پی ٹی ایم کو اپوزیشن کی تحریک کے نرغے سے دور رکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ لفظ ”استحصال“ کے معنی سے نا آشنا ہیں۔ تو اسے پوری طرح سے سمجھنے کے لئے پاکستانی سیاست کا مطالعہ شروع کر دیں۔ اگر آپ منافقت کے اصطلاحی معنی جاننا چاہتے ہیں۔ تو پاکستان کے سیاسی کرداروں کی شکل میں بہترین شاہکار موجود ہیں۔ اگر آپ لوگوں کو بہترین انداز میں دھوکہ دینے کا فن سیکھنا چاہتے ہیں۔ تو کسی پاکستانی سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیں۔ اگر پاکستانی سیاست کے بے شمار کرداروں کو گدھ کی طرح عوام کی لاش کا تیاپانچہ کرنے سے تشبہہ دی جائے تو یہ کہنا غلط نہیں بلکہ کار ثواب ہوگا۔

آج کل اپوزیشن عمران خان کو وزارت اعظمی کی کرسی سے ہٹانے کے درپے ہے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انھیں پی ٹی ایم کو استعمال کرنے کا ایک سنہری موقع مل گیا ہے۔ اور اچانک حیران کن انداز میں پی ٹی ایم کی شدید حمایت شروع کر دی ہے۔ اور بعض رہنماؤں جنھوں نے اسٹبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لئے پی ٹی ایم کو کاری ضربیں لگائی تھیں، اچانک پینترا بدل کر اس کی بھرپور حمایت کرنے لگے ہیں۔ یقینا ان میں بعض رہنما پی ٹی ایم سے ہمدردی رکھتے ہوں گے۔ لیکن اکثریت پر مکڑی کا مکھی کو جالے میں پھانسنے اور بلی کا چوہے کو دبوچنے کے لئے تعریف اور جھانسے والی مثال صادق لگ رہی ہے۔

اسی لئے پی ٹی ایم کو غیر محسوس انداز میں اس جال میں پھانسنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اور اگر پی ٹی ایم اس جال میں پھنس جاتی ہے تو اس کے پاس کچھ نہیں رہے گا۔ پی ٹی ایم کے نوجوان غیر محسوس انداز میں کرسی کرسی کھیل کی راگ الاپنے میں لگا دیے جائیں گے۔ پی ٹی ایم کے جوانوں کی اپنے حقوق اور اصلی مسائل سے توجہ ہٹ جائے گی۔ پی ٹی ایم سیاست کے غلام گردشو ں اور کرسی کے کھیل کی نذر ہو جائے گی۔ اور تحریک کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچے گا۔

پشتون نوجوان اپنے حقوق کی جنگ کی بجائے کرسی کی جنگ کا ایندھن بنیں گے۔ جس دن اپوزیش عمران خان کو ہٹانے میں کامیاب ہوگی وہ پی ٹی ایم اور پشتونوں کے حقوق کی جنگ بھول جائے گی۔ اور اگر اپوزیشن اگر ناکام ہو جاتی ہے جس کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ تو بھی پی ٹی ایم ہی خسارے میں ہوگی۔ کیوں کرسی کے کھیل میں استعمال ہو کر شدید کمزور اور بے اتفاقی کا شکار ہوگی۔ اس کھیل میں یقینا خاکسار صاحب کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ کیوں کہ وہ پی ٹی ایم کے جسم اور ڈھانچے کو اپنی بنائی گئی سیاسی بھٹی کی نذر کرکے بھڑکتے شعلوں میں نکلتی ہوئی چیخوں اور اٹھتے دھوئیں کے مرغولوں سے خوب لطف اندو ز ہوں گے۔

پی ٹی ایم کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں طالبان کے خلاف نام نہاد اپریشن ہوئے تھے۔ تو عام پشتوں ہی خوب بربادی کا شکار ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ اے این پی نے سوات اپریشن کی حمایت کی تھی۔ نواز شریف کے دور میں بھی اپریشن جاری رہے۔ غرضیکہ دونوں دور حکومتوں میں وزیرستان اور دوسرے پشتون علاقوں میں اپریشن جاری رہے۔ ہزاروں پشتوں مارے گئے یا غائب کر دیے گئے، اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ تب کیوں انھوں نے اقتدار میں رہتے ہوئے کچھ نہیں کیا اور کیوں استعمال ہوئے؟ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کرسی بچانے کے لئے اگر عمران خان کی حکومت پشتون قوم کی بر بادی کے لئے آلہ کار بن جاتی ہے۔ تو اس پر خاموش رہا جائے بلکہ یہ کہ سب کے حوالے سے آنکھیں کھلی رکھی جائیں کیوں یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •