معیار، لگن اور مہارت کا فقدان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری بیوی اور بچیاں کافی حیران اور تھوڑا پریشان ہو گئیں۔ ہوا یہ کہ اتوار کی دوپہر بھارت اور پاکستان کا ورلڈ کپ کے لئے کھیلا میچ شروع ہوا تو میں ٹی وی لگا کر اپنے کمرے میں تنہا بیٹھے ہوئے اسے شدید انہماک سے دیکھنے میں مصروف ہو گیا۔ کرکٹ سے ایسی رغبت میں نے کبھی نہیں دکھائی۔ میرے پیاروں کے ذہن میں اگرچہ ”خیرہو“ والا سوال اٹھا تو حیرانی نہ ہوئی۔

کرکٹ کے میدان میں پاک۔ بھارت ٹاکرا ہورہا ہو تو مجھ ایسے ”بالغ“ ہونے کے دعوے دار بھی تو دوسروں کو ”کھیل کو کھیل ہی سمجھو، تخت یا تختہ والا معرکہ نہیں“ والی ہدایت دیتے رہتے ہیں، جذباتی ہوجاتے ہیں۔ دل کی پژمردگی کو مٹانے کے لئے ”اچھی خبر“ کی توقع دُعا کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

بہت اہتمام کے ساتھ مکمل انہماک سے یہ میچ اس لئے بھی دیکھنا چاہا کیونکہ گزشتہ کئی مہینوں سے سیاسی تماشوں کو نظرانداز کرتے ہوئے چند ایسے موضوعات کی تلاش میں ہوں جن کے بارے میں لکھا جائے تو قارئین کو اُکتاہٹ محسوس نہ ہو۔ روزی کمانے کے لئے کئی ایسے موضوعات ڈھونڈے جاسکتے ہیں جو اندھی نفرت اور عقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں آپ کو ”مردِ مجاہد“ ثابت کرنے کی حماقت سے بچائیں اور کرکٹ ایسے موضوعات میں سرفہرست ہو سکتا ہے۔

اتوار کا میچ شروع ہونے سے قبل میں نے وزیراعظم عمران خان کے لکھے پانچ ٹویٹس بھی پڑھ لئے تھے۔ کرکٹ سے اپنی پہچان بنانے والے کپتان نے سرفراز احمد کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ ٹاس جیت جائے تو بیٹنگ میں پہل کا فیصلہ کرے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ہماری موجودہ ٹیم کے کپتان نے مذکورہ ٹویٹس کو غور سے پڑھا ہو گا۔ ٹاس جیتنے کے باوجود مگر اس نے بھارت کو بیٹنگ کے لئے کہا۔ اس نے یہ فیصلہ کیوں کیا یہ بات مجھے کوئی مبصر سمجھا نہیں پایا۔

میچ کے پہلے دس اوور ختم ہونے کے بعد مگر کرکٹ کے بارے میں مجھ ایسے جاہل کو بھی سمجھ آگئی کہ اس کا فیصلہ غلط تھا۔ ہمارے باؤلر بھارتی اوپنرز کو جو گیند پھینک رہے تھے وہ وکٹ اُڑانے پر توجہ دیتے نظر نہیں آئے۔ عامر کی مہارت اگرچہ عیاں تھی مگر اسے ایمپائر نے متنبہ کیا کہ گیند پھینکنے کے بعد وہ روانی میں پچ کے درمیان آکر اسے خراب کر رہا ہے۔ حسن علی کی ”مہارت“ نظر نہیں آئی۔ بھارتی بلے باز بہت اطمینان سے مخالف ٹیم کے لئے ایک بڑا ٹارگٹ بنانے پر مکمل توجہ دیتے نظر آئے۔ ہمارے فیلڈروں میں بڑا سکور روکنے کی لگن بھی نظر نہیں آئی۔

پاکستان کی باری آئی تو ہمارے بلے بازوں میں اعتماد کا شدید فقدان نظرآیا۔ اپنا ایک ”سٹار“ باؤلر زخمی کروانے کے با وجود بھارتی باؤلرز مگر مسلسل ایسے گیند کرواتے رہے جن کا ہدف بلے باز کو غلط شاٹ کھیلے پر مجبور کرنا تھا۔ فیلڈرز نے یکسوہوکر چوکے روکے۔ ہمارے بلے بازوں کو اکثر دوسرا رن لینے کی مہلت بھی نہ دی۔ بھارتی ٹیم کے نظم، مہارت اور یکسوئی نے مجھے حیران سے زیادہ پریشان کیا۔ جی چاہا کہ ٹی وی بند کر دوں۔

اس خوف سے باز رہا کہ بیوی اور بچیاں مذاق اڑائیں گی۔ میری خوش بختی کہ ”جیو“ کے دوست رانا جواد نے کھانے پر بلالیا۔ وہاں گیا تو ”لاہور قلندر“ کا ”قلندر“ رانا فواد بھی موجود تھا۔ حامد میر میچ دیکھنے کو بضد مگر ”قلندر“ بددل ہوا میرے حالیہ کالموں کے بارے میں گفتگو میں مشغول ہوگیا۔ رانا فواد کا اصرار تھا کہ میرے کالم ان دنوں مایوسی پھیلارہے ہیں۔ وہ شگفتگی اور توانائی جو فواد کی نظر میں میری تحریر کا خاصہ ہوا کرتی تھی بہت تیزی سے معدوم ہوتی نظر آرہی ہے۔ خلوص سے بھرپور اس فیڈبیک نے مجھے مزید اداس کر دیا۔

گھرلوٹا تو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ایک وڈیو کے ذریعے اصرار کیا جارہا تھا کہ پاکستانی ٹیم کی شکست کا اصل سبب ہمارے چند کھلاڑیوں کا میچ کے آغاز سے سات گھنٹے قبل مانچسٹر کی ایک ”شیشہ بار“ میں جمع ہوکر دھوئیں کے مرغولے اڑانا تھا۔ سرفراز احمد سے مسلسل سوال ہورہا تھا کہ اس نے عمران خان جیسے نامور کھلاڑی کے ٹویٹ کے ذریعے دیے مشورے کے باوجود ٹاس جیتنے کے بعد بھارتی پلے بازوں کو میچ کا آغاز کیوں کرنے دیا۔

میچ کا جتنا حصہ میں نے پورے انہماک کے ساتھ دیکھا تھا اسے ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہنے کو مجبور پاتا ہوں کہ اگر پاکستانی بلے باز بھی پہل کاری کا انتخاب کرتے تو شاید اتوار کا میچ جیت نہ پاتے۔ اپنی ٹیم میں مجھ بدنصیب کو شدید مشق سے حاصل ہوئی مہارت اور یکسوئی کا شدید فقدان نظر آیا۔

اس فقدان کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجھے اپنے کھلاڑیوں پر غصہ کے بجائے رحم آنا شروع ہو گیا۔ ذہن میں بارہا یہ سوال اٹھا کہ ہم فقط اپنی کرکٹ ٹیم ہی سے خوش خبری کی توقع کیوں باندھ لیتے ہیں۔ کسی اور شعبے کی بابت سوچنے سے قبل اپنے گریبان میں جھانکا۔ ایسا کرتے ہوئے یہ اعتراف کرنے کو مجبور ہوا کہ میرے شعبے میں شدید مشق کے بعد لکھنے اور بولنے کی مہارت کے حصول کی لگن باقی نہیں رہی۔ صحافیوں کی عمومی شناخت اب ”لفافہ“ ہے۔ ان کی ساکھ برقرار نہیں رہی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس دیکھنے جاتا ہوں تو مسلسل یہ خیال آئے چلے جاتا ہے کہ 1985 سے اس ایوان میں معیار بہت تیزی سے گر رہا ہے۔ ہنگامہ، شورشرابا، فقرے بازی دُنیا بھر کی پارلیمانوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہر فریق مگر اپنے تئیں ”ایک حد“ طے کر لیتا ہے۔ اس حد سے نیچے گرنے سے شعوری اجتناب برتا جاتا ہے۔

کسی بھی ریاست کا اصل فریضہ محاصل کا حصول ہے۔ 2018 کے بجٹ میں اس ضمن میں جو اہداف طے ہوئے ان کے حصول میں ایف بی آر تاریخی اعتبار سے ناکام رہا۔ عمران حکومت نے چند ماہ اپنے ”ایڈ م سمتھ“ اسد عمر کو معیشت سنبھالنے کا کامل اختیار بخشا۔ وہ ناکام رہے تو ڈاکٹر حفیظ شیخ سے رجوع کرنا پڑا۔ ان کی معاونت کے لئے آئی ایم ایف کی نوکری چھوڑ کر ڈاکٹر رضا باقر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر بن کر اس ملک میں ”مالیاتی نظم“ متعارف کروانے پر مامور کروائے گئے ہیں۔

معیار، لگن اور مہارت کا ہمارے ہاں ہر شعبے میں دل دہلادینے والا فقدان نظر آرہا ہے۔ ایسے ماحول میں فقط پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو طعن وتشنیع کا نشانہ کیوں بناؤں۔ زوال کی گھڑی ہے جس کے جلد ازجلد خاتمے کی دُعا ہی مانگی جا سکتی ہے۔
بشکریہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •