قراقرم کے پہاڑوں میں واقع نمکین پانیوں کی ایک جھیل


گلگت بلتستان کے مرکزی شہر گلگت سے 144 کلومیٹر کے فاصلے پر گلمت کا مشہور اور خوبصورت مقام واقع ہے۔ گلمت سے تقریباً اڑھائی کلومیٹر آگے قراقرم ہائی وے پرحسینی نامی مقام واقع ہے جو دریائے ہنزہ پر تعمیر کردہ معلق پل کی وجہ سے مشہور ہے۔ حسینی گاؤں سے ایک راستہ صاف اور شفاف پانیوں کی حامل بورتھ جھیل کی طرف بھی جاتا ہے جو یہاں سے 2 کلومیٹر کے فاصلے پ

ر پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ قراقرم ہائی وے پر لگے اطلاعی بورڈ راستے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آپ اس جھیل پر گاڑی کے ذریعے بھی رسائی حاصل کرسکتے ہیں لیکن راستہ کچا اور خاصا ٹوٹا پھوٹا ہے۔ اگر آپ کے پاس اپنی گاڑی نہیں تو بہتر ہے کہ یہ راستہ پیدل طے کریں۔ راستہ آسان ہے جس پر شارٹ کٹ مارتے ہوئے زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے میں جھیل تک رسائی ممکن ہے۔

خنجراب ٹاپ سے واپسی پر میں حسینی گاؤں اتر گیا۔ ایک بزرگ ٹیوٹا ویگن لیے یہاں موجود تھے جنہوں نے مجھے جھیل تک پہنچانے کی پیشکش کی لیکن چونکہ میں ایک ٹریکر ہوں اور راستے کا بھی علم تھا سو معذرت کرکے آگے بڑھ گیا۔ شارٹ کٹ لیتے ہوئے 20 منٹ بعد ہی میں بورتھ جھیل پر موجود تھا۔

قراقرم کے پہاڑوں میں کم و بیش 8500 فٹ کی بلندی پر موجود یہ جھیل لمبوتری شکل کی ہے۔ اندازاً 300 میٹر طویل اس جھیل کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی کم و بیش 200 میٹر اور گہرائی 90 فٹ ہے۔ ایک مقامی شخص کے مطابق بورتھ جھیل موسم سرما میں جم جاتی ہے۔ برف اس قدر مضبوط ہوتی ہے کہ اس کی سطح پر چل کر اسے عبور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار یہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ چند سال قبل ایک نوجوان اسی کوشش میں برف کی تہہ ٹوٹ جانے کے سبب جھیل میں گر کر موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔

بورتھ جھیل کی دو خصوصیات ہیں۔ اول کہ یہ نمکین پانی کی جھیل ہے جس کا پانی ہلکی سی کڑواہٹ لیے ہوئے ہے۔ دوم اس جھیل میں آپ کو نہ توپانی کہیں سے آتا دکھائی دے گا اور نہ ہی جھیل سے پانی خارج ہوتا ہوا نظر آئے گا۔ مقامی لوگوں کے مطابق جھیل کا پانی بدن کے داغ دھبوں اور پھوڑے پھنسیوں کے لیے شفاء کا درجہ رکھتا ہے۔ جھیل کے کناروں پر خود رو جھاڑیاں اس کے حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ مشرقی سمت مشہور معروف اور قدرت کا شاہکار پسو کونزPassu Kones بہترین دعوت نظارہ دیتی نظر آتی ہیں۔

بورتھ جھیل ایک بہترین پکنک پوائنٹ ہے جہاں تیراکی کے شوقین حضرات تیراکی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ کشتی رانی کی تفریح بھی فراہم کی گئی ہے۔ اگر رات قیام کا ارادہ ہو تو مناسب ہوٹل کے ساتھ ساتھ محدود بجٹ والے سیاحوں کے لیے جھیل سے ذرا فاصلے پر ارزاں کرائے کے حامل ٹینٹس بھی موجود ہیں۔ ان کے ٹینٹس کے منتظمین افتخار صاحب اور حقیقت صاحب اچھے تعاون کرنے والے لوگ ہیں۔

آخر پر ایک گزارش ہے کہ آپ بورتھ جھیل کی سیر کے لیے آئیں اور ضرور آئیں کہ اللہ رب العزت نے یہ حسین علاقے ہمارے لیے ہی تخلیق فرمائے ہیں لیکن ان علاقوں کی صفائی کا خیال رکھنابھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا یہاں آکر سیروتفریح سے لطف اندوزہونا۔ مجھے جھیل کے کنارے پر جوسز کے ڈبے، پلاسٹک بوتلیں اور ریپرز جابجا بکھرے نظر آئے۔ یہ ایک انتہائی غلط اورجاہلانہ روایت ہے کہ سیاح استعمال شدہ اشیاء کا کچرا یہیں پھینک جائیں۔

اگر آپ کو کوڑا کرکٹ پھیلانے کا اتنا ہی شوق ہے تو براہ کرم ان کوہساروں میں، ان وادیوں میں اور ان جھیلوں پر آنے کی زحمت گوارا نہ کریں۔ خوبصورت پاکستان کے باوقار کوہسار اس کام کے لیے موزوں نہیں۔ شمالی پاکستان کے خوبصورت علاقے اللہ رب العالمین کا انمول تحفہ ہیں۔ اس تحفے کی دل سے قدر کریں اور ان علاقوں کی صفائی اور پاکیزگی کا خاص الخاص خیال رکھیں۔ یہ ہماری نہ صرف دینی بلکہ قومی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

گندا پاکستان نہیں بلکہ ہم ہیں جو کھاتے ہیں، پیتے ہیں اور تفریح کرکے کوڑاکرکٹ ان خوبصورت پہاڑوں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ جس بیگ میں مشروب کی بوتل، بسکٹ کا پیکٹ اور Tea Bagآسکتا ہے اسی بیگ میں مشروب کی خالی بوتل، بسکٹ کا ریپر اور استعمال شدہ Tea Bag واپس بھی جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS