ادب میں فحاشی کا کیا مقام ہے؟
ادیب قاری کے لیے مسرت کی بہم رسائی اور اس کی تنقیح کا بھی ذمے دار ہوتا ہے۔ اگر کوئی ادیب اپنے قلم کو فحاشی کو مقصد بنا کر پیش کر رہا ہے تو یقیناً وہ لائق تعزیر ہے لیکن اگر اس نے فحاشی اور عریانی کو کسی بڑے مقصد کا ذریعہ بنایا ہے تو یہ ہرگز ناجائز نہیں کیوں کہ مقصد اور نیت زیادہ اہم ہیں، نہ کہ ذرائع۔ ایک ایسے دور میں جب حسن کی نمائشوں، عریاں فلموں، بلیو فلموں، انٹرنیٹ کی کارستانیوں اور مخرب الاخلاق اشتہاروں نے خلوت ہی نہیں، جلوت میں بھی فحاشی اور عریانیت کی تجلیاں عام کر دی ہیں، ہم ان قادر الکلام شاعروں اور ادیبوں کو گردن زدنی سمجھتے رہنے میں کہاں تک حق بجانب ہیں؟
کیا اخلاق، منافقت کا متبادل ہے؟ کیا حقائق کو چھپانا ایک اخلاقی جرم نہیں ہے؟ کیا ہمارے بیشتر ذہنی و سماجی عوامل کی تہ میں جنس کا نا پختہ شعور کارفرما نہیں؟ کیا ان مسائل کا حل صرف اغماض و تجاہل کے ذریعے ممکن ہے؟ اور اگر ادب کے توسط سے ہمیں ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کا موقع ملتا ہے تو کیا یہ لائق تعزیر ہے؟ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسے کلب بھی ہیں جہاں عریاں رقص ہوتے ہیں، جہاں Strip Tease پارٹیاں منعقد ہوتی ہوں، جہاں شراب، افیون اور بھنگ کے ٹھیکے دیے جاتے ہیں، جہاں رنڈیوں اور کسبیوں کو جسم فروشی کے لیے لائسنس دیا جاتا ہے، جہاں ”بلیو فلموں“ کی دکانیں شاہراہوں پر چمکتی ہیں، جہاں انٹر نیٹ پر فحش سائٹس کم عمر بچوں کو ”با اخلاق“ بنانے کے لیے 24 گھنٹے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں، جہاں اخباروں میں نیم برہنہ تصاویر کی اشاعت برحق ہے، ایسے معاشرے میں صرف وہ ادیب لائق تعزیر کیوں ہے جو منافقت کی نقاب نوچ پھینکنا چاہتا ہے اور زندگی کی مکمل تصویر پیش کرنے کا خواہش مند ہے۔
میں یہاں دوسرے اور تیسرے درجے کے ادب کی وکالت نہیں کر رہا ہوں کیوں کہ نہ تو وہ میرا ہدف ہے اور نہ ہی میرا مسئلہ۔ پست درجے کے ادب کا مقصد محض سنسنی پیدا کرنا ہوتا ہے اور پست شخص اسی کی وجہ سے اس کا مربی بنتا ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ سنسنی کا مخرج محض جنس ہی نہیں بلکہ سیاست اور مذہب بھی ہو سکتے ہیں۔ اب جاسوسی افسانوں یا ناولوں کو ہی لے لیجیے۔ گذشتہ کچھ برسوں سے ابن صفی کی بازیافت نو کی کوشش بڑے جذباتی انداز میں کی جا رہی ہے۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ اردو کی ترویج و اشاعت میں ابن صفی کے جاسوسی ناولوں نے کافی اہم رول ادا کیا ہے اور یہ کہ عام قارئین کا ایک بڑا طبقہ خالص ادب پر ان جاسوسی ناولوں کو ترجیح دیتا تھا۔ اگر واقعی یہ سچ ہے تو پھر اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ قوم کو سنسنی کے درجے پر رکھنے میں سب سے زیادہ اسی طرح کے ادب معاون ہوتے ہیں، چنانچہ کیوں نہ ایسے ادب کو ایک سرے سے قلم زد کر دیا جائے؟ لیکن قلم زد کرنے کی بات تو دور، اب تو ہم نے جرائم اور مار دھاڑ پر مبنی فلموں کو نوجوانوں کے سامنے پیش کر دیا ہے اور ہم اس بات پر خوش ہو رہے ہیں کہ عریانیت سے ہم نے نئی نسل کو محفوظ کر لیا ہے۔
جہاں تک میری ناقص معلومات کا تعلق ہے، قرآن حکیم عریانی سے کہیں زیادہ تشدد کی مذمت کرتا ہے لیکن ہمارے مصلحین کے نزدیک یہ کبھی اہم مسئلہ ہی نہیں رہا بلکہ وہ تشدد کے عوامی مظاہروں سے بھی چشم پوشی کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف جہاں کہیں جنسی اختلاط کی ایک جھلک بھی دکھائی دے جائے، فوراً شور مچانے لگتے ہیں۔ مغرب میں تو تشدد کو بھی ایک طرح کی ”عریانی“ (indecency) تسلیم کر لیا گیا ہے لیکن مشرق کی تہذیبی اور ثقافتی اقدار کے قصیدے پڑھنے والے ہمارے محتسبین کانوں میں روئی اور آنکھوں میں کالا چشمہ لگائے مغربی معاشرے کو کوس رہے ہیں۔
عریانی کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ جسے ہمارے مصلحین نظر انداز کرتے رہے ہیں، اس پر بھی تھوڑی دیر گفتگو ہو جائے تو مضائقہ نہیں ہے۔ تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ ایک زمانے میں مرد اور عورت بالکل برہنہ پھرتے تھے جس کے نتیجے میں جنسی اشتعال بتدریج کم ہونے لگا، حتیٰ کہ وہ مکمل طور پر غیر جنسی ہونے لگے اور انسانی نسل کے بالکل ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا۔ چنانچہ کپڑے ایجاد کیے گئے اور ان اعضا کو چھپایا گیا جن کا جنس سے براہ راست تعلق ہے۔
اس کا ایک خوشگوار نتیجہ یہ نکلا کہ جب اتفاقاً لوگوں کی نظر ان پوشیدہ اعضا پر پڑنے لگی تو وہ جنسی طور پر مشتعل ہونے لگے۔ اچھا پھر یہ محسوس کیا گیا کہ بار بار ان پوشیدہ حصوں پر نظر پڑنے اور انھیں غور سے دیکھنے کے سبب بھی ان سے بیزاری محسوس ہوتی ہے تو مردوں اور عورتوں کا اختلاط کم کر دیا گیا، ان پر پہرے بٹھا دیے گئے۔ لہٰذا، اب جب بھی یہ ایک دوسرے سے ملتے یا ایک دوسرے پر نظر پڑتی تو جنسی اشتعال پیدا ہونے لگا۔
یہ سلسلہ انیسویں صدی تک جاری رہا اور عریانی اخلاقی عیوب میں داخل ہو گئی۔ لیکن بیسویں صدی کی تیز زندگی میں کپڑوں کی اہمیت کم سے کم ہوتی چلی گئی اور معاشی ضرورتوں نے عورت اور مرد کے معاشرتی میل جول کی راہ ہموار کر دی۔ اس کا جو نتیجہ سامنے آیا، وہ آپ کے سامنے ہے۔ فرانس اور انگلستان میں اب زیادہ تر لوگ ”غیر جنسی“ ہوتے جا رہے ہیں۔ یورپ کی عورتیں بسوں میں مردوں کی گود میں بیٹھ جاتی ہیں۔ اکثر ہوٹلوں میں اجنبی مرد اور عورت ایک ہی بستر پر سو جاتے ہیں اور صبح کو بالکل انجان ہو کر اپنے اپنے راستے نکل پڑتے ہیں۔
اس کے برخلاف ذرا اپنے ماحول کا جائزہ لیں۔ ہمارے ہاں عورت آج بھی کسی دوسرے سیارے کی چیز ہے جسے مرد گھورتے نظر آتے ہیں۔ یورپ کی عورتیں اس گھورنے پر متعجب ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں اگر کسی مرد کا کسی عورت سے جسم اتفاق سے چھو جائے تو سمجھیے، قیامت بر پا ہو گئی۔ ممبئی جو ہندوستان کے دوسرے شہروں کے مقابلے میں زیادہ مصروف اور زیادہ وسیع النظر شہر ہے، یہاں جنسی تجسس اتنا نمایاں نہیں ہے جتنا ہندوستان کے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں نظر آتا ہے۔
یہاں عورتوں اور مردوں کے درمیان اتنا بڑا فاصلہ نہیں ہے، جتنا عموماً دوسرے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں نظر آتا ہے۔ یہاں آپ کو عورتیں ایسے ملبوسات میں بھی کثرت سے نظر آ جائیں گی جنھیں اگر وہ پہن کر دوسرے شہر میں گھومنے پھرنے کی جسارت کریں تو ممکن ہے کہ وہاں ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آ جائے۔ لیکن یہاں کے لوگوں کے لیے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ ملبوسات کی اس عریانی سے ان کے دل بھر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہاں اس طرح کی عریانی اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔
اس کے برخلاف اتر پردیش اور بہار کے اکثر وہ نوجوان جو ذریعۂ معاش کے لیے اس شہر میں آتے ہیں، ان کے لیے یہ نظارہ جنسی اشتعال کا سبب بن سکتا ہے، جب کہ یہاں کے رہنے والوں کے لیے یہ معمول کا حصہ ہے اور وہ گھورنے والوں کو خود گھور نا شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے جب میں کہتا ہوں کہ فحاشی یا عریانی کا تصور اضافی ہے، جو جغرافیہ، نفسیات، رسم و رواج، عقیدے، طرز زندگی وغیرہ کی مناسبت سے بدلتا رہتا ہے تو میرا مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ عریانی اس قدر مخدوش چیز نہیں ہے جس کے خلاف احتجاج کا کوئی موقع آپ گنوانا نہیں چاہتے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


