گھنی مونچھیں، پراسرار مسکراہٹ اور کراچی کے قبرستان میں ایک قبر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابو نے انہیں چائے پلائی اور کسی بے عزتی کے بغیر معذرت کرکے انہیں ان کی مٹھائی اور پھلوں کے ساتھ واپس بھیج دیا۔

ان کے جانے کے بعد انہیں غصہ آیا۔ غصہ مجھ پر آیا کہ میں نے حادثہ کیوں کیا؟ غصہ اپنے اوپر آیا کہ گاڑی کی مرمت خود کیوں نہیں کرائی؟ انہیں شک ہوا کہ شاید مجھے کچھ اس وڈیرے میں دلچسپی تھی، کیا اس نے میری مرضی سے پیغام بھیجا تھا۔ آخر اسے مجھ میں کیوں دلچسپی ہوگئی۔ ایسا سوچا کیسے اس نے، ہمت کیسے ہوئی اسے؟ ہوگا وڈیرہ اپنی زمینوں کا۔ ہم لوگ اس کے ہاری نہیں ہیں جو اس طرح سے سلوک کیا ہے اس نے۔ اسی وقت ابو نے پچیس ہزار کا ایک چیک لکھ کر بھجوایا کہ انہیں اس گاڑی کے مرمت کے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔

میں رو دی تھی۔ رو رو کر میں نے بتایا کہ حادثہ کیسے ہوا اور میری کیا بات ہوئی۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ گاڑی کی مرمت کے بارے میں خدشات میرے ذہن میں کیوں تھے۔ وہ پراسرار مسکراہٹ میری سمجھ میں آرہی تھی۔

ابو کا خیال تھا کہ بات ختم ہوگئی لیکن مجھے لگا کہ وہ چھوٹی چھوٹی تیر کی طرح چبھتی ہوئی آنکھیں میرا پیچھا نہیں چھوڑیں گی۔ وہ پراسرار مسکراہٹ میرے اعصاب کو شل کر رہی تھی۔ ایسا ہی ہوا۔ دوسرے دن ابو کے بہت گہرے دوست اور دفتر کے ایک پرانے ساتھی گھر آئے اورانہوں نے بتایا کہ شاہ صاحب نے پھر درخواست کی ہے کہ شازیہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ دے دیا جائے۔ وہ شاہ صاحب کے خاندان سے واقف تھے۔

ابو نے انہیں سمجھایا کہ میں ابھی اکیس سال کی بھی نہیں ہوں، ابھی مجھے ماسٹرز کرنا ہے۔ ابھی میں نے کمپیوٹر کا کورس ختم کرنا ہے۔ ایک پروفیشنل کی زندگی گزارنی ہے۔ اپنے سے ڈبل عمر کے آدمی سے جس کی پہلے ہی دو بیویاں ہیں شادی کیسے ہوسکتی ہے؟ پھر یہ کوئی جوڑ نہیں ہے، ہم لوگ مہاجر ہیں اوروہ ایک سندھی ڈبل عمر کا عیاش آدمی۔ اس کے اقدار الگ، اطوار الگ، ہمارا رہن سہن الگ، تہذیب جدا۔ میرا خاندان آگے کی طرف جا رہا ہے وہ لوگ ابھی تک کاروکاری اور غیرت کے نام پہ قتل و غارت گری پہ یقین رکھتے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ ناممکن ہے۔

انہوں نے ابو سے کہا کہ عمر سے کیا فرق پڑتا ہے۔ دلیپ کمار جب چوالیس سال کا تھا تو سائرہ بانو اکیس سال کی تھی۔ جہاں تک دوسری بیویوں کا تعلق ہے وہ تو آپ کو پتا ہی ہے کہ ایک گاؤں میں رہتی ہے اور دوسری اپنے بچوں میں مصروف۔ تمہاری بیٹی تو موج کرے گی۔ روپے پیسے کی فراوانی ہے، اثرورسوخ والے لوگ ہیں۔ شاہ خاندان ہے سیّدوں کا اور مذہب بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ مذہب میں کہاں لکھا ہے کہ سندھی کی سندھی اور مہاجر کی مہاجر سے ہی شادی ہوگی۔

رہا پروفیشن تو اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آخر کار عورت کو گھر والی ہی بننا پڑتا ہے، بچے ہی پالنے ہوتے ہیں۔ اگر گھر میں اوپر والے کا دیا سب کچھ ہے تو پروفیشن کے جھنجھٹ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ زندگی میں ایک ہی دفعہ اس قسم کا موقع ملتا ہے جناب۔ شاہ صاحب کی عمر بھلے زیادہ ہوگی مگر وہ تیس پینتیس سال سے زیادہ کے نہیں لگتے ہیں۔ ایک دفعہ شازیہ کی شادی ہوجائے گی تو وہ اسے اتنا خوش رکھیں گے کہ وہ ان کی ہی دیوانی ہوجائے گی۔

رہی بات تہذیب کی تو جب ہندوستان چھوڑ دیا تو سندھ ہی کی تہذیب ہماری تہذیب ہوگئی ہے۔ کاروکاری جیسی جہالت کا تعلق شاہ صاحب سے نہیں۔ وہ پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ دنیا جہان گھومے ہوئے، وسیع القلب وسیع النظر۔ اور ویسے اگر وہ چاہیں تو بھی جاگیرداری ختم نہیں کرسکتے، نہ ہی ہاریوں، کسانوں، مریدوں کا ذہن بدل سکتے ہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ اس نظام کی گہری جڑیں ہیں یہ کبھی بھی ختم نہیں ہوگا۔

مجھے پتا تھا اس بات پر ابو کو غصہ ہی آیا ہوگا، ان کی طبیعت ہی اس قسم کی تھی۔ انہوں نے ہم بھائی بہنوں میں لڑکا لڑکی کے حوالے سے کبھی بھی فرق نہیں یا۔ ایک پڑھے لکھے سمجھ دار انسان تھے۔ سندھی ہونا ان کے لیے کوئی برائی نہیں تھی۔ سندھی وڈیرہ جو صرف وڈیرہ ہو، عیاشی کرتا ہو، دوسروں کی عزت پہ ہاتھ ڈالنے کو تیار ہو، یہ اُن کے نزدیک سب سے بڑی برائی تھی۔ انہوں نے ہم سب کو اچھی تعلیم دی۔ باجی کی شادی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے کی۔ باجی خود بھی اٹاوا میں وکیل تھیں۔ میرے لیے بھی ان کے یہی خواب تھے۔ انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی میں انہیں اس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انکل نے کہا تھا، غصہ نہ کریں۔ سوچیں، ٹھنڈے دل سے سوچیں۔ شاہ صاحب کا رستہ رُکا نہیں ہے۔ وہ جوسوچتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ بڑے آدمی ہیں اور بڑے آدمی کی بڑی باتیں ہیں۔

دوسری رات بھی خراب رات تھی۔ ابو مجھے پہلی دفعہ پریشان سے لگے۔

دوسرے دن ہی انہوں نے میری فلائٹ لندن کے لیے بک کردی۔ ان کا خیال تھا کہ میں لندن چلی جاؤں وہیں جا کر پڑھوں اور پھر بعد میں دیکھا جائے گا۔

رات دو بجے کی فلائٹ کے لیے ہم لوگ گھر سے گیارہ بجے نکلے تھے۔ شاہراہِ فیصل پر کارساز سے تھوڑا سا آگے پاکستان ایئرفور کے بیس کمانڈر کے گھر کے سامنے اس جانی پہچانی پجارو نے ہماری گاڑی روک دی اورسب کچھ بہت تیزی کے ساتھ ہوگیا۔ آگے والی گاڑی سے مسلح لوگ اترے اور پیچھے والی گاڑی سے اترنے والوں نے ابو کے ہاتھوں سے ٹکٹ اور پاسپورٹ چھین لیا اور خاموشی سے ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

دوسرے دن ہی امی کا پاسپورٹ اور دونوں ٹکٹ لے کر ابو کے ایک اور دوست آئے جنہوں نے ابو کوپ ھر سمجھایا کہ ضد نہ کریں۔ شاہ صاحب کا خیال ہے کہ شازیہ اب ان کی ذمہ داری ہے، مستقبل میں شاہ صاحب کی ہونے والی بیوی۔ وہ کیسے ان کے بغیر مرضی کے سفر کرسکتی ہے۔ اگر ایک دفعہ انہوں نے اس کا ہاتھ مانگ لیا ہے تو وہ ان کی ہوگئی ہے۔ ابو کو اس بات پہ فخر ہونا چاہیے کہ اتنا بڑا وڈیرہ اتنے ہاریوں کا مالک ہزاروں مریدوں کا پیر اپنی زمینوں کا سیّد بادشاہ ان سے رشتہ چاہ رہا ہے۔ اب شازیہ کا پاسپورٹ شاہ صاحب کے پاس ہی رہے گا اورانہوں نے درخواست کی ہے کہ شازیہ کو ملک سے باہر بھیجنے کی کوشش نہ کریں، یہ ممکن نہیں ہوگا۔

بھائی، انکل، ابو، امی سب پوری شام مشورے کرتے رہے اورجلدی میں یہی فیصلہ ہوا کہ فیصل سے میری شادی فوری طور پر کردی جائے۔ فیصل کا رشتہ چھ ماہ پہلے آیا تھا جس کے لیے میں نے انکار کردیا تھا کیوں کہ مجھے ابھی اور آگے پڑھنا تھا۔ فیصل کے والد کراچی کے پرانے تاجر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ابو کے پرانے دوست بھی تھے۔ فیصل ایم بی اے کرنے کے بعد اپنی ہی کمپنی میں باپ کا ہاتھ بٹارہا تھا۔ ابو نے فیصل کے گھر والوں کوساری بات بتادی جس کے بعد وہ لوگ جلدی شادی کرنے پر راضی ہوگئے تھے۔ میں نے بھی سوچا کہ ایک وڈیرے کی تیسری بیوی بننے سے اچھا ہے کہ ایک پڑھے لکھے تجارتی گھرانے کی بہو بن جاؤں جو مجھے اپنی زندگی کا ساتھی سمجھے گا۔ اپنی جائیداد، باندی یا غلام نہیں۔ میں اُس کے ساتھ کنیز بن کر نہیں رہوں گی۔ اپنی مرضی سے کچھ کرسکوں گی۔ حویلی کی قیدی بن کر تو نہیں جیوں گی۔

ابھی کارڈ چھپنے بھی نہیں گئے تھے کہ فیصل یکایک غائب ہوگیا۔ کراچی شہر میں قتل، اغوا، ڈکیتی اور بوریوں میں لاش کوئی ڈھکی چھپی بات تو ہے نہیں۔ سارے خاندان میں تشویش کی زبردست لہر دوڑ گئی۔ ہر ایک کی سمجھ میں آگیا کہ یہ کیوں ہوا تھا۔

چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی فیصل اپنے گھر واپس آگیا مگراس کی واپسی کے بعد ان لوگوں نے شادی سے انکار کردیا۔ نہ کوئی بات نہ چیت۔ فیصل کے ابو نے کہا کہ وہ موجودہ حالات میں اس قسم کے جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتے ہیں جس میں اس طرح سے جان کا بھی خطرہ ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •