نظام شمسی میں نویں سیارے کی تلاش کے دوران نئی دریافتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"planet2\"امریکہ کے ماہرین فلکیات نے ہمارے نظام شمسی کے نویں سیارے کی تلاش کے دوران نظام شمسی کی بیرونی حدود میں کچھ ایسے اجسام کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں جن کے بارے میں ہمیں اس سے پہلے پتہ نہیں تھا۔

ان اجسام میں سورج کے مدار میں ایک برفیلا جسم  بھی ہے جو سورج سے بہت دور تک چلے جانے کی وجہ سے خیال کیا جاتا ہے کہ دوسرے ستاروں کی کشش ثقل سے متاثر ہوتی ہے۔

یہ نئی دریافتیں نظام شمسی میں ایک ممکنہ نویں سیارے کی تلاش کی کوششوں کے دوران ہوئی ہیں جس کی موجودگی کے بارے میں بالواسطہ قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔

ان نئی دریافتوں کو جلد ہی دی ایسٹرونومیکل جرنل میں شائع کی جائیں گی۔

\"planet\"اس کی تحقیق میں شامل سکاٹ شیپرڈ اور چیڈ ترجولو نے اپنی دریافت کی تمام تفصیلات مائنر پلینیٹ نامی ادارے کو سونپ دی ہیں جو چھوٹے ستاروں اور دمدار ستاروں سمیت ایسی چیزوں کی تفصیلات اپنے پاس رکھتا ہے۔

نئی دریافت شدہ چیزوں میں سے ایک، جو ابھی 2014 ایف ای 72 کے نام سے جانی جاتی ہے، اورٹ کلاؤڈ میں موجود ہے اور نیپچیون سے بھی کافی فاصلے پر ایک مدار کے ساتھ پائی گئی۔

نظام شمسی میں پائے جانے والے دیگر اجسام کے تجزیے کی بنیاد پر ماہرین فلکیات نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر یہ موجود ہے تو پھر نواں سیارہ کرہ ارض سے بھی بہت بڑا ہوگا اور یہ زمین اور سورج کے درمیان فاصلے سے بھی تقریباً 200 گنا زیادہ فاصلے پر ہوگا۔

نئی تحقیق سے نويں سیارے کے مقام کا پتہ کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *