میرے بابا کا خدا


بابا کے لئے سردرد سے لے کر جوان بھائی کی موت تک ہر دکھ و درد کا علاج وہ سجدہ تھا۔ ملازمت کی تلاش سے لے کر G۔ P فنڈ اور ریٹائرمنٹ کی وصولی تک ہر مشکل کا حل اُسی سجدے میں سے نکالتے تھے۔ زلزلے کے جھٹکوں کا خوف ہو یا ان جھٹکوں کے دوران ہونے والی ہوائی فائرنگ کی اندھی گولیوں کا ڈر۔ گاڑی کوئی پرزہ تڑوا کر ویرانے میں رُک جائے۔ یا کوئی عزیز دوست یا اولاد آپریشن تھیٹر میں موت سے زندگی کی جنگ لڑرہا ہو۔ نلکے میں پانی آنا بند ہوجائے یا گھر میں کھانے کے لئے اگلے وقت کی روٹی نہ ہو۔

 بابا نے اُسی سجدے کا دروازکھٹکھٹانا تھا۔ اُسی دروازے پر توکل کی چادر اوڑھ کر صبر کا دامن پکڑکر بیٹھ جاتے تھے۔ ایسے وقت میں جب ہم وسیلوں، علاجوں اور پناہوں کے خُداؤں کے آگے جُھک رہے ہوتے۔ جب ہماری بے صبری سسٹم (System)، حکومت اور قسمت کو کوسنے دے رہی ہوتی تھی۔ بابا کی لاپرواہی کی حدوں کو چھونے والی استقامت اور بے حسی جیسے نظر آنے والے سجدے تکلیف دینے لگتے تھے۔ ہمیں غصہ آنے لگتا کہ اس اضطراب اور بھاگ دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے وہ اپنی چٹائی (جائے نماز) پر ماتھا کیوں رگڑ رہا ہے۔

 میری ماں جن کو وہ پیار سے عاشو بی بی (بی بی عائشہ) پکارتے تھے اپنی اولاد پر کسی مشکل وقت یا بیماری کے موقع پر ان سے بہت لڑتی تھیں۔ اور کبھی کبھار تو چڑ کر اس چٹائی کو اُٹھا کر کہیں چُھا دیتی تھی۔ اور یہی شاید استاد معراج اور عاشو بی بی کی لڑائیوں کی واحد وجہ تھی کہ میری ماں بچوں کی بیماریوں، رشتوں اور پریشانیوں پر ان کے سر پہ بیٹھ کر واویلا مچایا کرتی تھی اور بابا سجدے میں چلے جاتے تھے۔

بابا کے ساتھ میری لڑائی کی شدت میں اس وقت اضافہ ہوا۔ جب بابا شوگر(ذیابیطس) کی بیماری میں مبتلا ہوئے۔ شوگر کے مریض سے اس کا ہر پیار کرنے والا جس طرح لڑتا ہے سو ہماری بھی ویسی ہی لڑائیاں تھیں۔ اور وجہ ایک ہی ہوتی ہے بدپرہیزی۔ مگر بابا بدپرہیز ہی نہیں، ہٹ دھرم بھی تھے۔ دوائیں نہ کھانے والی ہٹ دھرمی۔ بس اپنا علاج خود سے یہ دریافت کرلیا کہ ٹرک کے اسٹیرنگ سے اُتر کر باغبانی شروع کردی۔ بیلچہ اُٹھایا، سارا گھر کھود ڈالا اور پھول اور سبزیاں لگا دیے۔ اور سارا وقت ان کے ساتھ گزارنے لگے۔ چٹائی والی جائے نماز کبھی ایک کیاری میں پڑی ہوتی کبھی دوسری کیاری میں۔

ایک روز عصر کے بعد اسی جائے نماز پر بیٹھے تھے۔ تو میں نے شوگر کے مرض کی انتہائی حالت سے انھیں ڈرایا۔ میں نے کہا ”بابا۔ ننگے پیر مٹی میں گھومتے ہو تو کسی روز کانٹا چبھ جائے گا اور پھر بڑھتے بڑھتے ٹانگ کٹوانی پڑے گی“ خاموشی سے سر جُھکائے درود پڑھتے رہے۔ میں نے مزید خوف زدہ ہو کر کہا ”آنکھوں کی بینائی چلی جائے گی۔ گُردے فیل ہوجائیں گے۔ محتاج ہوجاؤ گے۔ اُٹھنے بیٹھنے سے رہ جاؤ گے۔ خُدا کے لئے اپنا خیال رکھو“ اُٹھے اور بہت اطمینان سے ننگے پاؤں کی کیاریوں میں چلنے لگے۔

 میں نے ہٹ دھرمی پر چلانا چاہا تو مُڑ کر مجھ سے کہا ”تم پریشان مت ہو۔ میں صرف تمھارے کندھے کا محتاج ہوں گا جس پر تم مجھے قبرستان لے کر جاؤ گے“ مجھے اور غصہ آیا۔ میں چلایا۔ ”آپ خُدا سے لکھوا کے لائے ہو کیا کہ یہ بیماری آپ کا کچھ نہیں بگاڑے گی“ ہاں ”بابانے بہت وثوق سے جواب دیا۔ “ میں ایسے خُدا کو نہیں مانتا بابا۔ جو آپ کو گمراہ کررہا ہے۔ جو آپ کو محتاجی کے اندھے کنوئیں میں دھکیل رہا ہے ”شہتوت سے ایک توت توڑ کر کھاتے ہوئے بولے“ ظاہر ہے۔

 تم کیوں میرے خُدا کو مانو گے۔ تمھارا خُدا تو ایک کہانی ہے۔ مگر میرا خُدا سچ۔ تم اس کو کتابوں میں تلاش کرتے ہو۔ اور مجھے وہ اس مٹی میں ملتا ہے تمہیں اس کے لئے چوکھٹ چوکھٹ سجدے کرنا پڑتا ہے مگر مجھے وہ اسی چٹائی پہ ملتا ہے تم وسیلوں کے محتاج ہو مگر میں اس کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں۔ تمھارے لئے وہ علم ہے۔ مگر میرے لئے ایمان۔ تم اپنا علم اپنے پاس رکھو۔ مجھے میرے ایمان کے ساتھ رہنے دو۔ کیونکہ جو اس کے آگے جُھکتا ہے اسے وہ کسی کے آگے جُھکنے نہیں دیتا ”

اس دن سے مجھے اتنا غصہ آیا کہ میں جو کبھی بابا کا دل رکھنے کے لئے اس کی چٹائی پر نماز کے لئے کھڑا ہوجاتا۔ اس کے بعد ویسا کرنا بھی چھوڑ دیا۔ مجھے نعوذ با اللہ اس خُدا سے عداوت سی ہو گئی جس نے میرے بابا کو اتنا ہٹ دھرم بنا دیا کہ اسے میرے علاج کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جو اپنی ہر تکلیف کو لے کر جائے نماز پر کھڑا ہوجاتا۔

میرا اور بابا کا جھگڑا برسوں تک چلتا رہا۔ اس کا خُدا اسے مزید بچپنے کی طرف دھکیلتا رہا۔ کسی ایسے بزرگ کی طرح میرے بابا کی پشت پناہی کرتا رہا۔ جو کسی ضدی، ہٹ دھرم اور شریر بچے کی پشت پناہی کرتا ہے۔ اور میں کیا، میرے علاوہ بیسیوں ایسے لوگوں کو بھی بابا پر غصہ آنے لگا جو شوگر کے مریض تھے مگر اُس مرض کا ہر نخرہ اُٹھانے کے باوجود اس کے شر سے محفوظ نہیں تھے۔ وہ بابا کو بد پرہیزیاں اور ’مستیاں‘ کرتے دیکھ کر احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ اور بابا ان کی ہر حیرت کے جواب میں مُسکرا کر آسمان کی طرف دیکھتے اور کہتے ”اللہ“۔

آہستہ آہستہ میرا غصہ گہرا ہونے لگا تھا۔ میں نے اُلجھ کر بابا کو اس کے خُدا کے ساتھ چھوڑ دیا اور اپنی توجہ اور دوستی کو لے کر دور ہوگیا۔ بابا کو بھی شاید میری ضرورت نہیں رہی۔ میرا بیٹا مراد اور بھتیجا عمر، اُن کے بچپنے کا بھر پور ساتھ دینے لگے باباغلیلیں بنانے اور پتنگ اُڑانے کے ساتھ ساتھ ان کی عمر کے کھانے پینے اور ہنسی مذاق کے مزے بھی لوٹنے لگا۔ میں محسوس کرنے لگا کہ جیسے بابا نے اپنا بڑھاپا مجھے سونپ دیا اور خود بچہ بن کر مزے کر رہا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4