قوم کو تاریخی بجٹ مبارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاشبہ اس سال خطِ غربت سے نیچے چلے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد غیر معمولی ترقی ہو گی۔

قوم کو مبارک ہو ”وژنری“ حکمرانوں نے اپنے ملکی و غیر ملکی آقاوں کی مکمل اشیرباد سے تاریخ کا سب سے ”بہترین اور انقلابی“ بجٹ پیش کر دہا پے۔  ٹیکس کے اہداف ہی کامرانی کا اعلان فرما رہے ہیں۔  غریبوں اور سفید پوشوں کے لیے ریاست مدینہ کا جنت افروز بجٹ ہے۔  روزمرہ استعمال کی ساری اشیاء مہنگی ہو جائیں گی تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔  اہم بات یہ ہے کہ پاپے سستے ہوں گے بسکٹ بھی۔ اب اگر ڈاکٹر یہ کہے کہ بیکری کی چیز نا کھانا تو اس کی کون سننے۔

چینی آٹا کھانے کی اشیا تو مہنگی ہونی تھیں اس پر ادھم کیوں؟ سرکاری ملازمین اس بجٹ کا اصل ٹارگٹ ہیں بجٹ سے پہلے روپے کی قدر کے انقلابی انداز میں گر جانے، بجلی، پٹرول وغیرہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے اور کم و بیش پچیس سے پچاس فیصد مہنگائی نے تنخواہ دار طبقے کو پہلے ہی بے حال کر رکھا تھا کہ اب اس طبقے کو تنخواہ میں پانچ فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا اور ٹیکس سلیب کے ذریعے اضافے سے زیادہ ٹیکس بڑھا کر مالیاتی چالاکی کا شاطرانہ مظاہرہ کیا گیا۔

اب بے چارہ تنخواہ دا طبقہ مزید ٹیکس کے بوجھ تلے بھی پسے گا اور بالواسطہ طور پر مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کو بھی بھگتے گا اور طُرفہ تماشا یہ کہ اسے گڈ گورننس کے نعرے کی داد بھی دینی ہوگی۔ سرکاری ملازم ہونے کے ناطے وہ ریاست مدینہ میں اظہار رائے کی آزادی سے بھی محروم ہے۔  چلیے اس قنوطی گفتگو کو رہنے دیں خوش ہو جائیں کہ وہ کابینہ جس کے زیادہ تر وزراء یہ احسان جتلاتے ہیں کہ وہ تنخواہ نہیں لیتے یا پھر ترین اور فیصل واڈا جیسے غریب وزراء کی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کا اعلان ہے قوم کو یہ بتائے بغیر کہ ممبران اسمبلی اور کابینہ کا اصل ذریعہ تنخوہ نہیں الاونسز ہیں جن میں کٹوتی نہیں ہوئی۔

تاہم خوبصورت شکلوں اور ماڈلنگ پر داد دینے والے ارسطو بغلیں بجا رہے ہیں کہ تاریخ میں پہلی بار غریب وزراء کی تنخواہ میں دس فیصد کمی کر کے ریاست کو مدینہ بنا دیا گیا ہے۔  خیر مبارک تو بنتی ہے کہ موبائیل فون پر تو ویلیو ٹیکس ختم کر دیا۔ ہر ترقی یافتہ مہذب ملک ٹیکس دیتا ہے تو ہم کو بھی اس صف میں آنے میں کیا شرم۔ یہ تاجر پتہ نہیں کیوں چلائے جا رہے ہیں عوام تو سن ہیں۔ ۔  اگر کاروبار چلانا مشکل ہورہا ہے تو نا چلاؤ۔

کون کہتا ہے کہ کاروبار کرو۔ ٹیکس کا جو ٹارگٹ مقرر کیا گیا ہے اور پورا ہونے کا امکان نہیں تو کیا ہوا۔ بجٹ میں ایک ہی جست میں چینی کی قیمت میں لگ بھگ چار روپے فی کلو اضافہ کر کے جہانگیر ترین کا الیکشن میں ممبران اسمبلی خریدنے کا سارا خرچ سود سمیت پہلے ہی بجٹ میں واپس کر دیا گیا ہے، تبدیلی تو آئی ہے حکومت کسی اے ٹی ایم کا احسان نہیں چکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھ رہی۔ بجٹ میں غیر ملکی کاروں کی در آمد پر پابندی نہیں لگائی گئی۔

یہ کتنی بڑی رعایت ہے۔  800 سی سی والی گاڑی پر ٹیکس۔ 50 ہزار روپے تنخواہ والے پر بھی ٹیکس۔ چھوڑو یار۔ کون سب کچھ لکھے۔  سب ہرا ہرا نظر آرہا ہے۔  بجٹ آگیا۔ ماہر معاشیات حفیظ پاشا نے تو یہ کہہ کر ڈرا ہی دیا ہے کہ لوئرمڈل کلاس گھرانے پراگلے سال ٹیکس، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے سے 41 ہزارروپے سالانہ اضافہ ہوجائے گا۔ خاندان کی آمدنی ماہانہ آمدنی 30 ہزار تک کم ہوجائے گی۔ اشیائے خوردونوش پرٹیکس لگا دیا ہے۔

عام گھریلو اشیاء کی قیمتیں 17 فیصد بڑھ جائیں گی۔ ماہرین معاشیات کو رہنے دیں ان کا تو کام ہی ڈرانا ہے۔  قوم خوش ہو کہ خوبصورت قیادت نے بجٹ پیش کر کے قوم پر جو احسان کیا ہے وہی تبدیلی ہے۔  قوم اعداد و شمار کے پرانے گورکھ دھندے کو بھول کر یہ دیکھے کہ ملک کے اصل حکمرانوں کی مطلق شفقت سے حکومت نے پوری تیاری سے بجٹ پیش کیا ہے اس میں اصل حاکم طبقے کے دیدہ و نادیدہ مفادات محفوظ ہی ہوں گے۔  رئیل سٹیٹ ترقی کرے گا تو خسارے پورے ہوتے رہیں گے۔

غرباء کے ساتھ سول سوسائٹی کا سفید پوش طبقہ پِس کر رہ جائے گا اور اس کا فائدہ یہی ہوگا کہ قوم میں پہلے سے سسکتا ہوا ایک طبقہ کم ہو جائے گا یہی اس بجٹ کا حُسن ہے کہ یہ امیر کو اور امیر اور غریب کو اور غریب کرنے میں اپنا پرانا کردار نبھاتا رہے گا۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کے بے فکر دان شور اسے انقلابی اور عوام دوست قرار دینے کے لیے دور دور سء کوڑی لائیں گے۔  ان دان شوروں کی اصل کامیابی ہے کہ کوئی ان سے منطقی مکالمہ نہیں کرے گا کیونکہ ان کا خیال و اسلوب علمی و تاریخی شعور سے دو قدم آگے تبدیلی کے تڑکے کی مہک سے مالا مال ہوتا ہے۔  ان کی بد کلامی کے خوف سے ہر صاحب قلم و قرطاس پر فرض ہے کہ وہ یہ لکھے کہ یہ شاندار بجٹ ہے جسے پوری شان بے نیازی سے تیار کر کے قوم کے سامنے رکھ دیا گیا ہے اب تمام مقلدین کا سیاسی فریضہ ہے کہ اس بجٹ کو فضل ربی سمجھ کر ریاست مدینہ کے حکمرانوں اور ان کے لانے والوں کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر ”دعا“ دیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •