کی کوشش کرتا ہے مگر اب کردار خود اپنی زندگی حاصل کر چکا ہے اور تخلیق کار کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ حاجی بغلول اب اپنے دیگر ساتھی کرداروں سے زیادہ متاثر ہوتاہے۔ مصنف کو احساس جرم بھی ہوتا ہے مگر وہ کچھ کر نہیں سکتا سوائے اس کے کہ کردار کی منفی ساکھ سے خود کو دور رکھے۔ حالات و واقعات جتنے الم ناک ہوتے جاتے ہیں مصنف اتنا ہی طنز ومزاح ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
آخری باب میں حاجی بغلول اپنے دوستوں اور دشمنوں کو الزام دھرتے ہوئے اعتراف کرتا ہے کہ اب وہ دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ وہ اپنا بوریا بستر لپیٹتا ہے اور کسی دور مقام پر نکل جاتا ہے۔ یہاں بھی مصنف مزاح ڈالنے کی کوشش کرتا ہے مگر الم ناک نتیجے چھپا نہیں سکتا۔ بغلول کے کچھ مداح بالغ ہوجاتے ہیں، کچھ ایسا کرنے سے انکار کردیتے ہیں اور دیگر تماشائی توقع کرتے ہیں کہ اب اسکرپٹ رائٹر کوئی اور نیا مزاحیہ کردار یا ایک نیا باب ان کے سامنے پیش کرے گا۔

