جامعات کا نظام کیسے درست ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا بنیادی مسئلہ تعلیم کا بگاڑ ہے۔ پرائمری تعلیم سے لے کر ہائر ایجوکیشن تک ہمیں معاملات میں ایسی بنیادی نوعیت کی خرابیاں غالب نظر آتی ہیں جو ہماری عمومی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔ پہلا بنیادی مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ تعلیمی ترجیحات کا شور تو بہت سننے کو ملتا ہے، مگر عملی طو رپر ہماری ترجیحات اپنے کیے گئے دعووں کے برعکس ہوتی ہے۔ ریاستی عدم توجہی اور انتظامی و علمی و فکری مسائل کی بنا پر ہماری جامعات تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے سے بہت پیچھے کھڑی ہیں۔

ان جامعات میں ہونے والے تحقیقی مقالہ جات ہمیشہ اہل علم کے حلقوں میں تنقید کی ذد میں رہتے ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر تحقیقی مقالہ جات یا تو پہلے سے کی گئی تحقیق کا چربہ ہوتے ہیں ان کی علمی فکری صلاحیت میں سطحیت پائی جاتی ہے۔ دنیا بھر عالمی اور علاقائی سطح پر موجود جامعات کی سطح پر ہونے والی درجہ بندی میں بھی ہم بہت پیچھے ہیں جو ہماری صورتحال کی سنگینی کو زیادہ شدت سے اجاگر کرتی ہے۔

جامعات کی سطح پر تجزیہ کیا جائے تو ہمیں چار بنیادی نوعیت کے مسائل غالب نظر آتے ہیں۔ اول ہماری جامعات ایک متبادل علم و فکرکو پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں اور ملکی سطح پر جو قومی نوعیت کے حساس معاملات ہیں اس کے حل میں ان کا کوئی بڑا کردار نظر نہیں آتا۔ دوئم ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ جامعات اور ریاستی و حکومتی سمیت مختلف ٹھنک ٹینک اداروں کے درمیان کوئی موثر رابطہ سازی نہیں اور جامعات اگر اپنی سطح پر کچھ اچھا بھی کررہی ہیں تو باقی فریقین اس علم و فکر دانش سے آگاہ نہیں اور ایک بڑا خلا پایا جاتا ہے۔

سوئم جامعات کی سطح پر سیاسی اور حکومتی سطح پر ہونے والی مداخلت، وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کے درمیان بداعتمادی، صوبائی ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان موجود مسائل اور صوبائی ہائر ایجوکیشن او رجامعات کے درمیان عدم اعتماد نے جامعات کو انتظامی اور علمی سطح پر الجھا کر رکھ دیا ہے۔ چہارم جامعات کی سطح پر سوچ اور اظہا رکی فکری آزادی اور اساتذہ و طلبہ و طالبات کو تحقیق سمیت دیگر معاملات میں آزادانہ سازگار ماحول کی کمی، پنجم جامعات کی سطح پر عدم برداشت، سماجی اہم اہنگی، تنوع، انتہا پسندی جیسے مسائل، ششم طلبہ و طالبات کے درمیان جامعات کی سطح پرغیر نصابی سرگرمیوں کا فقدان اور طلبہ و طالبات کی سوسائٹیوں کے غیر فعالیت سمیت اساتذہ اور طلبہ کے درمیان خلیج جیسے مسائل سرفہرست نظر آتے ہیں۔

اس وقت اگر ہم دیکھیں تو پنجاب سمیت کئی صوبوں میں جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرریاں مکمل نہیں اور کئی جامعات کئی برسوں سے ایڈہاک ازم کی بنیادوں پر چلائی جارہی ہے۔ اس وقت پاکستان انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے اہم معاملات میں الجھا ہوا ہے اور ایک عمومی تصور عالمی اور ملکی سطح پر ہمارا منفی بھی ہے۔ اس منفی تاثر کو دور کرنے کے لیے جامعات ایک بنیادی کردار ادا کرکے ایک نئے متبادل بیانیہ کی جنگ میں بڑا کردار ادا کرسکتی ہے، مگر خود جامعات کا ماحول گٹھن زدہ زیادہ نظر آتا ہے۔

