‘کبیر سنگھ’ میں وہ سب کچھ ہے جو محبت میں نہیں ہونا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر میں 19 سال کی ہوتی تو “کبیر سنگھ” میرا خواب ہوتا!
خوش قسمتی سے اب میں کافی زیادہ عاقل و بالغ ہو چکی ہوں۔

“کبیر سنگھ” اپنی تمام تر رجعت پسندی کے باوجود ایک ایسی فلم ہے جو آج بھی کئی لوگوں کو پسند آئے گی۔ یہ ایسی فلم ہے جس میں شدت، محبت پر غالب ہے۔
برصغیر میں عشق، محبت، جنوں تب تک مکمل نہیں سمجھے جاتے جب تک ان میں پاگل پین کا عنصر شامل نہ ہو۔

فلم “کبیر سنگھ” میں محبت اندھی ہی نہیں، بلکہ اچھی خاصی گونگی بھی ہے۔ محبت کا نام ہے پریتی سکا اور فلم کے زیادہ تر حصے میں انہوں نے منہ کو مسکراہٹ کا تالا ڈالا ہوا ہے۔ ایسی کچی عمر کی دوشیزائیں آپ کو آسانی سے کالج/یونیورسٹی میں مل جائیں گی۔

ایسے ہی تھوڑی “کبیر سنگھ” باکس آفس پر ہٹ ہو گئی ہے!

فلم میں ویسے تو بہت کچھ غلط ہے لیکن جو سب سے غلط ہے وہ ہے محبت کو ملکیت سمجھنا۔
ہندوستان پاکستان میں لڑکی کو ویسے ہی “چیز” سمجھتے ہیں، سونے پر سہاگہ اس کو “کبیر سنگھ” جیسا مالک چاہیے۔

میرا آپ کو مشورہ ہے، وہ بھی بالکل مفت، کہ آپ کو ذرا سا بھی شک ہو آپ کا بوائے فرینڈ کبیر سنگھ جیسی شخصیت کا حامل ہے تو جان اور عزت دونوں بچا کر بھاگ جائیں۔ ایسے مرد آپ کی شخصیت کو کبھی بھی تجربہ کرنے کا موقع نہیں دیں گے، اور آپ کو انسان کی جگہ موم سمجھ کر سانچے میں ڈھال دیں گے۔

“کبیر سنگھ” نے 18، 19 برس کی لڑکی کو پہلے دن سے ہی اپنے نام لکھوا لیا جیسے لڑکی نہیں، ابا جی کی زمین ہو۔ کیا لڑکی سے پوچھا؟ لڑکی کی مرضی جانی؟

بہنو، اس کو کہتے ہیں “consent” جو انتہائی ضروری ہے۔ چاہے محبت اندھی، گونگی یا بہری سب ہو۔ اس کچی عمر میں “کبیر سنگھ” جیسا مرد جنت کا دروازہ لگتا ہے جب کہ ہے وہ عمر بھر کا قفل۔

کس سے دوستی کرنی چاہیے، کس سے نہیں، چنری کیسے اوڑھنی ہے، کیسے نہیں، یہ سب کسی بھی لڑکی کو اپنی مرضی سے منتخب کرنا چاہیے نہ کہ کوئی “کبیر سنگھ” آپ کو بتائے۔

بیچ سڑک، لوگوں کے سامنے اپنی محبت کو تھپڑ مارنا، اس پر چیخنا چلانا کوئی عشق جنوں نہیں ہے۔ یہ سماجی بے عزتی، اور ذاتی ضرب ہے۔ یہ بات لڑکا اور لڑکی دونوں پر لاگو ہوتی ہے۔ محبت کی آڑ میں آپ غصے کی غلاظت نہیں پھیلا سکتے۔

“کبیر سنگھ” صرف لڑکیوں نہیں، بلکہ لڑکوں کہ لیے بھی ایک سبق آزمودہ فلم ہے۔ ایک سین میں ہیرو کا دوست اس کو کہتا ہے “لڑکے روتے ہیں کیا؟” کیونکہ یہ تو جیسے اساطیر میں آیا ہے کہ لڑکے نہیں روتے ہیں۔

اب کیونکہ ہم اکیسویں صدی کے باسی ہیں تو میں بتاتی چلوں کہ مرد اگر ہنس سکتے ہیں تو رو بھی سکتے ہیں۔ آپ کے tear glands اچھے خاصے ایکٹو ہیں اور ان کا آپ کی مردانہ صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں ہے۔

سب سے زیادہ جس منظر نے مجھے حیران کیا وہ یہ کہ، “کبیر سنگھ” کو فیملی پلاننگ اور برتھ کنٹرول جیسی چیز کا خاص اندازہ نہیں تھا۔ وہ اپنے بھائی کو تقریباً تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پلاننگ کیا ہوتی ہے؟ یہ تو بس جذبات ہیں۔

برائے مہربانی، ہند و پاک کی بڑھتی ہوئی آبادی کا خیال کریں اور بچے کو محبت کی نشانی سمجھنے سے گریز کریں۔

فلم کی موسیقی بہترین ہے اور میرے کانوں میں ابھی بھی بج رہی ہے۔ میوزک اور فلم ڈائریکٹر نے شدت کا رنگ فلم کی موسیقی میں بھی ڈالا ہے۔ شاہد کپور سے بہتر کوئی اور یہ کردار نہ کر پاتا۔ کئی مناظر میں آپ کو “حیدر” فلم یاد آئے گی۔

کیارہ ایڈوانی کی معصومیت اور نو عمری ان کے کردار میں گھل مل گئی تھی۔
“کبیر سنگھ” اپنی تمام تر برائیوں کے باوجود ایک دیکھنے کے قابل فلم ہے۔ یہ فلم آپ کو ہر وہ چیز سکھائے گی جو محبت میں نہیں ہونی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •