نیشنل اکنامک کونسل کے آئینی ادارے کی موجودگی میں متبادل ادارہ کیوں بنایا گیا؟ سینیٹر رضا ربانی
سینیٹ میں بحث کے دوران سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ جو بجٹ آئی ایم ایف تیار کرے گی وہ عوام کا بجٹ نہیں ہو گا۔ اس کی تصدیق دو دن پہلے گورنر سٹیٹ بنک نے کر دی ہے۔ نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل بنائی گئی جس میں آرمی چیف کو ممبر بنایا گیا۔ جب آئین کے اندر ایک ادارہ موجود ہے توایسے ادارے کیوں بنا ئے جا رہے ہیں۔ آرٹیکل 156 کے تحت نیشنل اکنامک کونسل بنائی گئی جو ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیتی ہے اور پالیسی بنانے میں مشورہ دیتی ہے۔ اب متبادل ادارے بنانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
سینیٹر رضا ربانی نے کہا بجٹ صرف فنانس منسٹر پیش کر سکتا ہے۔ حکومت وضاحت کرے کہ کیا وزیر ریونیو کو بجٹ پیش کرنے کا تحریری اختیار دیا گیا تھا۔
سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ملکی خارجہ۔ داخلہ۔ معاشی پالیسیوں۔ صوبوں اور مرکز کے درمیان کشمکش۔ ظلم اور امن و امان جیسے مسائل پر بجٹ کے براہ راست اثرات ہوتے ہیں۔ 73 کے آئین کے بعض آرٹیکلز سے ہم مطمئن نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ صدارتی طرز حکمرانی مسلط کرنا چاہتی ہے مگر ہم اس کیلئے تیار نہیں۔ اگر یہ لوگ طاقت اور سازش کے تحت صدارتی طرز حکمرانی لانا چاہتے ہیں تو پھر آئندہ کا لائحہ عمل اور ہو گا۔ 73 کے آئین پر متفق نہ ہوئے تو قومیں اپنا حق مانگ لیں گی۔ ملک کو تقسیم کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ اٹھارھویں ترمیم کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ احتساب تو سب سے پہلے جرنیلوں کا ہونا چاہئے۔ ضیا الحق اور مشرف سے احتساب شروع ہونا چاہئے۔ اختر عبدالر حمٰن اور حمید گل نے افغان جنگ میں اربوں روپے جمع کئے۔ جوڈیشری۔ سول بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا احتساب ہونا چاہئے۔ احتساب کے نام پر بلیک میلنگ ہو رہی ہے جو ہمیں منظور نہیں۔ سی پیک منصوبہ سے مطمئن نہیں۔
ہماری افواج نے دہشتگردوں کیخلاف آپریشن شروع کیا مگر ڈیڑھ سال قبل پشتونوں کیخلاف آپریشن شروع ہوا۔ اب یہ اپوزیشن اور میڈیا کے خلاف شروع ہے اور پشتونوں کے خلاف بھی جاری ہے۔ الیکشن فراڈ تھا، لوگوں کو سلیکٹ کیا گیا۔ سب سے بڑی کرپشن الیکشن میں ہوئی۔ ملک کو ویلفیئر سٹیٹ ہونا چاہئے مگر یہ ملٹری سٹیٹ ہے۔ پی ٹی ایم ایک حقیقت ہے ان کے سادہ مطالبے ہیں۔ آرمی چیف اور وزیراعظم نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم کے مطالبے ٹھیک ہیں مگر لہجہ ٹھیک نہیں۔ کیا وزیراعظم اور وزارت اطلاعات کالہجہ ٹھیک ہے۔ پی ٹی ایم پر پابندی درست نہیں۔ اس پر پارلیمانی کمیشن بننا چاہئے۔
پی ٹی ایم والے کمیٹیوں میں بلانے پر آتے ہیں۔ سینٹ کمیٹی میں کسی جنرل کو نہیں بلا سکتے۔ قرضوں کے حوالے سے ضیا الحق دور سے پارلیمانی کمیشن بننا چاہئے۔ ان لوگوں کو ڈوگر اور ثاقب نثار والی عدلیہ چاہئے۔ فائز عیسیٰ والی نہیں۔ صدر مملکت کے ذریعے عدلیہ پر ریفرنس کی شکل میں حملہ کیا گیا۔ اگر ان کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو یہ صدر مملکت کے خلاف ہو گا۔ سب کو معلوم ہے کہ 72 سال سے اسٹیبلشمنٹ نے اپنے عوام کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ عوام سے نہیں، دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی جائے۔