اصل مسئلہ جامعات کی سطح پر ایک بڑے سیاسی، سماجی اور علمی و فکری فکر یعنی visionاور گورننس کا ہے۔ اگر یہ دو مسائل پر جامعات کی سطح پر کوئی ٹھوس منصوبہ بندی ہو توکچھ مسائل بہتر طور پر حل ہوسکتے ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ جامعات کا کردار محض ڈگریاں بانٹنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ نوجوانوں میں تحقیق کی جستجو، فکری آزادی، قیادت کی صلاحیت، تنقید ی امور پر عبور، تجزیاتی صلاحیت اور نئی سوچ اور فکر سے تعلق ہونا چاہیے۔ ہمیں نوجوانوں میں صلاحیتوں کو اس انداز سے اجاگر کرنا ہے کہ وہ معاشرے کے مسائل میں کلیدی کردار ادا کرسکیں۔ ہمیں ایک اچھے شہری بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے جس میں اس کی سیاسی، سماجی اور اخلاقی تربیت کا عمل پیش پیش ہو۔

جامعات کی سطح پر سٹوڈنٹس سوسائٹیاں موجود ہیں، لیکن ان کو غیر فعال کرکے بچوں اور بچیوں کو مشین بنادیا گیا ہے او ربھول گئے ہیں کہ اس طرز کی غیر نصابی سرگرمیاں کتنی اہم ہوتی ہیں او رکیوں ضروری ہوتی ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہائر ایجوکیشن کے حقیقی مقاصد کیا ہوتے ہیں اور کیوں ہم ا س اہم شعبہ میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ اسی طری جامعات میں پڑھایا جانے والا نصاب ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے مگر ہم وہی پرانی اور روایتی فکر کے ساتھ بچوں کو آج کی دنیا سے لاتعلق کرتے جارہے ہیں اور جو نئی سوچ، فکر او رتبدیلیاں دنیا میں علم کے میدان میں سامنے آرہی ہیں ہم بطور استاد خود بھی لاعلم ہیں اور بچوں کو بھی لاعلم رکھتے ہیں۔

ہماری جامعات کے بارے میں میڈیا میں موجود تصو ر بہت منفی ہے اور ہر منفی سرگرمی کو جو جامعات میں ہورہی ہوتی ہیں اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اگر کچھ اچھا جامعات میں ہورہا بھی ہوتاہے تو میڈیا اور جامعات میں ایک خلیج نظر آتی ہے۔ یہ ہی رویہ ہمیں معاشرے میں موجود اہل دانش اور جامعات کی سطح پر موجود بڑے علمی حضرات میں نظر آتا ہے۔

اصل بحران جامعات کی سطح پر تحقیق کا ہے۔ ہمیں بنیادی طور پر ایسی تحقیق درکار ہیں جو ہمارے موجود سیاسی، سماجی، معاشی اور قانونی مسائل کے حل میں بڑا کردا ر ادا کرسکیں۔ ہمیں ایک متبادل علم درکار ہے جو جدیدیت کی بنیاد پر ہو اور دنیا میں قابل قبول بھی ہو، مگر ہم نے ڈگرے اں تو بانٹ دی مگر تحقیق کے شعبہ میں بڑی سرمایہ کاری نہیں کی۔ ایم فل او رپی ایچ ڈی کا معیار خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے او رکئی جامعات کو ہائر ایجوکیشن کی جانب سے ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگراموں کی بندش کا سامنا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب جامعات کو اس کی خاص صلاحیت یا علم کی بنیاد پر پہنچانا جاتا تھا۔ اب ہر جامع ہر شعبہ میں تعلیم دے رہی ہے او ربظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایک منڈی کا کھیل ہے جہاں مقصد تعلیم دینا کم اور ڈگرے اں بانٹنا زے ادہ ہے۔ ہمیں ہر شعبہ مے ں بہترین لوگ درکار ہیں او راگر کسی جامع کی ایک یا دو ایسی صلاحیتیں ہیں جو بہتر لو گ پیداکریں تو اچھا عمل ہوگا ہر ڈسپلن سے تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے۔

بنیادی طور پر وائس چانسلرز کی تقرری سب سے اہم معاملہ ہوتا ہے۔ اس میں موجود سیاست نے پورے نظام کو ہی بگاڑ دیا ہے۔ ہمیں اس سطح پر جامعات میں ایسے لیڈر بطور وائس چانسلرز درکار ہیں جو حقیقی معنوں میں جامعات کی قیادت کرسکے۔ وائس چانسلرزکی تقرری کا نظام بھی غیر منصفانہ ہے او ر اس مے ں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ سرچ کمیٹی میں ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی تعلیم کے میدان میں کوئی کام نہیں کیا ہوتا۔

بیوروکریسی پر مبنی نظام واقعی تبدیل ہونا چاہیے او روائس چانسلرز جیسے بڑے ناموں کو بیوروکریسی کے مرہون منت بٹھانا مناسب طرز عمل نہیں سمجھا جائے گا۔ یہ جو سیاسی اقرباپروری ہے اس کا ہر سطح پر خاتمہ ہونا چاہیے او رصرف اور صرف میرٹ کو ہی بنیاد بنا کر معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبائی ہائر ایجویشن کمیشن اور جامعات کے سربراہان کو زیادہ سے زیادہ با اختیار کیا جائے، باہمی رابطوں کو مضبوط بنانا اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کا کردار محدود ہونا چاہیے۔ اگر وفاقی ہائر ایجوکیشن نے ہی صوبوں کے سارے معاملات کو اسلام آباد سے بیٹھ کر حل کرنے ہیں تو صوبائی کمیشن کی کیا ضرورت ہے۔ حالانکہ بڑا کردار صوبائی کمیشن کا بنتا ہے اور اس میں بھی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کردار محدود ہونا چاہیے۔

جامعات کی سطح پر چیلنج محض انتظامی صلاحیت یا سیکورٹی کے معاملات کو کنٹرول کرنے تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ جامعات کا تصور ایک علمی اور فکری بنیاد پر ابھرنا چاہیے اور اس کی باقاعدہ مقابلہ بازی ہونی چاہیے جو ان اداروں کی تحقیق، کتب اور متبادل علم سے جڑا ہونا چاہیے، ۔ آپ ضرور بچوں کو تعلیم دیں او رباقاعدگی سے ان کی کلاسز بھی لیں لیکن جامعات کو مختلف علمی، وفکری اور سماجی کلچرل کی بنیاد پر سرگرمیوں کا مرکز بھی بنایا جائے جہاں استاد او رشاگرد دونوں کو اس کا لازمی حصہ بنایا جائے اور یہ نہ سمجھا جائے اس طرز کی سرگرمیاں محض وقت کا ضیاع ہوتی ہیں۔ یعنی ہمیں جامعات کی سطح پر ایک بڑے اتفاق رائے پر مبنی روڈ میپ کی ضرورت ہے۔

یہ جو ہم منطق دیتے ہیں کہ ہم بطور ریاست یا ملک بڑے بڑے سنگین نوعیت کے بحرانوں کا شکار ہیں تو ان بحرانوں سے نکلنے کا راستہ بھی علمی او ر فکری بنیادوں پر ہی ممکن ہوگا اور یہ کام جامعات ہی کرسکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہمیں جامعات کی سطح پر کئی کڑوی گولیاں کھانی ہوں گی وگرنہ محض روایتی انداز میں جامعات کی مدد سے ہائرایجوکیشن میں ہم کچھ نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں کچھ نیا کرنا ہے اور روایتی طرز فکر سے باہر نکلنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •