ہرے بھرے شاہ کا مزار اور پانچ ہزار پاکستانیوں کی لاشیں – مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر فیصل واڈا کہتے ہیں کہ کرپشن کے خاتمے اور ملکی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ پانچ ہزار پاکستانیوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔ سوال کیا گیا کہ آئین اور قانون کی روشنی میں وہ یہ کارنامہ کیسے انجام دیں گے۔ عالی مقام وزیر نے جواب میں سخت افسوس ظاہر کیا کہ آئین اور قانون ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ نیز یہ کہ اگر قانون و آئین کی پیروی کی گئی تو ان کی بیس نسلیں بھی پانچ ہزار پاکستانیوں کی گردن میں پھانسی کا پھندا دیکھنے سے محروم رہیں گے۔ غور فرمائیے کہ وزیر محترم نے دستور اور قانوں کو بائیس کروڑ پاکستانیوں کی قسمت بدلنے میں افسوسناک رکاوٹ قرار دیا ہے۔ خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے۔ سو فیصل واڈا کے اس قول فیصل کے بارے میں بھی کچھ شوریدہ سر اقبال کا مصرع دہراتے سنے گئے ہیں، نکلی تو لب اقبال سے ہے، کیا جانیے کس کی ہے یہ صدا۔ یہ سوال فی الحال اٹھا رکھتے ہیں کہ فیصل واڈا کی دعائے بدفال میں کس کے ارادوں کی بازگشت ہے۔ آباد بستیوں پر جبر کے قہر کی ایک کہانی ظہیر دہلوی نے ’داستان غدر‘ کے عنوان سے لکھی تھی۔ 1911 میں وفات پانے والے ظہیر دہلوی بہادر شاہ ظفر کے داروغہ ماہی مراتب رہے تھے۔ انتظار حسین نے اپنے ناول ’بستی‘ میں 1971 کا آشوب بیان کرتے ہوئے ظہیر دہلوی کی خود نوشت سے بھی استفادہ کیا تھا۔ ایک اقتباس دیکھئے۔

”ہرے بھرے شاہ کے مزار اور شاہجہانی مسجد کے بیچ کھڑا ہوں اور سوئے فلک دیکھتا ہوں۔ یا میرے مولا! حضور ظل سبحانی کے ہوتے یہ کیسا سایہ مسجد کے میناروں اور قلعے کی برجیوں پر کانپتا دیکھتا ہوں۔ ایک ننگ دھڑنگ فقیر، کڑبڑی داڑھی، میلی لمبی الجھی زلفیں، سرخ انگارہ آنکھیں، وحشت سے چلایا ’پرے ہٹ، دیکھتا نہیں، لاشیں پڑی ہیں‘۔ ’لاشیں؟ کیسی لاشیں؟ کہاں ہیں؟‘ میں نے اردگرد نظر ڈالی۔ فقیر چپ ہوا، بڑبڑایا جیسے اپنے آپ سے کہ رہا ہو: ’زبان بند رکھو۔ تمہیں اسرار الٰہی فاش کرنے کو کس نے کہا ہے؟‘پھر ہرے بھرے شاہ کے مزار کی طرف چلا۔ مزار کے پاس پہنچتے پہنچتے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔“

قدیم زمانے میں مجذوب صفت انسانوں سے آنے والی آفات کے اشارے اخذ کئے جاتے تھے۔ اب ہم ایک آزاد ملک کے باشندے ہیں کیونکہ ہمارے اجداد نے سیاسی جدوجہد کے ذریعے اس زمین سے فرنگی کی خاکی پلٹن کا عذاب ختم کر دیا تھا۔ ہماری ریاست کا بندوبست دستور کے تابع ہے اور یہ دستور ہمیں فیصل واڈا کی مزعومہ چیرہ دستیوں سے تحفظ دیتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اسی دستور کے تحت منتخب ہوئی ہے۔ اگر فیصل واڈا دستور کو ملکی ترقی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں تو اس حکومت کا آئینی جواز ہی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ فیصل واڈا سمیت تمام حکومتی ارکان نے دستور کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے۔

انسانی تاریخ میں دہشت کے ذریعے معاملات سلجھانے کا تجربہ بار بار کیا جا چکا ہے۔ رابسپیئر انقلاب فرانس کے بانیوں میں سے ایک تھا۔ اس نے فروری 1794ءمیں فرانس کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دہشت کی وکالت کرتے ہوئے کہا تھا، ’معمول کے حالات میں حکومت کا منصب فلاح کو یقینی بنانا ہے لیکن انقلاب میں دہشت ہی حکومت کی بنیاد قرار پاتی ہے۔‘ دہشت کے اس تصور کی روشنی میں فرانس کے 40000 شہریوں کی گردنیں کاٹی گئیں۔ مرنے والوں میں رابسپیئر خود بھی شامل تھا۔ حکومت بذریعہ دہشت کی مخالفت کرتے ہوئے لارڈ ایکٹن نے کہا تھا کہ اقتدار میں بدعنوانی کا رجحان پایا جاتا ہے لیکن مطلق العنان حکومت ناگزیر طور پر بدعنوان ہوتی ہے۔ لارڈ ایکٹن کہتا تھا کہ شہریوں کی آزادی کا تحفظ کرنے سے قاصر حکومت اپنا استحقاق کھو کر محض طاقت کے استعمال تک محدود ہو جاتی ہے۔ عوامی تائید سے بے نیاز اندھی طاقت ہی کا خمار تھا کہ یحییٰ خان نے 22 فروری 1971 کو ایک اجلاس میں کہا کہ ’تیس لاکھ بنگالی مار دیے جائیں تو باقی خود بخود مطیع ہو جائیں گے‘۔ 1971ء کے خونی برس میں مرنے والوں کی تعداد پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں 26000 کا عدد تسلیم کیا جاتا ہے لیکن بنگلادیش کی سوئی تیس لاکھ پر اٹکی ہوئی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ 30 لاکھ کا یہ عدد خود یحییٰ خان نے بنگالیوں کے منہ میں رکھا تھا۔

حالیہ تاریخ میں حکومت کے ہاتھوں اپنے ہی شہریوں کی ہلاکت کی چند مثالیں دیکھئے۔ انقلاب روس کے بعد سوویت یونیں کے ستر برس میں محتاط اندازے کے مطابق ریاستی استبداد کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد گیارہ کروڑ تھی۔ ہٹلر کے نازی فلسفے کے کشتگان کی تعداد دو سے تین کروڑ بتائی جاتی ہے۔ چین میں ماؤزے تنگ کی ’عظیم جست‘ کے نتیجے میں ساڑھے چار کروڑ اموات ہوئیں۔ ثقافتی انقلاب میں تیس لاکھ افراد مارے گئے۔ شاہ ایران کے خلاف احتجاجی تحریک میں قریب تین ہزار افراد ہلاک ہوئے لیکن اسلامی انقلاب کی افتاد کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جولائی 1988 میں خمینی کے ایک حکم پر 30000 سیاسی قیدی قتل کئے گئے۔ موت کا یہ کھیل کیا سکھاتا ہے؟ اول یہ کہ ریاست کی طاقت عوام کے تحفظ کی بجائے برسراقتدار ٹولے کے مفاد میں استعمال کی گئی، دوسرے یہ کہ جانوں کے بے دریغ زیاں کے باوجود جبر اپنے موعودہ نتائج حاصل نہیں کر سکا۔

فیصل واڈا کے ضمن میں پہلا خدشہ تو یہ ہے کہ وہ ملک کو درپیش بحران کی سمجھ ہی نہیں رکھتے۔ ان کے رہنما عمران خان کہتے ہیں کہ انہیں حکومت میں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ نظام حکومت میں کیسی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ کیا ضمانت ہے کہ فیصل واڈا کی خواہش کے مطابق پاکستانیوں کا خون پانی سے ارزاں کر دیا جائے تو ملک کی قسمت بدل جائے گی؟ فیصل واڈا اور ان کی جماعت سمجھتے ہیں کہ کرپشن محض مالی خرد برد کا نام ہے۔ کرپشن ایک وسیع تر اصطلاح ہے۔ پاکستان کا اصل بحران ہمارے عمرانی معاہدے کی شکست ہے۔ ہم شہری اور ریاست کے درمیان وہ رشتہ قائم نہیں کر سکے جس میں ریاست شہریوں کا تحفظ کرتی ہے اور شہری ریاست کے قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔ شہری اور ریاست میں ایسے نامیاتی تعلق کا راستہ دستور کی بالادستی اور جمہوری عمل کے تسلسل سے نکلتا ہے۔ سیاسی مخالفین کی سرکوبی، میڈیا کا گلا گھونٹنے اور شہریوں کے من مانے قتل کی خواہش سے تو حکومت کی کمزوری اور ریاست کا عدم استحکام جنم لیتے ہیں۔

موجودہ حکومت دستوری تسلسل میں ملکی انتظام کی امین ہے، اسے نجات دہندہ کا فوق العادت منصب نہیں سونپا جا سکتا۔ شہریوں کی جان اعداد و شمار کا کھیل نہیں۔ یہاں صفر اور ایک کے درمیانinfinity حائل ہے۔ فیصل واڈا پانچ ہزار شہریوں کی لاشیں مانگتے ہیں، انہیں ایک پاکستانی کی جان پر بھی اختیار نہیں مل سکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ پاکستان کے شہریوں کی زندگیاں فیصل واڈا یا کسی اور برخود غلط مسیحا کی ناقص فہم کے تابع کر دی جائیں۔ ہمارے بدخواہوں کا انجام میر تقی میر لکھ گئے ہیں:

سنا جاتا ہے شہر عشق کے گرد

مزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •