شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شکیل آفریدی

Getty Images
شکیل آفریدی آج کل پنجاب کے شہر ساہیوال میں انتہائی سخت سکیورٹی والی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں

پشاور ہائی کورٹ نے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لیے آپریشن میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف دائر کردہ نظر ثانی کی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق یہ حکم پیر کو پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس عبدالشکور اور جسٹس اعجاز نور پر مشتمل دو رکنی بینچ کی طرف سے جاری کیا گیا۔

قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ملزم ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اپیل پہلی مرتبہ پشاور ہائی کورٹ میں باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کی گئی ہے۔

اس سے پہلے اس مقدمے کی سماعت فاٹا ٹربیونل میں ہوتی رہی ہے تاہم انضمام کے بعد فاٹا ٹربیونل تحلیل کر دیا گیا اور اب تمام مقدمے پشاور ہائی کورٹ میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔

اس بارے میں

امریکہ کی مدد کرنے والے شکیل آفریدی کی رہائی متوقع

’شکیل آفریدی کے خاندان کے شناختی کارڈ نہیں بنائے جا رہے‘

شکیل آفریدی کی اپیل کی سماعت چوبیسویں بار ملتوی

پیر کو عدالت میں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ملزم کی طرف سے لطیف آفریدی ایڈوکیٹ اور قمر ندیم ایڈوکیٹ پیش ہوئِے۔

ملزم کے وکیل قمر ندیم ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ فاٹا ٹربیونل میں ان کے موکل نے کوئی 60 سے زیادہ مرتبہ پیشیاں بھگتیں لیکن ہر مرتبہ کیس میں کوئی پیش رفت ہوئے بغیر سماعت ملتوی ہوتی رہی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہائی کورٹ میں مقدمہ منتقل ہونے پر انھیں امید ہے کہ اس کیس میں اب پیش رفت ہو گی۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2011 میں پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے امریکہ کے لیے جاسوسی کی اور اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن میں امریکہ کی مدد کی تھی۔ اسامہ بن لادن اس کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

ان الزامات کے باوجود حیران کن طور پر انھیں سزا شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں دی گئی تھی۔ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کی عدالت نے انھیں تین مقدمات میں کل 23 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ملزم شکیل آفریدی کئی سال تک پشاور کی سینٹرل جیل میں قید رہے اور پھر سکیورٹی خدشات کے باعث انھیں اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا۔ آج کل وہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں انتہائی سخت سکیورٹی والی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً تین سال پہلے امریکی صداراتی انتخابات کے مہم کے دوران ایک امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دو منٹ میں شکیل آفریدی کو جیل سے چھڑا سکتے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ پاکستانی حکام بھی ایسے ہی کریں گے۔

تاہم بعد میں پاکستان نے ٹرمپ کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ شکیل آفریدی کی قسمت کا فیصلہ ٹرمپ نہیں بلکہ اسلام آباد کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10332 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp