میرے بابا کا خدا
مجھے دوستیوں، رشتہ داریوں اور عیال داریوں کی ذمے داریاں سونپ کر سجدوں، بچوں اور پھولوں میں گم ہوگئے ہیں۔ مجھے ایسا لگنے لگا کہ جیسے بابا کاخُدا ن کو اپنے سجدوں کے لئے Spareکرکے باقی سب ذمہ داریاں میرے اوپر ڈال چکا ہے۔ اور بابا اپنے خُدا کے پیچھے چھپ کر مجھے منہ چڑا رہے ہیں۔ مگر ایسا نہیں تھا۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا۔ کہ ایک شخص جو زندگی بھر چڑیوں کی طرح ایک ایک دانہ اُٹھا اُٹھا کر اپنے بچوں کے منہ میں ڈالتا رہا ہو۔ اب ان کی ذمہ داریوں سے کیسے بیگانہ ہو گیا ہو۔ مگر اپنی کہانیوں کی دنیا میں گم مجھے کب یہ دکھائی دیتا کہ بابا آج بھی کسی چھت کی طرح کھڑے تھے۔ مگر بہت خاموشی سے۔ وہ آج بھی اپنی اولاد کو دے رہے تھے اور وہ کچھ دے رہے تھے جس کی اس وقت اولاد کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور وہ تھی ان کی دعائیں۔
بیٹوں کی ملازمت، بیٹیوں کے رشتے، کوئی سفر پہ جانا۔ کسی کو رزلٹ کا انتظار ہوتا، کوئی سسرال کی شکایتیں لے کر آئی، کوئی کاروبار کے جھمیلے لے کر آتا، بابا کا کمرہ نہیں، ہائیڈپارک تھا۔ جہاں ہر کوئی آکر بولتا۔ بابا سنتے۔ رونے والے کے ساتھ روتے اور ہنسنے والے کے ساتھ ہنستے اور ہر کسی کے مشکل کا ایک ہی حل۔ دُعا۔ تہجد کی خاموشیوں میں کئی بار میں نے ان کے رونے کی آواز سُنی۔ استاد معراج کے ہاتھ جو کبھی مضبوطی سے اسٹیرنگ کو تھام کر اپنے بچوں کی روٹی کے لئے بھاگ دوڑ کرتے تھے اب ایک دوسرے کے ساتھ ہتھیلیاں جوڑکر اپنے خُدا کے حضور اُٹھتے تھے۔ اتنی دیر تک جب تک اُنھیں یقین نہیں ہوجاتا کہ خُدا نے قبول کرلی۔
ان کی موت سے ڈیڑھ ماہ قبل میری اور ان کی آخری لڑائی ہوئی۔ میں ان کو اپنے ساتھ کراچی لے جانا چاہتا تھا۔ چیک اپ کروانے کے لئے۔ مگر لڑائی کا وہی انجام۔ کہنے لگے۔ ’خُدا خیر کرے گا۔ تم مجھے میرے مٹی اور میرے پودوں سے دور مت کرو۔ بے فکر رہو مجھے کچھ نہیں ہوگا ”
اور پھر وہی ہوا۔ جیسا بابا نے کہا۔ ان کو کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایک ذراسی بھی کسی کی محتاجی نہیں کی۔ شام تک خود پیروں پر کھڑے ہو کر پودوں کو پانی دیتے رہے۔ رات کو سوئے اور صبح سویرے بھائی کا فون آیا کہ آج بابا نے فجر کی نماز نہیں پڑھی کیونکہ اسی وقت وہ اپنے خُدا کے پاس چلے گئے۔
آماچ کے دامن میں جب سب لوگ بابا کو مٹی کا ڈھیر بنا کر روانہ ہوئے۔ تو میں تڑپ کر پھر لوٹ کر آیا۔ اکیلا۔ اس ڈھیر کی مٹی کو مٹھیوں میں بھر بھر کر بابا سے باتیں کرتا رہا۔ وہ باتیں جن کے الفاظ نہیں تھے۔ ایک کم سن بچے کا رونا تھا۔ جس کو اس کا باپ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔ اُس بچے کے پاس کوئی گود نہیں تھی۔ جس میں سر رکھتا۔ کوئی دامن نہیں تھا جس کو پکڑتا۔ کوئی انگلی نہیں تھی جس کو تھام لیتا۔
تنہائی کی شدت ہچکیاں بن کر سانس روکنے لگی۔ میں اُٹھا۔ بے اختیار دوڑتا ہوا بابا کے کمرے میں گیا۔ دیوار سے لٹکی جائے نماز والی چٹائی اُتاری۔ اور نیت باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ اور جب میں سجدے میں گیا۔ تو میری اپنے بابا سے ملاقات ہو گئی۔ اُن کی مُسکراتی ہوئی آنکھیں مجھے چند لمحے دیکھتی رہیں اور پھر آسمان کی جانب پلٹ گئیں۔ ان میں ایک فخر بھری خوشی تھی۔ جیسے کہ وہ اللہ سے کہہ رہی ہوں۔
”دیکھا میرے اللہ۔ میرا بیٹا میرے پیچھے چھپ کر تیری حکم عدولیاں کرتا رہا۔ مگر آج وہ میری طرح تیرے سجدوں میں جُھکا ہوا ہے۔ جب تک باپ زندہ ہوتے ہیں تو بیٹے اُن کے سائے میں خُدا کے خوف سے بھی لاپرواہ رہتے ہیں۔ مگر اُن کے جانے کے بعد جب وہ زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں اکیلے کھڑے ہوتے ہیں تب وہ دوسرے سارے خُداؤں سے مُنہ موڑ کر اُس ایک خُدا کے آگے سر جُھکا دیتے ہیں جس کا نام“ اللہ ”ہے۔
میں اب اُن پھولوں کی کیاریوں کے بیچ میں اپنے بابا کی چٹائی والی جائے نماز پر سجدے کرتا ہوں۔ تو مجھے اپنے بابا کی خوشی سے مُسکراتی ہوئی آنکھیں نظرآتی ہیں۔ ویسی مسکراہٹ جو اپنا ہوم ورک Completeکرنے والے بچے کے باپ کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ اور جس وقت میں یہ سجدے کر رہا ہوتا ہوں۔ اُس وقت مُراد (میرا بیٹا) میری پشت پر کہیں کرکٹ کھیل رہا ہوتا ہے۔ اور اُس کی بال میری جائے نماز پر کئی مرتبہ ٹپے کھاتی ہے۔ وہ بے پرواہ ہے۔ کیونکہ اُس کا بابا اپنے خُدا کے آگے اُس کے لئے دُعا مانگ رہا ہے۔


