میرے بابا کا خدا
اس جذبے کو اس نے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے لئے لڑتے جھگڑتے دیکھا تھا۔ ان قربانیوں کو اس نے بلڈوزروں کے گھنٹوں کے تلے روندتے ہوئے دیکھا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپریشن کرانے والوں نے اُس آپریشن سے کچھ نہیں سیکھا۔ آپریشن کے بعد وہ ایک غیر ملکی طاقت کی طرح فتح کے نشے میں سرشار چند لاشوں اور گرفتاریوں کی ضرب جمع ساتھ لے کر گئے۔ ایک بار بھی رک کر نہیں سوچا کہ اپنے ہی ملک میں اُن کے خلاف ہتھیار اُٹھانے والا جذبہ کن وجوہات کی پیدوار ہے۔
ان میں سے اگر ایک بھی ذمہ دار آدمی اس مٹی کی ایک مُٹھی گھر لے جا کر اس کو غور سے دیکھتا تو شاید وہ جذبہ دوبارہ اس کے آگے بندوق تاننے کی بجائے اس کے ساتھ کھڑے ہوکر اس کا بازو بنتا۔ بابا سیاستدان تھے نہ انقلابی نہ مجاھد۔ وہ ڈرائیور تھے۔ سیدھے سادھے ڈرائیور تبھی ان کا دکھ ان کے دل پر کسی تشدد کرنے والے حوالدار کے چھتر کی طرح برستا رہا اور داغ بناتا رہا۔ وہ اس ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کرتے تھے۔
تبھی ان کے پاس ایک سیاستدان، انقلابی اور مجاہد سے زیادہ بڑا اور سچا وژن تھا۔ وہ لوگوں کے مسائل کو سیاستدانوں کی طرح اخبارات میں نہیں پڑھتے تھے۔ اور نہ ہی انقلابیوں کی طرح غیر ملکی انقلابیوں کی کتابیں پڑھ پڑھ کر اپنے لوگوں کو مارکس، لینن، ماوزے تنگ، چے گوویرا اور نیلسن منڈیلا کے ترازو میں تولتے تھے۔ اور نہ ہی کسی مجاہد کی طرح وہ کسی کے دکھائے ہوئے خواب کے تعاقب میں مذہب کے نام پر انسانیت کو روندنے کے حق میں تھے۔
وہ صرف ڈرائیور تھے جو ہر شہر، ہر گاؤں، ہرسڑک اور ہر پگڈنڈی کی اونچ نیچ کی طرح وہاں کے لوگوں کے مزاج اور مسائل سے واقف تھے۔ وہ گوادر سے لے کر چمن تک ہر میر معتبر سردار اور ٹکری کو جانتے تھے۔ ہر خان اور پھنے خان سے ملے تھے۔ امیر غریب، ظالم، سخی، چور ڈاکو، عقیدت منداور بزرگ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ ٹکراتے تھے۔ انھوں نے اُجڑے ہسپتالوں، ویران اسکولوں اور آباد بیٹھکوں اور اوطاقوں میں راتیں گزاری تھیں۔
جوہڑ کے پانی اور سوکھی روٹی کے نوالوں کا ذائقہ چکھا تھا“ کہتے تھے۔ ”ہمارے لوگوں کی سب سے بڑی بد قسمتی ان کی معصومیت اور سادگی ہے۔ جس کو مُلا، معتبر، سرکار اور سیاستدان نے ہمیشہ استعمال کیا ہے۔ میں نے ہمیشہ اس جذباتی معصومیت کو مُلا کے خوف، معتبر کے احترام، سیاستدان کے نعروں اور سرکار کے وعدوں کے آگے بے بس دیکھاہے۔ آج بھی وہی معصومیت ہے جو کہیں بم بن کر پھٹ رہی ہے اور کہیں بم پھاڑ کے ماری جارہی ہے۔
بابا کی میت ایمبولنس میں رکھے جب ہم کوئٹہ سے مستونگ جارہے تھے۔ تو ترقی اور خوشحالی کے نام پر زیر تعمیر چینی سڑک کے ہچکولوں سے میری روتی ہوئی آنکھیں خوفزدہ ہوگئیں۔ اور میں نے کئی بار بابا کی اسٹر یچر پہ پڑی ہوئی میت کو سنبھالا کہ کہیں وہ گِر نہ پڑے۔ مجھے اور رونا آیا کہ اُستاد معراج نے زندگی بھر بلوچستان کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پہ ہچکولے کھا کھا کے ڈرائیونگ کی۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اسٹیرنگ سنبھال کر ان سڑکوں کے گڑھوں کے جھٹکے کھاتے رہے۔
اور آج ان کی میت بھی جھٹکے کھا رہی ہے۔ میں باپ کی میت سنبھالے اُس ٹوٹی پھوٹی سڑک کے کنارے دیواروں پر لکھے ہوئے سُرخ اور سیاہ نعروں کو پڑھ رہا تھا۔ مذہبی اور غیر مذہبی پارٹیاں پرانے لفظوں میں نئے خواب دکھارہی تھیں اور دوسری جانب سبز سرکاری رنگ کے بورڈز پر ترقیاتی کاموں والے دعوے درج تھے۔ سب کچھ دیواروں پرلکھا ہواہے۔ اور زمین پہ کچھ بھی نہیں۔ ابھی ایک سال پہلے الیکشن کا ایک اُمید وار۔ جو آج کل منتخب ہونے کے بعد حکومت کے مزے لوٹ رہا ہے۔
بابا کے پاس ووٹ مانگنے آیا اس نے کامیابی کے بعد بہت ساری خوشحالی کے وعدے گنوانے شروع کردیئے۔ تب بابانے اس کو روک کر کہا“ میر صاحب ہمیں سڑک چاہیے نہ بجلی، نہ پانی۔ ہم اپنے گدانوں میں رہ لیں گے، جو ہڑ کا پانی پیئں گے اور لالٹینوں پہ گزارہ کر لیں گے۔ اگر آپ ہمارے لئے کچھ کرسکتے ہیں تو ہمیں ان چور اُچکوں اور رہزنوں سے نجات دلائیں جو ہماری خالی جیبیں ٹٹول ٹٹول کر ہمیں بے عزت کررہے ہیں ”آج بابا کا خوف بھی اس کے ساتھ دفن ہونے جارہا تھا۔
جو ان چوروں اور رہزنوں کی وجہ سے میرے لئے ہوتا تھا جب رات کو میں دیر سے گھر کو لوٹتاتو بابا گیٹ پہ پریشان کھڑے ملتے۔ میں نے ایک رات چڑ کر ان سے کہا“ آپ میرے لئے مت ڈریں بابا۔ میں بچہ تو نہیں ہوں ”جواب دیا۔ “ اسی لئے تو ڈرتا ہوں۔ کہ تم اب بچے نہیں رہے ہو۔ بچوں والے ہوگئے ہو۔ جب تک بچہ بچہ رہتا ہے تو باپ اسے ڈراکر مطمئن ہوجاتا ہے۔ مگر جب بڑا ہوتا ہے تو اس کے لئے ڈرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا ”تب میرا دل چاہا کہ میں ان سے کہہ دوں کہ مجھے اب بھی ان سے ڈرلگتا ہے۔ ان کی گرجدار آواز اور گہری آنکھوں کے آگے آج بھی میں نہیں بول سکتا ہوں۔
بابا کی آواز میں خود داری سے بھرے غصے کی گرج تھی۔ میں نے ان کے رعب کے آگے ہر کسی کو پگھلتے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں بلا کی گہرائی تھی۔ غصے میں ہو تیں تو گرجتیں اورجب مسُکراتیں تو برس جاتیں۔ مگر میں نے ان آنکھوں کو ہمیشہ عاجزی سے روتے ہوئے دیکھاہے جب بابا نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے۔ نماز میں ایسے نظر آتے تھے جیسے خُدا کو دیکھنے والے کھڑے ہوتے ہیں۔ میرا اور بابا کا اختلاف یہیں سے تھا۔ کہ وہ خُدا کو جس طرح سے دیکھتے تھے۔ میں اُن سے الگ دیکھتا تھا۔
میں خُدا کو کتابوں میں پڑھتا تھا۔ منطق میں تلاش کرتا تھا۔ مگر بابا نے خُدا کو اُس چٹائی پر تلاش کرلیا تھا۔ جس کو جائے نماز بنا کر وہ برسوں سے اس کے سجدے کرتے آرہے تھے۔ جس پر گھنٹوں بیٹھ کر وہ درود پڑھتے اورایسے روتے جاتے جیسے اپنے پیارے کو یاد کر کے کوئی اس کا ذکر کرتے ہوئے روتا جاتا ہے۔ گھٹنوں میں سر دیے وہ اردگرد والوں سے اپنے آنسو چُھپاتے تھے۔ مگرمیں تو جانتا تھا۔ کیونکہ میں تو اس گود میں پلا تھا جس میں وہ آنسو ٹپکتے تھے۔ ان آنسوؤں کی گرمی میں رسول پاک کی محبت کا لمس ہوتا تھا اور اللہ کی بندگی کی نمی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


