ادب میں فحاشی کا کیا مقام ہے؟
اوشو رجنیش نے اس ضمن میں ایک حکایت بیان کی ہے۔ دو جین مُنی بھائی ایک سفر پر نکلے تھے۔ اب آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ جین دھرم میں تیاگ اور سنیاس کے قوانین کافی سخت ہیں۔ خیر، دونوں بھائی جنگل اور دریا عبور کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف گامزن تھے۔ راستے میں ایک ندی حائل ہوئی جہاں ایک اکیلی خوب صورت لڑکی زار و قطار روتی نظر آئی۔ چھوٹے بھائی نے اس سے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ قافلے سے بچھڑ چکی ہے اور وہ یہ ندی پار نہیں کر سکتی۔
یہ سن کر بڑا بھائی تو آگے بڑھ گیا، کیوں کہ اس کے مذہبی نقطۂ نظر سے ”استری اسپرش“ حرام تھا۔ لیکن چھوٹے بھائی نے اس لڑکی کو بلا تکلف اپنے کاندھے پر سوار کیا اور ندی پار کر گیا۔ بڑے بھائی نے ناگواری اور شدید غصے میں یہ سب کچھ دیکھا لیکن خاموش رہا۔ چھوٹے بھائی نے لڑکی کو ندی کی دوسری طرف اپنے کندھے سے اتارا اور اپنے بڑے بھائی کے پیچھے حسب سابق ہو لیا۔ کئی گھنٹے گزر گئے لیکن بڑے بھائی کا تشنج برقرار رہا۔
کافی دیر گزرنے کے بعد اس سے برداشت نہ ہوا اور بالآخر وہ اپنے چھوٹے بھائی کی طرف پلٹ کر اس پر برس پڑا، ”تم نے پاپ کیا ہے۔ “ چھوٹا بھائی اس اچانک سرزنش سے پریشان ہو گیا، اس نے پوچھا، ”مجھ سے کیا غلطی ہو گئی؟ “ بڑے بھائی نے اسے سخت و سست کہتے ہوئے کہا ”کیا تمھیں علم نہیں کہ سنیاسی کے لیے استری اسپرش حرام ہے اور تم نے اس کنیا کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا؟ “ چھوٹے بھائی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور کہا، ”بھیا! میں نے تو گھنٹوں پہلے اس کنیا کو اپنے کندھے سے نیچے اتار دیا تھا لیکن آپ اب تک اسے اپنے سر پر بٹھائے ہوئے ہیں؟“ مشرق اور مغرب کے جنسی رویے میں بھی یہی فرق ہے۔
ماہرین نفسیات کے ایک سروے کے مطابق فحش ادب ہمیشہ جنسی گھٹن کے دور میں پیدا ہوتا ہے۔ جنسی اختلاط کے مواقع جتنے کم ہوتے ہیں یا ان کا حصول جتنا مشکل ہوتا ہے، فحش ادب اسی کثرت سے پیدا ہو گا۔ گویا فحش ادب کی پیداوار اور اس کے مطالعے کا ایک اہم مقصد جنسی گھٹن کا اخراج بھی ہے۔ پھر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فحش ادب ایک قسم کا اظلال ہوتا ہے یعنی تخلیق کار اپنی دبی خواہشات کو کسی اور کے سر منڈھ دیتا ہے اور اس طرح وہ جو خود کرنا چاہتا ہے، ناول یا افسانے میں کسی اور کردار سے کرواتا ہے، نہ کہ شموئل احمد کی طرح وہ خود ہی اپنے کرداروں سے جماع کرنے لگتا ہے۔
یہ درست ہے کہ ادب، ادیب کی سوانح نہیں ہوتا لیکن جو امور ایک ادیب کی تخلیقی زندگی کا حصہ ہو جاتے ہیں اور اس کی تخلیقات کا ایک مزاج متعین کر رہے ہوتے ہیں، ان سے صرف نظر کرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔ فرائڈ کا بھی کہنا ہے کہ تخلیات کی کثرت ان لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے جو معاشی، سماجی یا جنسی لحاظ سے ناآسودہ ہوتے ہیں یا سماجی مقام حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ ادیب انھی جبلتوں کی تسکین کرتا ہے۔ اس اعتبار سے عالمی ادب پر نظر ڈالیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ادب ”شریفوں“ کا کاروبار نہیں ہے۔
عظیم فن کاروں کی سوانح حیات کے مطالعے سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ یا تو وہ غیر معمولی قوت رجولیت کے مالک تھے یا نمایاں ہم جنسی میلان رکھتے تھے۔ مثلاً سوفو کلیز کی زندگی عشق بازی اور کام جوئی میں گزری، سیفو کے اپنی شاگرد لڑکیوں کے ساتھ ہم جنسی کے تعلقات تھے۔ ورجل ہم جنسی تھا، اس نے عمر بھر شادی نہیں کی۔ اطالیہ کا معروف سنگ تراش لیونارڈ و ڈاونچی اور مائیکل اینجلو ہم جنسی تھے۔ نطشے نے مشہور مصور رفائیل کے بارے میں کہا ہے کہ ”جنسی نظام کی حدت کے بغیر رفائیل پیدا نہیں ہو سکتا۔
“ شیکسپیئر اور مارلو ہم جنسی تھے۔ شیکسپیئر نے تو اپنے محبوب لڑکوں سے ایک سو سے زائد سانیٹوں میں اظہار عشق کیا ہے۔ شیخ سعدی خوب صورت حمامی لونڈوں کو گھورنے کے لیے کئی کئی میل پیدل سفر کر کے جایا کرتے تھے۔ میر تقی میر کے دواوین دلّی کے لونڈوں سے بھرے پڑے ہیں۔ گوئٹے غیر معمولی جنسی توانائی کا مالک تھا، اس نے بے شمار عورتوں سے عشق کیا۔ ونکل مان، والڈ پیٹر اور آ سکر وائلڈ ہم جنسی تھے۔ آ سکر وائلڈ پر سدومیت کا جرم ثابت ہو گیا اور اسے قید کاٹنی پڑی۔
آندرے ژید اپنی سدومیت کا ذکر دلچسپ انداز میں کرتا ہے۔ عربی کا معروف شاعر ابو نواس سدومی تھا، اس نے امردوں کی تعریف میں پر جوش قصائد لکھے ہیں۔ ورلین اور راں بو کا آپس میں ہم جنسی معاشقہ تھا۔ ایک بار دونوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو گیا، ورلین نے راں بو پر طمنچہ داغ دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا اور ورلین کو دو سال کی قید ہوئی۔ ایلن گنس برگ اور پیٹرو سلوفسکی چودہ برس تک ہم جنسی رشتۂ ازدواج میں منسلک رہے۔
وکٹر ہیوگو، بالزاک اور بائرن پر عورتیں پروانوں کی طرح نثار ہوتی تھیں۔ وکٹر ہیوگو اسی برس کی عمر میں بھی جنسی ملاپ کرتا رہا۔ موپاساں قحبہ خانوں میں جا کر ایک ہی تخلیے میں کئی کئی کسبیوں کے ساتھ تمتع کیا کرتا تھا، اس کی موت آتشک میں مبتلا ہو کر ہوئی۔ بائرن نے سولہ برس کی عمر میں اپنی بڑی سوتیلی بہن آگسٹا کے ساتھ معاشقہ کیا۔ فرانس کا مشہور مورخ والٹیئر بڑھاپے میں اپنی بھانجی سے معاشقہ کرتا رہا۔ آلڈس ہکسلے یہودی کسبیوں کی صحبت میں خوش رہتا تھا، یہ بھی آتشک میں مبتلا ہو کر اس جہان فانی سے رخصت ہوا۔ مشہور مصور وین گوغ گھٹیا درجے کی ٹکہائیوں کے پاس جایا کرتا تھا۔ اس نے اپنی بہترین تصویریں پاگل خانے میں تخلیق کی تھیں، بالآخر اس نے 37 برس کی عمر میں خودکشی کر لی۔
شاعری، تمثیل نگاری، موسیقی، مصوری اور سنگ تراشی میں جنسی محرکات و عوامل شروع سے کار فرما رہے ہیں۔ جذبۂ عشق جنسی جبلت ہی کا پروردہ ہے، کیوں کہ ”بقول صوفیوں کے نامردی میں عشق نہیں ہوتا، اس کے لیے رجولیت ضروری ہے۔ “ فردوسی کے شاہنامے میں زال اور رودابہ کا افسانہ، ایلیڈ میں پیرس اور ہیلن کا عشق، کالی داس کے ناٹک میں وکرم اور اروسی کا پیار، طربیۂ خداوندی میں دانتے کا بیاطر سچے سے عشق، فاؤسٹ میں فاؤسٹ اور گریچن کا رومان، رومیو جولیٹ میں دو دشمن خاندانوں سے تعلق رکھنے والوں کا المناک پیار، ٹالسٹائے کی ”جنگ اور امن“ میں آندرے اور نٹاشا کی محبت، ہیوگو کے ”نوترادم کا کبڑا“ میں کواسمیڈو کی خانہ بدوش لڑکی سے بے پناہ محبت وغیرہ، قارئین کے ذہن و قلب پر جمی ہوئی خود غرضی اور منافقت کی پھپھوندی کو دور کرتی ہے اور وہ خود فراموشی کے جذبات سے سر شار ہو جاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ان فن پاروں میں جنسی جبلت مرتفع ہو کر انسان کے تزکیۂ نفس اور رفعت احساس کا سبب بن جاتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


