جمیل جالبی، حاجی بغلول اور پاکستانی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹھارہ اپریل 2019 ءکو جمیل جالبی صاحب کی وفات سے پاکستان اردو ادب کے ایک بڑے دانش ور سے محروم ہوگیا۔ ان کی کتابوں کی تعداد درجنوں میں ہے اور سب کی سب اعلیٰ معیار کی حامل ہیں۔

گوکہ کچھ لوگ اس بات کو اب بھی ناپسند کرتے ہیں کہ وہ 1983 میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر بنے۔ کیوں کہ اس وقت جنرل ضیاءالحق کی آمریت کا بدترین دور تھا۔ اس کے باوجود جمیل جالبی صاحب کی اردو ادب میں قدو قامت پر کوئی حرف نہ آیا۔ وہ افسر شاہی کے ایک پرانے عہدے دار تھے اور جنرل ضیاءالحق نے انہیں انکم ٹیکس محکمے سے اٹھا کر جامعہ کراچی کا سربراہ بنا دیا تھا۔

مگر یہاں ہم ان کے جنرل ضیا الحق سے تعلق پر بحث نہیں کریں گے نہ ہی یہ دیکھیں گے کہ جب تحریک بحالی جمہوریت اپنے عروج پر تھی تو اس وقت کس طرح جامعات میں تمام لبرل اور ترقی پسند طلبا سرگرمیوں پر پابندی تھی اور نسلی اور فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دیا جارہا تھا۔

جالبی صاحب بظاہرایک غیر سیاسی آدمی تھے گوکہ ایک خون آشام جمہوری جدوجہد کے دوران غیر سیاسی یا غیر جانبدار رہنا بذات خود ایک سیاسی عمل بن جاتا ہے۔ 1983 ءسے 1987 ءتک جامعہ کراچی کی سربراہی کرنے کے باوجود اس میں کوئی شک نہیں کہ جالبی صاحب نے اردو قارئین کی کم از کم دو نسلوں کو متاثر کیا ہے۔

یہاں ان کی تمام کتابوں پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ اس کے لیے طویل مضمون یا کتاب لکھنی پڑے گی۔ یہاں ہم ان کے ایک نسبتاً غیر معروف مقدمے پر بات کریں گے۔

اس مقدمے کا پاکستانی سیاست سے دل چسپ تعلق بنتا ہے۔ ”حاجی بغلول“ اردوکے چند ابتدائی ناولوں میں شامل ہے۔ اسے منشی سجاد حسین نے انیسویں صدی کے اواخر میں تحریر کیا تھا۔ یہ ناول تقریباً بھلایا جاچکا تھا جب جمیل جالبی نے اسے دوبارہ دریافت کیا اور اس پر ایک مقدمہ تحریر کیا۔ اس کے ساتھ ہی ناول میں موجود مشکل یا متروک الفاظ کی ایک فرہنگ بھی بنا ڈالی۔

اس مضمون میں پہلے ہم جالبی صاحب کے عالمانہ مقدمے پر بات کریں گے اور پھر اس کے پاکستان میں حالیہ سیاست سے تعلق پر گفت گو ہوگی۔

”حاجی بغلول“ کے مقدمے میں جالبی صاحب ہمیں بتاتے ہیں کہ منشی سجاد حسین ( 1856۔ 1915 ) اردو کے بڑے مزاح نگار تھے۔ جنہوں نے 1877 میں ”اودھ پنچ“ جاری کیا۔ اس وقت منشی صاحب صرف اکیس برس کے تھے۔ ”حاجی بغلول“ کو قسطوں میں شائع کیا گیا اور یہ اردو کے مقبول ترین ناولوں میں شمار ہونے لگا۔ ”اودھ پنچ“ نے تقریباً وہی انداز اپنایا تھا جو برطانیہ میں 1841 میں جاری ہونے والے ”پنچ“ کا تھا جسے دو انگریز صحافیوں نے شروع کیا تھا۔

جمیل جالبی صاحب نے ”حاجی بغلول“ کے مختلف اقساط کو جمع کیا اور ان کی اشاعتی غلطیوں کی تصحیح کی۔ پھر اس پر 1959 ءمیں ایک مقدمہ تحریر کیا۔ راقم کے پاس اس کتاب کا 1961ء والا ایڈیشن موجود ہے۔ جالبی صاحب کا  تحریر کردہ مقدمہ حاجی بغلول کا بمشکل تیس صفحات پر مشتمل ہے مگرا س میں اس دور کے اردو ادب کے بارے میں بیش بہا معلومات موجود ہیں۔ جالبی صاحب ہمیں بتاتے ہیں کہ اردو ناول نگاری زیادہ پرانی نہیں اور یہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد سامنے آئی۔

اودھ جسے اب یوپی یا اتر پردیش کہا جاتا ہے اور جہاں کا دارالحکومت لکھنو ہے وہ انیسویں صدی کے وسط میں اپنی شان و شوکت کھو چکا تھا۔ واجد علی شاہ کو گرفتار کرکے کلکتہ بھیجا جاچکا تھا اور انگریزوں نے وہاں اپنے قدم جما لیے تھے۔ اب نئے ادب و ثقافت کی آنکھیں کھل رہی تھیں۔ ایک طرف تو قدیم رسوم و رواج اور اقدار تھیں جو پرانی تہذیب سے تعلق رکھتی تھیں اور جس کی توانائی ختم ہو رہی تھی۔ وہ زوال پذیر تہذیب نئے ادب و ثقافت کے سیلاب کو روکنے سے قاصر تھی۔

دوسری جانب ایک نیا طوفان جو امڈا چلا آرہا تھا اور جس کے جلو میں نئے علم و شعور سامنے آرہے تھے اور نئے افق وا ہو رہے تھے۔ اس وقت تک اردو ادب میں زیادہ تر شاعری اور داستانوں کا چلن تھا جو پرانی روایات کی پروردہ تھیں حالاں کہ ہندوستانی معاشرہ بدل چکا تھا۔ پرانی تہذیب کے دل دادہ لوگ اب بھی داستان گوئی میں وقت ضائع کررہے تھے جو انہیں اپنے پرکھوں سے ملیں تھیں۔ جالبی صاحب کے مطابق انگریزی تہذیب نے ہندوستان میں ناول کو متعارف کرایا تھا اور ڈپٹی نذیر احمد اولین ناول نگاروں میں سے تھے۔

1877 میں لکھنو سے ”اودھ پنچ“ کے اجرا کے بعد پنڈٹ رتن ناتھ سرشار نے 1878 میں اپنا ”اودھ اخبار“ جاری کیا جس نے ”فسانہ آزاد“ کو قسطوں میں شائع کرنا شروع کیا۔ جالبی صاحب اپنے مقدمے میں مختصر بیان کرتے ہیں کہ کس طرح چارلس ڈکنز اور سر والٹر اسکاٹ کے ناولوں نے اردوادب کو متاثر کیا۔ جب کہ خود ڈکنز اور اسکاٹ DON QUIXOTE (دان کیخوتے یا دان کوئک زوٹ) سے متاثر تھے۔

اردو میں ”فسانہ عجائب“ اور ”حاجی بغلول“ نے فوراً لوگوں کی توجہ حاصل کرلی تھی۔ ”اودھ پنچ“ جلد ایک نمایاں مزاحیہ اخبار بن گیا اور منشی سجاد حسین ایک معروف مزاح نگار کے طور پر مان لیے گئے۔ جمیل جالبی صاحب چکبست کا حوالہ دیتے ہیں۔ خود برج نرائن چکبست صرف چوالیس سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے۔

چکبست کا کہنا ہے کہ ”اودھ پنچ“ پہلا اردو اخبار تھا جو کاروباری طور پر نہیں چلایا گیا۔ بل کہ اس نے اعلیٰ معیار کی ادارت کے مغربی اصولوں کی پاس داری کی اور اس طرح اپنے لیے ایک منفرد جگہ بنائی۔

1901 ء میں صرف پینتالیس سال کی عمر میں خود منشی سجاد حسین پر فالج کا حملہ ہوا اور پھر وہ 1915 میں اپنی وفات تک اس سے جان نہ چھڑا سکے۔ ”اودھ پنچ“ بھی 1913 ءمیں بند کر دیا گیا۔

جمیل جالبی صاحب ہمیں بتاتے ہیں کہ کس طرح اپنی زندگی کے آخری برسوں میں منشی سجاد حسین کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر بھی اپنی موت تک وہ کم ازکم چھ کامیاب ناول تخلیق کرچکے تھے، جن میں ”پیاری دنیا“، ”میٹھی چھری“، احمق الذی ”، حیاتِ شیخ چلی“، طرح دار لونڈی ”اور“ حاجی بغلول ”شامل ہیں۔

جالبی صاحب کے خیال میں طنزو مزاح کا جو انداز ہمیں منشی سجاد حسین کی تحریوں میں ملتا ہے وہ دراصل سروانتیس (CERVANTES) کے ناول (DONQUIXOTE) جس کا ہسپانوی زبان میں تلفظ دان کیخوتے اور انگریزی میں ڈون کوئک زوٹ ہے سے متاثر ہے اور ساتھ ہی ہمیں ڈکنز کے ناول پک وک پیپرز (PICK WICK PAPERS) کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ اس دور میں ”ادوھ پنچ“ اور ”اودھ اخبار“ دونوں قارئین میں جگہ بنانے کے لیے ایک دوسرے سے نبرد آزما تھے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •