عمران خان کا غصہ اور فیصل واوڈا کی دھمکیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بجٹ کی آمد کے ساتھ گرفتاریوں کی بھی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ پہلے زرداری اور پھر حمزہ کی باری، ساتھ ہی ساتھ لندن میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین بھی دھر لے گئے لیکن 24 گھنٹوں میں ہی ضمانت پر رہا ہو گئے کیونکہ وہاں تو نیب، نیب عدالتوں اور پراسیکیوٹرز کا طوطی نہیں بولتا، نیب قانون کے سوا پاکستان میں بھی برطانوی لیگل سسٹم نافذ ہے جس میں جب تک ملزم پر جرم ثابت نہ ہو جائے وہ مجرم نہیں ٹھہرتا۔ قومی بجٹ جس کے بارے میں چرچا تھا کہ شیر آیا شیر آیا، آچکا ہے اور واقعی جیسا کہ وارننگ دی گئی تھی کہ یہ عوام اور بزنس کمیونٹی دونوں کے لیے خوفناک ہو گا۔

گویا کہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی بات ٹھیک نکلی کہ عوام کی چیخیں نکلیں گی لیکن اصل چیخیں اس وقت نکلیں گی جب بجٹ میں لگائے گئے نئے ٹیکسز کا اطلاق اور سبسڈیز کے خاتمے کا اثر مارکیٹوں میں ہو گا اور یقینا مہنگائی کی نئی لہر آئے گی۔ جیسا کہ قلاش ممالک کے لیے آئی ایم ایف کا پیکیج عوام پرقہر بن کر گرتا ہے اور ترقی کرنے کے بجائے بجٹ میں خساروں کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، موجودہ بجٹ میں ایسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔

بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی طرف سے کی گئی ہنگامہ آرائی میں نوجوان وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر بمشکل اپنی تقریر مکمل کر پائے۔ ایوان میں موجود وزیراعظم عمران خان کے ارد گرد ان کے کھلاڑی وزراء اور ارکان نے حصار بنا رکھا تھا گویا کہ وہ خان صاحب کے باڈی گارڈ ہیں۔ شاید انھیں یہ خدشہ تھا کہ اپوزیشن کا کوئی رکن وزیراعظم سے کوئی بات نہ کر لے۔ نواز شریف اور عمران خان بطور وزیراعظم یہ بنیادی حقیقت کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایوان میں وزیراعظم بھی تمام ارکان کی طرح ہی ہوتا ہے اگرچہ بطور چیف ایگزیکٹو اور وزیراعظم کی حیثیت سے اس کا مقام پہلے ہوتا ہے یعنی کہ (First among equals) ۔

خان صاحب نے بھی ’گو نیازی، گو‘ کے نعروں کی گونج میں بجٹ تقریر سنی لیکن ان کے لیے اپوزیشن کا یہ تو ہین آمیز رویہ ناقابل برداشت ثابت ہوا اور انھوں نے اسی رات ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کر ڈالا حالانکہ وہ اپنے دل کی بھڑاس اس روز نہیں تو قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں نکال سکتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خطاب کا وقت پہلے سوا نو پھر گیارہ اور بعدازاں بارہ بجے رکھا گیا۔ یہ ایسا وقت ہے کہ جب پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی کی اکثریت محو خواب ہوتی ہے لیکن لگتا ہے کہ خان صاحب اپنا غصہ نکالنے کے لیے بہت جلدی میں تھے۔

اس کے باوجود کہ ان کی اپوزیشن سے ناراضی کسی حد تک جائز تھی لیکن اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ وہ خود اور ان کی پارٹی اپوزیشن سے جو سلوک کرتی ہے اس کی بنیاد پر یہ توقع کرنا کہ حزب اختلاف ان پر پھول بر سائے گی، عبث ہے۔ عین بجٹ اجلاس کے روز برادر حامد میر کے پروگرام میں وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے جو باتیں کیں وہ انتہائی محل نظر ہیں۔ فیصل واوڈا شیخیاں بگھارنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ وہ چند ہفتے قبل فرما چکے تھے کہ تیل نکلنے والا ہے اور یہاں اتنی نوکریاں ہوں گی کہ لوگ لینے والے نہیں ہوں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو میری تکہ بوٹی کر دینا لیکن اس پروگرام میں وہ تمام حدیں پار کر گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے بس میں ہو توہم پانچ ہزار لوگوں کو بائیس کروڑ عوام کی فلاح وبہبو د کے لیے پھانسی لگا دیں، پھر ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام کے تحت بیس برس میں بھی ایسا نہیں ہو سکتا۔ گویا کہ وزیر موصوف اس آئین کو جس کی پاسداری کا حلف اٹھا کر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے ہیں اسے اپنے فسطائی ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ نہ جانے کیوں یہ بات مختلف حلقوں کی طرف سے کہی جا رہی ہے کہ ملک میں پانچ ہزار لوگو ں کو لٹکا دیا جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

ظاہر ہے کہ اس میں حق کی آواز اٹھانے والے صحافی بھی شامل ہوں گے۔ خان صاحب نے قوم سے اپنے خطاب میں حال ہی گرفتار ہونے والے اپوزیشن رہنماؤں کو خوب للکارا اور اعداد وشمار و مبینہ شواہد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ سب لو گ چور ہیں اور ان کی جگہ جیل ہے۔ بات تو شاید ٹھیک ہو لیکن کیا بہتر نہ ہوتا کہ وزیراعظم اس ضمن میں نیب عدالتوں سمیت اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کا انتظار کر لیتے لیکن خان صاحب نے تو اپنا فیصلہ سنا دیا ہے تو پھر چاہیے تو یہ کہ آرڈیننس کے ذریعے سزائیں سنا دیں اور عدالتوں کا گورکھ دھندا ختم ہی کر دیں۔

توقع کی جا رہی تھی کہ سخت بجٹ دینے پر وزیراعظم عمران خان قوم کو صبر کی تلقین کریں گے اور انھیں آن بورڈ لینے کی کوشش کریں گے لیکن انھوں نے اپنی پٹاری سے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے اور گزشتہ دس برس کے دوران قرضوں کی بھرمار کی تحقیقا ت کے لیے اپنے زیر نگرانی کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا۔ مجوزہ کمیشن میں ایف بی آر، ایس ای سی پی، ایف آئی اے، آئی بی اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ایسے کمیشن کی کیا کریڈبیلٹی ہو گی، شاید اس بات پر سرے سے غور ہی نہیں کیا گیا۔

ویسے بھی پاکستان جو بائیسویں آئی ایم ایف پروگرام میں جا رہا ہے قرضوں پر ہی پلتا رہا ہے لیکن اگر حکمرانوں نے قرضے لیتے ہوئے آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہیں کی تو ان پر کون سا جرم ثابت ہو گا اور پھر جہاں تک قرضوں کا تعلق ہے موجودہ حکومت نے گزشتہ نو ماہ میں جتنے قرضے لیے ہیں ان کا حساب کون دے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ مشیر خزانہ ڈاکٹرحفیظ شیخ جو پیپلزپارٹی کے دور میں تین برس وزیر خزانہ رہے ہیں اس دوران قرضے دگنا ہو گئے ان کا حساب کون دے گا؟

اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کولیشن سپورٹ فنڈ (CSF) کی مد میں اینٹھے ہوئے اربوں ڈالر کا حساب کیوں نہیں مانگا جا رہا؟ مقام شکر ہے کہ وزیراعظم نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ وطن عزیز کو ریاست مدینہ بنانے میں وقت لگے گا لیکن ساتھ ہی انھوں نے ریاست مدینہ کے نظام کو نظریہ پاکستان قرار دیا ہے۔ ’نظریہ پاکستان‘ جنرل یحییٰ خان کے وزیر نوابزادہ شیر علی خان کی اختراع تھی۔ اس سے پہلے غالبا ً یہ اصطلاح کسی نے استعمال نہیں کی لیکن اب تو نظریہ پاکستان کے کئی مامے بن چکے ہیں۔

ہر کوئی اس اصطلاح کو اپنے اپنے مخصوص مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جنرل ضیاء الحق کے دور میں وطن عزیز میں غیر جماعتی نظام اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کے لئے جداگانہ طرز انتخابات کا ڈول ڈالا گیا اور اسے ہی نظریہ پاکستان قرار دیا گیا۔ اپنے دوسرے دور میں بھاری مینڈیٹ سے سرشار نواز شریف نظریہ پاکستان کی آبیاری کا دعویٰ کرتے ہوئے امیرالمومنین بننا چاہتے تھے۔ بہتر ہو گا کہ خان صاحب سیدھے سادے طریقے سے علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم ؒکے افکار پرچلیں کیونکہ وطن عزیز کا وجود بنیادی طور پر یہ تھا کہ برصغیر کے مسلمان کسی کی غلامی میں رہنے کے بجائے آزاد ی سے زندگی بسر کریں اور اقتصادی طور پر پھل پھول سکیں۔ نیز یہاں تمام صوبوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو برابری کے حقوق حاصل ہوں لیکن گزشتہ چند برسوں میں ہم نظریے کے قریب ہوتے جا رہے ہیں یا دور، یہ بات حکمرانوں کے لئے قابل غور ہونی چاہیے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •