پاکستان آرمی ایوی ایشن: ماضی، حال اور مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے ایچ 1۔ جے سی کوبرا (AH1J Sea Cobra )

یو ایس میرین کور نے نے ہی سی کوبرا کا تصور پیش کیا. میریز کا خیال تھا کے سمندر سے زمین پر یا سمندر سے سمندر یا دریائی علاقوں میں کارروائی کے لیے ایک ایسا کوبرا درکار ہے جو دو انجنوں کی مدد سے زیادہ تیز اور بہتر پرواز کرسکے، سمندری اثرات سے بھی محفوظ ہو۔ سی کوبرا دو انجن کے حامل سمندری اثرات سے محفوظ تر میرینز اور سیلز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ماڈل جو بحری جہازوں سے باآسانی آپریٹ ہوسکتا ہے اور دشمن کے بحری جہازوں اور سمندری ٹھکانوں پر حملے میں معاون ہے۔

حال ہی میں پاکستان نے جو ماڈل کوبرا اے ایچ ون زیڈ وائپر کے حصول کا جو معاہدہ کیا ہے وہ سی کوبرا اور سپر کوبرا کی جدید ترین شکل ہے، اس کی تفصیل آگے موجود ہے۔ 1968 ء میں میرین کور کا حصہ بن گیا اور ایسے 5 سی کوبرا ویتنام روانہ کردیے گئے، سوویت روسی گن شپ ہیلی کاپٹروں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اس کو دو عدد 9 ایم ایل سائڈ ونڈر سے بھی مسلح کیا گیا، شپ اسکورٹ مشن، سمندر سے ساحلی مشن میں کار گر ہے 1975 میں پہلی جنگ بار اس کو ویتنام میں ٹیسٹ کیا گیا، اپنے پیش رو اے ایچ 1۔ جی کے مقابلے میں اس کا ٹیل ایریا بڑا رکھا گیا، سی کوبرا پراٹ وٹنی ٹی 400 کے دہرے انجن سنگل گیر باکس پر مشتمل ہے۔

23 AH-1J

استعمال کرنے والے ممالک ایران، امریکا، جنوبی کوریا (تصویر نمبر 23 ) (Photo # 23 ) کوبرا اے ایچ 1۔ Z وائپر (تصویر نمبر 4 ) (Photo # 4 ) یکم اکتوبر 2015 ء کو بعض پاکستانی ٹی وی چینلز نے یہ خبر نشر کی کہ امریکا نے 4 استعمال شدہ اے ایچ۔ 1 وائپر پاک فوج کے حوالے کیے ہیں، ابھی تک کوئی تصویر یا فوٹیج حاصل نہیں ہو سکی، یہ پاک فوج میں ایک شاندار اضافہ ہوگا، اگردنیا کے گن شپ ہیلی کاپٹرز پر ایک نظر ڈالی جائے تو کوبرا اے ایچ۔ Z 1 وائیپر (Viper ) اس وقت زیادہ سے زیادہ رفتار کا حامل ہے۔

04 AH-1Z

اپاچی جو خود ایک شاندا ر شاہکار ہیلی کاپٹر ہے، لیکن وائپرا رفتار میں اس سے بھی بہتر ہے، دلسچسپ بات یہ ہے کہ کوبرا اے ایچ۔ 1 وائپر اور اپاچی گن میں جنرل الیکٹرک کا مشہور زمانہ جی ای ٹی سات سو یعنی GE T۔ 700 انجن ہی استعمال ہو رہا ہے جو، ان ہیلی کاپٹرز کے علاوہ سی اسپرٹ، بلیک ہاک، سی ہاک ہیلی کاپٹر ز میں بھی استعمال ہورہا ہے، لیکن کوبرا کی رفتار کی برتری اس کا ٹیک آف ویٹ کم ہونا ہے، مناسب وزن جو اس کی صلاحیت میں کمی نہیں آنے دیتا، جب کہ دوسری طرف اپاچی زیادہ وزن اٹھانے کی وجہ سے رفتار سے محروم ہوجاتا ہے، جیسا پہلے ذکر ہو چکا کہ بنیادی طور پر سوپر کوبرا سی کوبرا کی updated شکل ہے، سی کوبرا کی طرح اس میں بھی دو انجن ہیں، سی کوبرا کی طرح اس کو سائڈ ونڈر سے بھی مسلح کیا جاسکتا ہے، جو اس کے سیلف ڈیفنس میں کارگر کردار ادا کرسکتا ہے لیکن سوپر کوبرا اے ایچ 1۔ زیڈ میں کوبرا سیریز کے ایک اور ہیلی کاپٹر اے ایچ 1۔ W (تصویر نمبر 22 ) کی خصوصیات بھی موجود ہیں، جو ( سپر کوبرا کی طرح سائڈ ونڈر سے بھی مسلح ہے ) ، سُپر کوبرا سے مختلف صرف دو بنیاد پر ہے ایک تو سُپر کوبرا کا مین روٹر چار بلیڈز پر مشتمل ہے دوسرا اس کے ایویونکس کو پائلٹ کے لیے نسبتاً زیادہ آسان بھی رکھا گیا ہے جس کو ہم انگریزی میں پائلٹ فرینڈلی بھی کہہ سکتے ہیں، اے ایچ 1۔ ڈبلیو عراق اور افغانستان میں کامیابی سے استعمال ہوچکا ہے، اس کی صلاحیت کا لوہا دنیا مانتی ہے۔

ہیل فائر سے مسلح ایک تباہ کن ہتھیار بن جاتا ہے۔ یہ 3 گھنٹے سے زائد پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے (Photo # 22 ) استعمال کنندہ امریکا، پاکستان دیگر تفصیل (فوٹو نمبر 5 ) (Photo # 5 ) استعمال کرنے والے ممالک امریکا (امریکی مرین کور) ، پاکستان (ستمبر 2018 میں آمد متوقع) ۔

دنیا بھر میں بنے والے دیگر گن شپس

مِل ایم آئی 24۔ ہند، Hind Mil Mi 24

ایم آئی۔ 24 یا Mil Mi 24 ایک ملٹی مشن ہیلی کاپٹر ہے، سابقہ سویت یونین کی طاقت کی علامتوں ( Power Symbols ) میں سے ایک، یہ شاندار ہیلی کاپٹر جس میں ٹینک شکن ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر خصوصیات بھی موجود ہیں، جس میں ایک 10 سے 12 پوری طرح مسلح سپاہی میدان جنگ میں لے جانے کی صلاحیت، جو اس کو صحیح معنوں میں مداخلت کار شکن (Counter Insurgency weapon ) ہتھیار کا روپ دیتا ہے، یعنی جب سپاہ کو سپلائی، کمک اور توپ خانے کی فوراً ضرورت پیش آئے یہ تینوں کام یہ ہیلی کاپٹر خوبصورتی سے کرسکتا ہے لیکن اس کی جسامت کا طویل ہونا ( جو اوپر بتائے گئے فائدوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے تو ٹھیک ہے ) لیکن اس کو ایک آسان نشانہ بھی بنادیتی ہے، لیکن یہ ایک آل راؤنڈر ہے ضرورت کے مطابق اس کا رول ہے، مخصوص حالات کے ہتھیار اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں۔

آپریشنل ہسٹری ایم آئی۔ 24 کے حصے میں جہاں کئی کامیابیاں آئیں وہیں اس کی ناکامی بھی دنیا میں ڈھکی چھپی نہیں، سویت افغان جنگ اس کی آپریشنل ہسٹری کا باب کامیابی سے شروع ہوا، یہ ہیلی کاپٹر جب میدان میں آتا افغان حریت پسندوں اور مجاہدین کا بہت نقصان کرتا، میدان جنگ میں ان کے پاس اس مقابلے کا کوئی جوڑ ہی نہیں بنتا تھا، جس سے مجاہدین میں شدید بد دلی پھیل نے لگی، لیکن 25 ستمبر سن 1986 ء میں جب سے پہلا اسٹنگر (Stinger ) زمین سے فضا میں مار کرنے والامیزائل فائر ہوا، اس شاندار ہیلی کاپٹر کی صلاحیتوں کو جیسے نظر ہی لگ گئی۔

Afghan War Stinger

(Photo # 6 ) تصویر نمبر 6 سویت افغان افواج میں بد دلی پھیلنے لگی، وہ راہ فرار تلاش کرنے لگے، ایسے سویت افغان فضائیہ کے عملے کو پاکستان ہی جائے پناہ محسوس ہوا، 13 جولائی سن 1935 ء پہلے دو ایم آئی 24 منحرف ہوکر پاکستان آگئے، یہ پاکستان میں ایم آئی 24 کی آپریشنل ہسٹری کا آغاز تھا، پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس کو روسی دوستی کے بغیر یہ شاندار ہیلی کاپٹر مل گیا، پھر دو اور ایم آئی 24 راستہ بھٹک کر پاکستان آگئے، یہ دونوں ہیلی کاپٹر افغانستان میں تعینات خود روسی پائلٹ اڑا رہے تھے، پاکستانی ایم آئی 24 جیسا کے اس تصویر (تصویر نمبر ) میں دیکھا جاسکتا ہے۔ (Photo # 7 ) تصویر نمبر 7

استعمال کرنے والے ممالک روس، بھارت، الجیریا، برازیل اورمستقبل میں پاکستان ( معاہدہ طے پاگیا ) دیگر ماڈلز ایم آئی 35 مل ایم آئی 35 ایم آئی آئی 24 کی نئی قسم ہے، اس کے اپنے کئی ورژن ہیں، جن میں اس کا ایکسپورٹ ورژن جو ایم آئی 28 کے روٹر کے ساتھ ہے خاصہ مقبول ہے، بنیادی جسامت میں کوئی فرق نہیں فرق ہے اس میں ایم آئی 28 کے مین روٹر کے ساتھ مخصوص فائبر گلاس حصوں کے ساتھ زیادہ ایرو ڈائنمک بنا دیتے ہیں، اور وزن پر بھی خاص اثر نہیں پڑتا اور ہیلی کی پھرتی اور رفتار بھی بڑھا جاتی ہے، ایکس شیپ (X shape ) ٹیل روٹر 1999 ء میں پہلی بار ایم آئی 35 کی رونمائی ہوئی، 2005 ء میں سیریل پروڈکشن کی طرف آیا، یہ رات دن ہر قسم کے موسم میں استعمال کے قابل ہے، دشمن کے ٹینکو ں بکتر بند دستوں اور دوسری گاڑیوں اور ڈرونز کو گرانا اس کا بنیادی مقصد ہے اس کے علاوہ سیکنڈری رول میں یہ فوجی اور خاص نوعیت کا سامنا بھی لے جاسکتا ہے، عراق، برازیل، بھارت اور وینز ویلا اس کے استعمال کنندہ ہیں، بھارت تو ایم آئی 24 / 25 کے ساتھ ایم آئی 35 کو کامیابی سے استعمال کر رہا ہے۔

جینزڈیفنس کے مطابق ( بحوالہ 1999۔ 200 ) 4 گھنٹے تک محو پرواز رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے دو بنیادی ورژن بھی ہیں، جن کو اے اور بی کہا جاتا ہے یہاں اے ورژن کی تفصیل دی جارہی ہے۔

( تصویر نمبر 8 ) بنیادی تفصیل
http://www.russianhelicopters.aero/en/helicopters/military/mi-35m/features.html

پاکستان اور روس کے نئے تعلقات کا آغاز

دو جون 2014 ء کے دنیا بھر اخبارات میں روسی دفترخارجہ کا یہ بیان شائع ہوا کہ روس نے پاکستان پرسے تمام تر دفاعی پابندیاں اٹھا لیں ہیں، روسی دفترخارجہ کا یہ بیان اس خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغازتھا، اس کے بعد نومبر 2014 ء میں پاکستان اور روس کے ما بین ایک دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوگئے جس کے بدولت روس نے پاکستان کو فضائی دفائی نظام (NATO CODE NAME Pantsir۔ S 1 (SA۔ 22 Greyhound، دیگر داعی نظامیوں میں ٹور Tor۔ M 2 KM (SA۔ 15 ) ، اور بکBuk۔ M 2 (SA۔ 17 ) (مؤرخہ 25 نومبر 014 2 (بمطابق جینز ڈیفنس۔ JANEs Defense ) لڑاکا طیارے ایس یو۔ 35 ( Su۔ 3 ) گن شپ ہیلی کاپٹر ایم آئی 28 ( Mil Mi 28 ) آفر ہوچکے ہیں جن پر مذاکر ات کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان اور روس معاہدے کی رو سے روس پاکستان کو اس ماڈل کے 4 ہیلی کاپٹر فراہم کردیے گئے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •