ابھی طارق جمیل جیسے لوگ پائے جاتے ہیں: مظہر برلاس
شہرہ آفاق صحافی اور عصر حاضر میں صف اول کے کالم نگار مظہر برلاس نے اپنے حالیہ کالم میں مبلغ بے مثل مولانا طارق جمیل کو ایک مثالی شخصیت قرار دیتے ہوئے عوام کو انکے نقش قدم پر چلنے کی تلقین کی ہے۔
مظہر برلاس لکھتے ہیں کہ "طارق جمیل کے اچھا لگنے کی تین وجوہات ہیں۔ ایک تو وہ راوین ہیں، دوسرا یہ کہ وہ فرقہ واریت کی نفی کرتے ہیں، امت کے ایک ہونے کی باتیں کرتے ہیں، تیسری اہم بات یہ ہے کہ وہ ہر وقت ملت کو جگانے کی کوشش کرتے ہیں۔”
معاشرے کے سدھار کے لئے کام کرنے والے طارق جمیل کہتے ہیں ’’مجھے سیرت میں سے تین چیزیں ملیں، قوموں کے عروج و زوال کے تین اسباب ہیں۔ جس قوم میں عدل ہو گا، سچائی ہو گی، دیانتداری ہو گی، وہ خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، اسے دنیا میں زوال نہیں آ سکتا، اس قوم کے لوگوں پر کوئی غالب نہیں آ سکتا مگر جس قوم میں ظلم ہو گا، جھوٹ ہو گا، بددیانتی اور دھوکہ ہو گا اسے عزت نہیں مل سکتی، چاہے اس قوم کی مساجد تہجد پڑھنے والوں سے بھری ہوں۔ اگر جھوٹ، ظلم، بددیانتی اور دھوکہ ہے تو پھر عزت کا خواب نہیں دیکھنا چاہئے کیونکہ ظلم، بددیانتی اور جھوٹ کے ہوتے ہوئے صرف پستی ہے، زوال ہے‘‘۔
مظہر برلاس اپنے ملفوظات کے آخر میں نتیجہ نکالتے ہیں کہ مولانا طارق جمیل کی انہی تین باتوں کی روشنی میں ہمیں اپنے معاشرے کا ’’چہرہ‘‘ دیکھنا چاہئے۔ ہمارے معاشرے کو پستی کیوں نہ ملے، ہمارے ہاں ظلم ہے، بددیانتی ہے اور جھوٹ ہے۔ہمارے رہنما ایوانوں میں جھوٹ بولتے ہیں، بددیانتی کا یہ عالم ہے کہ اپنے پیارے وطن کو بیدردی سے لوٹا گیا اور اب کہتے ہیں ’’حساب کتاب بند کرو‘‘ ۔اگر ہم ترقی چاہتے ہیں، بلندی چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ظلم، ناانصافی، جھوٹ، بددیانتی اور دھوکے سے گریز کرنا ہو گا۔


