اردو کی ترویج ترقی کا سفر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"Hashimدراصل پاکستان کا غالب حکمران طبقہ انگریزی زبان کا رسیا ہے۔ کیوں کہ اُن کے مفادات اب تک انگریز آقاؤں سے منسلک ہیں۔ وہ روز مرہ زندگی میں انگریزی وضع قطع کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اردو زبان کو ملک میں رائج کرنے میں اُن کی غیر سنجیدگی سمجھ میں آتی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود گزشتہ سال سابق چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ نے آرٹیکل 251 کے تحت اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کا حکم صادر کیا تھا اور پہلی دفعہ اردو میں حلف اُٹھا کر اردو کے خلاف کالے انگریزوں پر ایک کاری ضرب لگائی تھی اور اس کے بعد اُنھوں نے آفس کے باہر اپنے نام کی پلیٹ اردو میں لکھوائی۔

پاکستان کی انگریزی اشرافیہ کے لئے یہ صورت حال کوئی خوش کن نہیں تھی کیوں کہ اردو کو ہر شعبہ زندگی میں رائج کرنے کا مطلب کروڑوں عوام کو زبان دینا ہے۔ اب تک انگریزی عرضی نویسوں کو ڈھونڈنا پڑتا تھا لیکن اردو کے رائج ہو جانے پر یکدم عرضی لکھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں پہنچ جائے گی جو یقیناً نوکرشاہی اور سرکاری اہلکاروں کے لئے خاصی پریشانی پیدا کر سکتی ہیں۔ توقع ہے کہ عوام بھی اپنی 69 سالہ دفتری زبان انگریزی سے پیدا ہونے والی بےچارگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے بھر پور جدوجہد کرے گی۔ اردو کے بطور سرکاری زبان نفاذ سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ بڑے بڑے انگریزی فارمز، سرکاری شرائط، بینک کے قوانین، دفاتر کے قوانین، عدالتوں کے فیصلے قومی زبان میں منتقل ہونے سے عوام کے پاس علم و آگاہی کا سمندر آجائے گا اور جو پاکستانی اردو سرکاری زبان نہ ہونے کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنے سے قاصر ہیں کروڑوں کی تعداد میں پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ 1970 کی طرح ایک بار پھر پاکستان دشمن قوتیں پاکستانی عوام میں نفاق پیدا کرنے کے لئے زبان کا مسئلہ کھڑا کر سکتی ہیں۔ ابھی تک اردو کے نفاذ کے معاملے کو میڈیا میں پزیرائی حاصل نہیں ہوئی ہے، اسی لیے پرنٹ میڈیا کے علاوہ، سوشل و الیکٹرونک میڈیا پر سپریم کورٹ کے فیصلے یا چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے اختیار کی گئی اردو کے نفاذ کی عملی کاوشوں کو موضوع گفتگو نہیں بنایا گیا۔ ہم یہ تجویز کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اردو کے نفاذ میں میڈیا جتنا زیادہ کردار ادا کرے گا اتنی ہی تیز رفتاری سے ہر شعبہ زندگی میں اور تمام سرکاری محکمہ جات میں اردو نافذ ہوگی۔ ساتھ ہی ہم یہ واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اردو کے نفاذ کا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ صوبائی و علاقائی زبانوں کو نظر انداز کردیاجائے۔ پاکستان چار صوبوں پر مشتمل، مختلف تہذیبوں کی ثقافت لئے ہوئے، ایک اسلامی و فلاحی مملکت ہے، اس کا حسن تمام صوبائی اکائیوں کی تہذیب و ثقافت سے ہے، ہر صوبے کو اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت کے احیاء اور ترویج کے لئے اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے ڈائس پر تمام مندوبین نے اپنا موقف کا اظہار اپنی قومی زبان میں کیا لیکن وزیر اعظم پاکستان نے اپنی تقریر انگریزی زبان میں کی گو کہ وہ اپنی تقریر اردو میں کرنے کا ارادہ رکھتے تھے کیونکہ وزیراعظم سرکاری تقریر نویس سے تقریر اردو میں لکھوا کر لے کر گئے تھے لیکن انگریزی وضع و قطع کی مالک پاکستان کی جانب سے مقرر مندوب\”ملیحہ لودھی\” نے میاں صاحب کو اردو میں تقریر کرنے سے منع کیا اور وزیر اعظم صاحب کی خواہش کا گلا گھونٹ دینے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے آرٹیکل 251 کے فیصلے کی بھی دھجیاں اُڑائیں۔

اس قسم کے گندمی انگریز اردو کے نفاذ اور پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، پھر عوام نے میڈیا کے ذریعے یہ بھی دیکھا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنا مؤقف ہندی زبان میں پیش کیا۔ اس کے باوجود ہم توقع کرتے ہیں کہ اردو بطور سرکاری زبان نفاذ کی کمیٹی کے سربراہ جناب عرفان صدیقی صاحب سے کہ اُن کے ہوتے ہوئے سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان فیصلوں میں شامل نہ ہونے پائے گا جو سنائے تو گئے لیکن عمل درآمد سے محروم رہے۔ خبریں آ رہی تھیں کہ موجودہ حکومت نے اردو کو سرکاری طور پر رائج کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا جو کہ خوش آئند تھا لیکن ملیحہ لودھی جیسے انگریزی زبان کے حامی جن کی اولادیں دیار غیر میں تعلیم حاصل کرتی ہیں ایسے افراد کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان کی اگلی نسل ترقی یافتہ پاکستان کہلانے کے لئے پہلا قدم اٹھا سکیں۔ 8 ستمبر کو اردو کے نفاذ پر دیئے گئے تاریخ ساز فیصلے کو ایک سال ہونے کو ہے لیکن حکومت منفی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے سست روی پر اکتفا کئے ہوئے ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے لہذا شعبہ ہائے زندگی کے تمام حلقوں کو اردو کی ترویج کے لئے بھرپور جدوجہد کرنی ہو گی۔
اپناؤ گے جو دوستو تم اردو زبان کو
روکے گا پھر نہ کوئی تمھاری اُڑان کو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •