خسارہ ہے اور مسلسل خسارہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اُن دنوں جس اخبار سے وابستہ تھا۔ شفیق مرزا مرحوم وہاں ادارتی صفحے کے انچارج تھے۔ ایک دن ان کے کمرے میں گیا تو ایک صاحب بیٹھے تھے۔ میچنگ شلوار قمیض اور واسکٹ۔ زریں کُھسّہ زیبِ پا۔ خوش شکل تعارف ہوا تو کہنے لگے ”آپ نے اپنی والدہ کی وفات پر جو کالم لکھا تھا ’رقّت طاری کرنے والا تھا“ یہ رحمت علی رازی تھے۔ دوستی کا ایسا جپھا مارا کہ پھر اپنے حصار سے نکلنے نہ دیا۔ زندہ دل۔ خوش گفتار فون جب بھی کرتے۔ آغاز مزاح سے کرتے اور کمال سنجیدگی سے کرتے!

کتنی ہی بیٹھکیں ان کے گھر پر ہوئیں۔ دستر خوان وسیع تھا۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ لاہور جانا ہو‘ انہیں معلوم ہو جائے اور وہ دعوت برپا کیے بغیر ٹلیں۔ اسلام آباد آتے تو فون کھڑکاتے۔ جہاں قیام ہوتا ’پہنچ جاتا۔ دوستوں کی محفل جمتی۔ دارالحکومت میں ان کی اتنی مصروفیات ہوتیں کہ کھانے کے لئے بمشکل ہاتھ آتے۔ اسلام آباد کلب کا کھانا مرغوب تھا۔ خوش خوراک تھے۔ 2000 ء میں سٹاف کالج لاہور میں کورس کر رہا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب رحمت علی رازی کی آواز بیورو کریسی کے لئے صورِ اسرافیل سے کم نہ تھی۔ ہفتہ وار طویل کالم۔ نوکرشاہی کے بڑے بڑوں کے چھکے چھڑا دیتا۔ خاص طور پر‘ پولیس سروس کے امور و رموز پر انہیں دسترس کمال کی تھی۔ پُلسیوں کی رگ رگ سے واقف تھے۔ ایک شام مجھے ملنے سٹاف کالج میں آ گئے۔ بہت دیر بیٹھے رہے اب یہ یاد نہیں کھانا ہم نے سٹاف کالج کے مَیس ہی میں کھایا یا کہیں باہر ’دوسرے دن پولیس سروس کے دو افسر جو اُسی بَیچ میں ہمراہ تھے۔

پاس تشریف لائے اور حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے پوچھا۔ ”یار! یہ رازی صاحب تمہارے دوست ہیں؟ “ جواب اثبات میں پا کر انہوں نے اپنی اپنی فرمائشیں اور سفارشیں پیش کیں۔ ”فلاں کے بارے میں ازراہِ کرم ہاتھ ہولا رکھیں“ ”مجھ سے تو ملوا دو“ ”فلاں کے خلاف ضرور لکھیں“ عرض کیا کہ رازی دوست تو ہیں مگر کسی کے کہنے پر زبردستی لکھتے ہیں نہ معاف کرتے ہیں۔ رازی صاحب نے اردو کالم نگاری کو کئی نئی اصطلاحات دیں۔

مثلاً میرمنشی! کم زلف۔ کچھ اور جو اس وقت ذہن میں نہیں آ رہیں۔ ایتوار کو ان کا کالم شائع ہوتا۔ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات دیر تک کام کرتے لکھ کر نوک پلک سنوارتے۔ پھر سنیچر کی صبح دیر تک سوتے۔ اس سارے عرصہ میں انہیں کسی سے کوئی التجا کرتے نہ دیکھا۔ محفل میں بات دھڑلّے سے کرتے اور کھڑک کر کرتے۔ سفارش کرتے تو جائز اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ کرتے۔ جس اخبار کی بات‘ کالم کے آغاز میں کی ’اسی میں ایک صاحب شعبہ مالیات میں تھے۔

مُغلوں کی نشانی! (بعد میں کراچی تعینات ہو گئے تھے ) ان سے ملاقات ہمیشہ رازی صاحب کے ساتھ ہی ہوتی۔ اُن دنوں میری تعیناتی جی ایچ کیو میں تھی۔ رازی صاحب نے حکم دیا کہ مغلوں کی اس نشانی کو ڈیفنس کلب لاہور کی ممبرشپ دلوانی ہے۔ ڈویژن کمانڈر میرے دوست تھے۔ ایک نیم سرکاری عریضہ ان کے نام لکھا اور عرضِ مدعا کیا۔ انہوں نے کرم فرمائی کی اور درخواست قبول کر لی۔ یہ اور بات کہ ممبر شپ لینے کے بعد‘ کسی موقع پر اُن صاحب سے آمنا سامنا ہوا تو پہچاننے سے تقریباً منکر ہی ہو گئے۔

رازی صاحب سے برسبیل تذکرہ ذکر کیا تو جو کچھ انہوں نے کہا ’وہ انسان کی خود غرضانہ نفسیات پر بہترین مگر خوب ہنسانے والا تبصرہ تھا۔ ہفت روزہ عزم اور روزنامہ جرأت شروع کیا تو خوش خبری دی! اصرار تھا کہ لاہور آؤں تو ان کے دفتر حاضری دوں! جیل روڈ کے ایک پلازہ میں یہ دفتر تھا۔ حاضر ہوا تو سارا سیٹ اپ دکھایا۔ ملاقاتی کو دیکھتے تو سب سے پہلے‘ گھر میں ہوں یا دفتر ’اس کے کھانے کا حکم دیتے۔ اس شام بھی کام و دہن کی تواضع کی اور اپنی فیاضی اور مہمان نوازی کی روایت برقرار رکھی۔

میری بڑی بیٹی کا ولیمہ لاہور میں ہوا۔ بھر پور شرکت کی۔ اُن دنوں چھوٹے بیٹے معاذ نے ذرا فیشنی قسم کی الٹرا جدید داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ دیکھ کر کہنے لگے ”اظہار الحق کے بیٹے کو یہ سٹائل نہیں جچتا“ جب بیرون ملک جانا اور ٹھہرنا شروع ہوا تو بدقسمتی سے ملاقاتوں میں کمی آ گئی تاہم ان کا ہفت روزہ (عزم) باقاعدگی سے موصول ہوتا رہا۔ فون پربھی رابطہ رہتا دو دن پہلے سوشل میڈیا پر اُڑتی سی خبر دیکھی۔ یقین بالکل نہ آیا اس لئے کہ چند ہفتے پہلے کراچی کے ایک دوست کے بارے میں ایسی ہی خبر سوشل میڈیا پر چلی اور بعد میں غلط ثابت ہوئی۔

دل کو یقین دلایا کہ یہ محض افواہ ہے۔ پھر سوشل میڈیا پر تواتر کے ساتھ خبر آنے لگی۔ رازی صاحب کے موبائل نمبر پر فون کیا۔ دھڑکتا ہوا دل آرزو کر رہا تھا کہ ان کی اپنی آواز آئے۔ مگر یہ ان کے برادر نسبتی خضر حیات صاحب تھے۔ پوچھا‘ خبر درست ہے؟ کہنے لگے ہاں! انا للہ و انا الیہ راجعون! رحمت علی رازی نے شہرت اورعزت ایک طویل جدوجہد کے بعد ’خالص محنت اور پروردگار کے کرم سے حاصل کی! گاؤں سے نکلے تو زمانے کی گردش نے بہت کچھ دکھایا اور بہت کچھ سکھایا۔

جہاں تک مجھے یاد پڑ رہا ہے کسی پولٹری فارم پر بھی کام کرتے رہے۔ فخر اور تحدیثِ نعمت کے طور پر بتاتے کہ کئی راتیں ناصر باغ میں کاٹیں۔ محنت دیانت اور اپنے کام میں لگن نے انہیں بلند مقام پر پہنچایا۔ ایوارڈ اور انعامات لئے۔ صحافت سے متعلق ملک گیر تنظیموں اور باڈیز میں بھر پور کردار ادا کیا۔ طویل عرصہ ملازمت کے بعد آخر میں اپنا ادارہ قائم کیا اور کامیابی سے چلا کر دکھایا۔ کب سوچا تھا کہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر اُن کا نوحہ لکھنا پڑے گا۔

کہتے ہیں اور سچ کہتے ہیں کہ آنے کی باری ہے مگر جانے کی نہیں! رحمت علی رازی پرکون سا ضُعفِ پیری طاری ہوا تھا۔ ابھی تو انہیں ادھیڑ عمر کہنے کو بھی دل نہیں کرتا تھا۔ مگر زندگی کے راستے کا یہی وہ موڑ ہے جہاں انسان کی بے بسی کا بورڈ لگا ہے۔ ہر رات سوتے ہیں۔ ہر رات روح قبض ہوتی ہے۔ پھر صبح‘ لوٹائی جاتی ہے مگر کوئی گارنٹی نہیں کہ ضرور لوٹائی جائے۔ صائب نے عجیب دردناک پیرائے میں اس بے یقینی کا ذکر کیا ہے۔

ہر شب کواکب کم کنند از روز ئی ماپارہ ہر روز گردد تنگ تر سوراخِ این عزبال ستارے ہر رات ہماری روزی سے ایک ٹکڑا کم کر دیتے ہیں۔ ان چھلنیوں کے سوراخ دن بدن زیادہ تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ رات دن کی چکّی چل رہی ہے۔ ہم گندم کے وہ دانے ہیں جو پِس رہے ہیں۔ کیا پتہ دانوں کی کس مُٹھی میں ہماری باری آ جائے ؎ پیستی جاتی ہے اک اک کو ظہورؔ آسپائے گردشِ لیل و نہار مجید امجد نے کہا تھا ’ ”ایک دھبّہ سا پڑا۔ دانت گرا“ ایک دوست اورکم ہو گیا۔

خسارہ ہے اور مسلسل خسارہ! بیلنس شیٹ میں اثاثے کم ہو رہے ہیں۔ مسؤلیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مردم گزیدگی سے سب ڈرتے ہیں۔ مست اتنے کہ وقت گزیدگی کو بُھولے ہوئے ہیں۔ دھیان سے چلنا چاہیے اگلے موڑ پر کچھ بھی ہو سکتا ہے! نقارے پر جب بھی چوٹ پڑتی ہے‘ کوئی نہ کوئی اُٹھ کر چل پڑتا ہے۔ کوئی پہلے کوئی بعد میں۔ انتظار گاہ بہر طور خالی ہونی ہے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •