ایک انجینیر اور فضائیہ کی ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ سیلانی طبیعیت کے حامل ہوں، آوارہ گرد ہوں، بے چین روح ہوں، آپ کا گھر میں جی نہ لگتا ہو، ویرانے آپ کو صدائیں دیتے ہوں، آپ کو بزرگوں کی بہت دعائیں یا کچھ بد دعائیں ہوں، آپ کی کوئی سفارش نہ ہو، آپ کے پیر میں چکر ہوں، کھنڈرات آپ کے لیے کشش کے حامل ہوں، کوئی چڑیل آپ کے عشق میں گرفتار ہو، تو پاک فضائیہ کی ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ ہی آپ کا مقدر ہے۔

اب ہمارے وہ دوست جوایرڈیفنس سے ناواقف ہیں اور موبائل یونٹ کو موبائل فون کی کوئی قسم جان رہے ہیں بلکہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کے ساتھ کچھ فری نائیٹ پیکچز بھی ہیں۔ وہ جان لیں کہ ہم نے اپنے چند دوستوں کا حال ان پیکچز میں یوں پایا کہ ہمارے نزدیک یہ کسی دعا کے زمرے میں نہیں آتا۔ توصاحبو، ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ ایک ماڈرن خانہ بدوشوں کا گروپ ہے۔ کہنے کو ان کا ہیڈکواٹر کسی فضائیہ کی بیس میں ہوتا ہے، مگر حقیقت میں ان کے پاؤں میں پہیے اور کاندھوں پر بسترے لدے ہوتے ہیں۔

ہمارے دوست جوگی مراد آبادی نے کچھ وقت ایسی یونٹ میں گزارا تو کہنے لگا، ”گنہگار ہوں، نماز کی طرف تو نہ آسکا مگر بخدا اس نوکری کے بعد سے تبلیغی جماعت کی دل سے عزت کرنے لگا ہوں“۔ ٹرکوں پر نصب ریڈارخانہ بدوشوں کی گھوڑا گاڑی کی مانند ہوتے ہیں بلکہ پرانے ہونے پر ہم نے تو اکثر کو گدھا گاڑی کے موافق پایا۔ اکٹر جائیں تو جو مرضی کر لو کیا مجال کہ ان کو اپنی جگہ سے ہلا پائیں۔

اپنی ابتدائی نوکری ہم نے ایسی ہی ایک یونٹ میں کی۔ یہ تعیناتی اپنے ساتھ یادوں کی ایک بہار لے کر آئی جو آج بھی ذہن کے گوشوں کو مہکاتی ہے۔ یہ وقت شہروں سے دور ویرانوں کی خاک چھانتے گزرا۔ کبھی کراچی سے باہر ساحل سمندر پر کیپ ماؤں س کی پہاڑی پر شب باشی کی، کبھی تھر کے صحرا میں دن گزارا۔ قاضی احمد سے ملاقات کی گو یہ انسانی ملاقات نہ تھی کہ قاضی احمد اندرون سندھ کا ایک قصبہ ہے۔ ہالہ کی دستکاریوں سے مستفید ہوئے، بادشاہ نہ ہوتے ہوئے بھی کوٹ ڈیجی کے قلعے پر ڈیرے ڈالے۔

ہمارا اس سے قبل تھانے کچہری سے کوئی واسطہ نہ پڑا تھا مگر اب روز کا تھانے آنا جانا لگا رہتا تھا گو یہ تھانہ پولیس کا تھانہ نہ تھا بلکہ تھانہ بلا خان کا قصبہ تھا کہ جہاں اکثر ہمارا پڑاؤ ہوتا تھا۔ حیدرآباد کے پاس سے گزرتے گلاب کے باغوں کی خوشبو ہے کہ آج بھی تازگی کا احساس دلاتی ہے۔ ٹنڈوآدم کی سجی کا ذائقہ اب بھی زبان کی سطح پر زندہ ہے۔ میرپور خاص کے سندھڑی آم، شہداد پور کے کیلے، شکارپور کا اچار، غرض یہ نوکری ایک ذائقوں کی دنیا سے روشناس کرا گئی۔ انہیں ذائقوں میں بعض مقامات کا گدلا گھاری پانی بھی تھا، جسے پینے کے لیے زبردستی منہ کو کھولنا اور آنکھوں کو بند کرتا پڑتا تھا۔

بحثیت ایک جونیئر انجنیئر کے ہماری سواری ان سفروں میں ہینو یا دوسرے ٹرکوں پر ہوتی تھی کہ آدمی سراپا سفر میں رہتا تھا گو زیادہ مواقع پر یہ سفر انگریزی زبان کا سفر تھا۔ مٹی کے بندے کا مٹی کے ساتھ رشتہ مضبوط ہوتا۔ منزل تک پہنچتے مٹی و مٹی ہو گئے ہوتے۔ بال گرد آلود، چہرہ مٹی رنگ، بینائی بس قریب کی رہ جاتی تھی۔ ٹرک میں تیل کے بیرل، ٹینٹ، سنتری فوجی جوان، ایئر مین، سویلین لاسکر، بانس، کیموفلاج نیٹ، غرض خانہ بدوشوں کے قافلے میں صرف بھیڑ بکریوں کی کمی رہ جاتی بلکہ کئی مواقع پر یہ کمی بھی پوری کر لی جاتی تھی۔

دور دراز علاقوں کے یہ سفر مٹی کے ساتھ ساتھ آدمی کے بھی قریب لائے۔ دیہات کے رہنے والے محبتوں کے امین نکلے۔ ان کے دل ان کے حالات سے کہیں کشادہ پائے۔ اسی سالہ اللہ ڈینو حُر آج بھی یاد ہے جو دس میل کا فاصلہ پیدل چل کر ہمارے کیمپ صرف ہماری خیریت پوچھنے آیا۔ مہمان علاقے میں آئیں تو میزبانی فرض ہوتی ہے۔

یہ تجربہ انسان دوستی کا تجربہ تھا۔ بندہ صحرائی کو جاننے کا، نعمتوں کے شمار کرنے کا، برداشتِ انسانی کو دیکھنے کا۔ کئی میل تک آبادی کا نام و نشان نہیں، سکول گنتی کے، ہسپتال کسی گنتی میں نہیں، لوگ جفاکش اور محبت آمیز۔ اس نوکری نے مجھے پاکستان سے محبت سکھائی، اپنے ماتحتوں سے آشنا کیا۔ چکوال کا لمبا تڑنگا ریاض ڈرائیور تھا کہ مشکل سے مشکل راہ پر ریڈار کا بڑا ٹرک لے جانے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ اُس نے ”دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے“ کے مصداق متروک سڑکوں اور خطرناک راستوں پر ایسے ٹرک چلائے کہ جملہ مسافران آیات کا ورد ہی کرتے رہے۔

سکھر شہر کے باہر اروڑ کا علاقہ ہے کہا جاتا ہے کہ سندھ کی پہلی مسجد یہیں بنی تھی، یہیں ہم نے کالی ماتا کا مندر بھی دیکھا۔ وہاں ایک بنجر پہاڑ پر ریڈار چڑھانا تھا۔ یہ ریڈار بڑے فلیٹ بیڈ ٹرک پر نصب تھا۔ بے قاعدہ سا راستہ چوٹی تک جاتا تھا، راستے کی چوڑائی بھی کم تھی، راستہ بھی کچا تھا کہ ریڈار ٹرک کے بھاری وزن میں اُس کے بکھر جانے کا خطرہ تھا۔ باقی ڈرائیوروں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ میں جو کانوائے کا انچارج تھا، پریشان تھا کہ کیا کروں۔

ایسے میں ریاض آگے ہوا کہ میں یہ ریڈار اوپر لے کر جاتا ہوں۔ جوانی کے خون نے جوش مارا اور میں بھی ریاض کے ہمراہ ٹرک پر چڑھ کر ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ سارا کانوائے ٹرکوں سے اتر کر اس سفر کے منظر کا متمنی تھا۔ گھر گھر آئی کیبل سے قبل کا دور تھا، ہالی وڈ کی تھرل موویز ابھی نہ پہنچی تھیں سو لوگ ایسے معرکوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ میں اگلی سیٹ پر بیٹھ تو گیا کہ ریاض کو حوصلہ رہے مگر اچھا ہوا کہ اُس نے ساری توجہ کچے راہ پر ہی رکھی، ہمارے چہرے پر نہ ڈالی۔

ٹرک کا ٹائر ہلکا ہلکا گھومتا تھا، کھائی کے ساتھ، پہاڑ کے چوٹی کو جاتے کچے راہ کی بالکل آخری حد کنارے پر۔ ہمارے دل کی دھک دھک اور ٹائر کی حرکت ہمیں تو بخدا بالکل ایک ہی لگ رہی تھیں۔ وقت تھم سا گیا تھا اوراُس دن مولنا مرسلین کی یاد کرائی سب دعائیں ایک کے بعد ایک تسلسل سے یاد آرہی تھیں۔ ہم نے ایک ہاتھ ڈیش بورڈ پر سختی سے رکھا تھا کہ کپکپاہٹ پر قابو رہے اور دوسرا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر تھا کہ کہیں چھلانگ لگانے کی ضرورت آئے تو کسی ڈھونڈ میں دیر نہ لگے۔

خیال ہے کہ جامد وقت میں ایک عرصے بعد حرکت ہوئی اور ہم پہاڑ کی چوٹی پر تھے۔ ٹرک سے اترا تو نہ جانے کیوں قمیض سینے سے تنگ سی لگنے لگی، لگا کہ سینہ دو انچ بڑھ گیا ہے۔ ریاض کو دیکھا تو محسوس ہوا کہ قمیض یکایک واپس اپنے ناپ کی ہوگی ہے۔ جان گئے کہ کئی کمانڈروں کی کامیابی ایسے گمنام ریاضوں ہی کی مرہونِ منت ہے۔

اس واقعہ کے بعد سے اب حوصلہ ہے کہ پلِ صراط سے بھی کامیاب گزر جائیں گے۔

ریاض ڈرائیورتھا تو دوسری طرف سرگودھا کا یار محمد ریڈیو ٹیکنیشن تھا۔ پلک جھپکتے ریڈیو ریلے کا ٹاور کھڑا کرکے کمیونیکیشن بحال کر دیتا تھا۔ میانوالی کا سپاہی واصف تھا کہ ویرانے میں ماہیا گاتا توچرند پرند رک جاتے تھے۔ ہم نے تو اُس کے ماہیے پر کئی پرندوں کو اپنی ماداؤں کو بڑی محبت آمیز نگاہوں سے دیکھتے دیکھا، یا شاید ہماری بھی نادانی کی عمر تھی۔

اس تمام قصے میں اپنے ساتھ جانے والے باورچیوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ چاچا رفیق تھا کہ اپنے ہاتھ کے کھانوں سے جنگل میں منگل کر دیتا تھا۔ یہیں ہم نے جوانوں کی اپنے افسران سے فرمانبرداری دیکھی۔ غرض یہ ایک خاندان تھا، ایک دوسرے کی محبتوں میں شریک، ایک دوسرے کا خیال رکھتا۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ اگر آپ نے انسان کو جاننا ہے، اپنے ملک سے روشناس ہونا ہے تو جنگل کی طرف چل نکلیں۔ مگر اکیلے نہیں، ایک ایر ڈیفنس کا کانوائے ساتھ لیں۔ ایک حقیقتِ پنہاں ہے جو آپ پر آشکار ہونے کے انتظار میں ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالبعلمی کے دور میں آپ نے اپنی یونیورسٹی کا400 میٹر کی دوڑ کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ اپنے شوق سے کے-ٹو پہاڑ کے بیس کیمپ تک ٹریکنگ کر چکے ہیں۔

atif-mansoor has 40 posts and counting.See all posts by atif-mansoor