کامیاب تخلیق کار کی موت کا منظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”مار ڈالو سالے کو، حرام زادے کو ابھی پکڑو اور لے چلو“ اور اس کے ساتھ ہی کسی نے مجھے گردن سے اس طرح پکڑ کر اٹھایا کہ میں اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ بڑی بڑی انگلیاں اوربھرابھرا ہاتھ جیسے گلا گھونٹنے کے لئے بالکل تیار۔ آنکھوں سے صرف سیاہ رنگ ہی نظر آیا۔ اس کی انگلیاں اس طرح سے میری گردن میں پیوست ہورہی تھیں کہ لگ رہا تھا جیسے گردن کے پار ہوجائیں گی۔ مجھے لگا جیسے میرا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ وہ مجھے گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا تھا۔

 مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ جگہ دیکھی ہوئی ہے، کسی پرانی عمارت یا قلعہ کی بڑی راہ داری پھر مجھے احساس ہوا کہ ساتھ میں اور بھی لوگ ہیں۔ جو زور زور سے نعرے مار رہے تھے۔ مار ڈالو سالے کو، حرام زادے کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے خوف کے مارے آنکھیں بند کرلیں مگر ساتھ ہی یہ احساس بھی ہوا کہ یہ آوازیں جانی پہچانی ہیں، سنی ہوئی ہیں۔ بہت قریب سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے یہ میرے اپنے لوگ ہوں، میرے دیکھے بھالے ہوئے۔ میرے جانے بوجھے ہوئے۔

 مجھے اوربھی آوازیں آنی شروع ہوگئیں۔ کسی جگہ پہ بہت سے لوگ بیٹھے تھے جن کی سرگوشیوں اور غصے میں کہی ہو آوازوں کا ریلا تھا جو مسلسل کانوں سے ٹکرارہا تھا۔ آوازیں نزدیک سے نزدیک ہوتی جارہی تھیں اور گردن پہ انگلیوں کا زور بھی بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ اب میرا دم نکل جائے گا اور بس اگلے ہی لمحے بھاری ہاتھوں نے مجھے گردن سے ہی اس زور سے دھکا دیا کہ میرا سر زمین پر ٹکرایا اور شاید میں تھوڑی سی دیر کے لئے بے ہوش بھی ہوگیا تھا۔

زمین پر ہی پڑے پڑے میں نے آنکھیں کھولیں تو بے شمار لوگ ایک نیم دائرے کی شکل میں بیٹھے ہوئے نظر آئے، مرد عورتیں بچے بوڑھے جوان ہر قسم کے لباسوں میں۔ ہر دور کے کپڑے اور ہر دور کا اسلحہ سجائے ہوئے۔ مجھے ایسا لگا جیسے کسی ڈرامے میں پہنچ گیا ہوں، کسی فلم کی شوٹنگ ہونے والی ہے۔ ہر ایک کے چہرے پر ایک تاثر۔ کوئی غصے میں تو کسی کے چہرے سے خوشی عیاں، کوئی ہمدردی سے دیکھ رہا تھا تو کسی کے چہرے پربے یقینی۔

 مجھے ہر ایک چہرہ شناسا سا لگا۔ دیکھا ہوا اور بہت دیکھا ہوا۔ میں ان سب کے بارے میں سوچتا ہوا اپنی گردن سہلارہا تھا کہ ایک بندوق کی نال میری پیشانی پر آلگی اور کسی کی بھاری آواز میرے کان میں پہنچی ”ابھی بھیجا اُڑادیتے ہیں سالے کا۔ “ میری ریڑھ کی ہڈی میں بجلی کوندی اور ساتھ ہی جسم پسینے میں شرابور ہوگیا۔ گردن سے لے کر جسم کے سارے بال خوف سے کھڑے ہوگئے۔ نال کی دوسری طرف اجرک میں لپٹے ہوئے چہرے کی دوآنکھیں پرسفاک تھیں، غصے سے بھری ہوئی، نفرت میں ڈوبی ہوئی۔

 میں نے آنکھیں بند کرکے سانس روک لی کہ کسی کی جانی پہچانی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی، گولی مت چلانا، اسے صفائی کا موقع ملنا چاہیے، یہ معمولی آدمی نہیں ہے، اس ملک کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے۔ اس کے ناولوں کا دنیا کی ہر قابلِ ذکر زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ ہر ملک، ہر شہر میں لوگ اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ یہ ہماری زبان کا بہترین افسانہ نگار ہے۔ اس کو بے شمار ادبی ایوارڈ ملے ہیں۔ اس کا نام نوبل پرائز کے لئے بھی نامزد ہوچکا ہے۔

اس نے اس ملک کی زبان کا بہترین ادب تخلیق کیا ہے۔ اسے اس طرح سے مارنا نا انصافی ہوگی، جج صاحب۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ اسے صفائی کا موقع دیا جائے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں ساتھ ہی مجھے احساس ہوا کہ بندوق کی لبلبی پر رکھی ہوئی انگلی کا دباؤ کم ہوگیا ہے۔ شاید زندگی کی بھیک مل گئی۔ میں نے آہستہ آہستہ کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہوئے اس آواز کو پہچان لیا۔ یہ اس مشہور صحافی کی آواز تھی جو ہمیشہ اپنے کالم میں انصاف اور قانون کی پاسداری کرتا تھا مگر یہ صحافی یہاں کیسے آگیا؟

 یہ تو میرے ایک ناول ”دریا کا سفر“ کا کردار تھا۔ ساتھ ہی میں نے بندوق والے کو بھی پہچان لیا جو کراچی میں ہی رہتا تھا اورایم اے پاس کرنے کے بعد ڈاکو بن گیا تھا۔ یہ بھی میرے ایک افسانے کا کردار تھا۔ یہ افسانہ میں نے کراچی کے بارے میں لکھا تھا جہاں لوگ لکھ پڑھ کر بھی روزگار لینے میں ناکام ہوگئے تھے اورپڑھے لکھے لوگ مختلف قسم کے جرائم میں ملوث ہوگئے تھے۔ اس کردار کا نام ریحان تھا۔ ریحان کو جب نوکری نہیں ملی تو اس نے پڑھے لکھے لڑکوں کا الگ گروپ بنا کر ڈکیتی شروع کی اور ساتھ ہی اپنے گروپ کی حفاظت کے لئے سیاستدانوں کو بلیک میل بھی کرنا شروع کردیا۔

 میں دوسرے لوگوں کو پہچاننے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ مجمعے کے سامنے ڈائس پر بیٹھے ہوئے ججوں کی قطار سی نظر آئی جہاں کسی نے بڑی بلندآواز میں کہا کہ ملزم کو اس وقت تک نہ مارا جائے جب تک وہ مجرم نہ گردانا جائے۔ یہ آواز بھی میری پہچانی ہوئی تھی۔ میرے ایک ناول ”انصاف کا جہنم“ کی کہانی ایک جج کے گرد گھومتی ہے۔ جج احمد ضمیر جو ایماندار ہوتا ہے، مگر انصاف کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ جو کبھی سوچتا بھی نہیں ہے کہ جج بنے گا مگر یکایک ساستدانوں اور وکیلوں کی چپقلش میں احمد ضمیر کو چیف جسٹس بننا پڑتا ہے جسے حالات چیف جسٹس بنا دیتے ہیں مگر وہ خودکشی کر لیتا ہے۔

 اس نے کہا کہ مجھے اس وقت تک کچھ نہ کہا جائے جب تک مجھ پر الزام ثابت نہیں ہوجاتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے اور یہ کس قسم کا اجلاس ہے مگر نہ سمجھتے ہوئے بھی میں ہمت کرکے اپنے قدموں پر کھڑا ہوگیا اور اس جج کو مخاطب کرکے میں نے کہا کہ جناب عالی مجھے جس طرح سے زدوکوب کیا گیا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اس کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ دوسرے یہ بھی میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر مجھے کس جرم اور الزام کے تحت اس عدالت میں لایا گیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •