شیرانی صاحب! اک نظر حج کے معاملات پر بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"salimمیرا موضوع یہ ہے کہ حاجی لوگوں کو جانور کی قربانی، مکہ کی بجائے پاکستان میں کرنا چاہیئے جو ان کے لئے بھی سہولت ہے اور یہاں کے اصل حقداروں کے لئے بھی مفید ہے۔ یہ ساری تمہید، اپنے سوال کو واضح کرنے کے لئے ہے۔

اسلام ایک مکمل دین ہے جس کا ایک لازمی جزو مذہب بھی ہے۔

مذہب فرد سے تو دین سوسائٹی سے متعلق ہوتا ہے۔ دین، لوگوں کو تنگ کرنے کے لئے نہیں بلکہ ان کی سہولت کے لئے نازل ہوا ہے۔ اسلام کے چھوٹے سے چھوٹے حکم میں بھی آپ اس حکمت کوپا سکتے ہیں۔ پانی کیسے پئیں؟ بیٹھ کر پئیں، پانی کو دیکھ کر اور ایک ہی سانس میں نہ پئیں۔ یہ سب انسان کی دنیوی سہولت کے لئے ہے۔ یہ دین ہے۔ پانی پینے سے پہلے اور بعد، بسم اللہ اور الحمدللہ پڑھنا، اخروی سہولت کے لئے ہے، جو کہ مذہب ہے۔ زمزم بھی تو پانی ہے مگر اس کو کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ زمزم پہ بیٹھ کر پینے سے، لوگوں کے ہجوم کو دقت ہوتی ہے پس اسے کھڑے کھڑے پی لو۔

زمزم میں شفا ہے، یہ مذہب ہے۔ زمزم کھڑے ہوکر پیو، یہ دین ہے۔

مذہب یعنی رسمی عبادات روح کی بالیدگی کی خاطر ہوتی ہیں، عام انسانی عقل سے ماورا ہوتی ہیں، اس میں کوئی اپنے آپ کو جتنا تھکائے، اتنی روح نکھرتی ہے کہ مجاہدے سے نور ملتا ہے مگر بہرحال، یہ ہر فرد کا اپنا عقیدہ اور اپنی چوائیس ہے جو سارے معاشرے پہ لاگو نہیں کی جاسکتی۔

حج عظیم ترین روحانی معرکہ ہے، عشق کا سفر ہے، اس بارے سرکار دو عالم نے بعض ضوابط طے فرمائے ہیں جن کے الفاظ تک نہیں بلکہ اصل روح تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ عشق کا یہ سفر، رائیگاں نہ جائے اور خلق خدا کو تنگی نہ ہو۔

بعض علماء کی طبیعت یوں ہوتی ہے کہ وہ دین کو زمانے اور معاشرے کے لحاظ سے آسان تر بنانے کو کوشاں رہتے ہیں۔ جب کہ بعض مولوی، اپنی کم فہمی کی بنا پر، الفاظ کے گورکھ دھندے میں پڑ کر، اسے فرد اور سوسائٹی کے لئے مشکل تر بنانا، اپنی علمیت کی شان سمجھتے ہیں۔

میں اپنی بات کی وضاحت، ایک اور مثال سے کرتا ہوں۔ رسول کریمؐ کے دور میں اکثر لوکل بزنس، درہم و دینار کی کرنسی کی بجائے، اجناس کے ذریعے ہوتا تھا۔ آپ مجھ سے چاول لے لو اوراس کے بدلے گوشت دے دو۔ اللہ کے رسول نے روزہ دار مسلمانوں کے لئے لازم قرار دیا کہ عید سے پہلے، غریبوں کو فطرانہ دیں تاکہ وہ عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔ اس کے لیے آنجناب نے کھجور کے حساب سے نصاب بتایا جس میں بعد کے فقہا نے، مخلتف علاقوں کے حساب سے، چاول اور گندم بھی شامل کر دیا۔

زمانہ جدید میں اس نصاب کے بقدر نقد رقم کا فطرانہ دیا جاتا ہے مگر آج بھی سعودیہ میں کچھ مولوی، فطرانہ میں فقط چاول ہی دیتے ہیں۔ عید کے دنوں، یہاں جابجا کالی عورتیں چاولوں کے تھیلے لئے بیٹھی ہوتی ہیں۔ کون خریدے؟ ایک شیخ صاحب سے عرض کیا کہ بھائی، آپ نقد فطرانہ کیوں نہیں دیتے؟ کہ خود بھی چاول خریدتے مشکل جھیلتے ہو۔ کہنے لگے حضور نے نقد رقم کے فطرانہ بارے نہیں کہا۔ عرض کیا، میری معلومات میں حضور نے ایک ہی حج کیا تھا اور اس میں اونٹنی پہ بیٹھ کرطواف فرمایا تھا۔ چاہیئےکہ آپ حرم میں اونٹ پر ہی بیٹھ کر طواف فرمایا کریں۔

اس مختصر تمہید کے بعد، اصل موضوع کی طرف آتے ہیں یعنی حج میں لاکھوں جانوروں کی قربانی کا قضیہ۔

آج کل کے حالات میں حاجی کے لئے مشکل ترین رکن، مکہ میں جانور کی قربانی کرنا ہے۔

کسی زمانے میں پیدل حج ہوا کرتے تھے تو حاجی، قربانی کے جانور ساتھ لے کر مکہ جاتے تھے۔ پھر ایک دور آیا کہ مکہ میں ہی خرید کر خود ذبح کرتے اور گوشت اہل حرم میں تقسیم کرتے کہ حدیث میں ان پر تقسیم کرنا ہی آیا ہے۔ کیونکہ اہل حرم کو حاجیوں کی مہمانی کرنا ہوتی، حرم کے مصارف بھی ہوتے تو یوں مکہ والوں کی مالی مدد ہوجاتی۔

مرور زمانہ سے سعودی عرب میں پٹرول نکلا اور وہاں کے لوگ امیر ترین ہوگئے۔ پس مالی حاجت والی بات نہ رہی۔ ادھرحاجیوں کے بے پناہ اژدہام کی وجہ سے اور طبائع کی سستی کی وجہ سے حاجیوں کو خود قربانیاں کرنا گراں ہونے لگا تو مکہ میں پروفشنل قصائی آبیٹھے اور حاجی کا کام، مسلخ جا کر اپنی قربانی پہ صرف چھری پھیرنا رہ گیا۔

گوشت وافر ہوگیا اور لینے والے کم پڑ گئے تو سعودی حکومت، منوں کے من فاضل گوشت کو عرفات کے قرب و جوار میں زمین میں دفن کرنے لگی۔ ملک شام سے تعلق رکھنے والے ایک مایہ ناز عالم دین ہر سال فریاد کرتے کہ اللہ کے بندو، اگر اہل حرم میں گوشت نہیں بانٹا جاسکتا تو باقی دنیا میں بانٹ دو۔ لوگ فاقے کر رہے ہیں اور تم گوشت دفن کر رہے ہو۔

کچھ عرصہ، سعودی مولوی ان کی راہ میں اڑے رہے۔ بالآخر، شاہی خاندان کے کسی سنجیدہ آدمی کو شامی عالم کی بات سمجھ آئی تو فتوی بدلتے دیر نہ لگی اور یوں، قربانی کا گوشت جہازوں میں بھر بھر افریقہ اور بنگلہ دیش بھی بھیجا جانے لگا۔

پاکستانی حجاج، چونکہ عجمی ہیں تو پوری طرح اپنے مولویوں کے نرغے میں ہوتے ہیں۔ ویسے بھی ایک بندہ، سالوں سال، اپنا پیٹ کاٹ کر اور لاکھوں روپے لگا کر حج کرنے آتا ہے تو اس میں کمی کجی سے ڈرتا ہے۔

سعودی حکومت نے برسوں پہلے سے قربانی کا ایک نظام ترتیب دیا ہوا ہے جس میں حکومت آپ سے قربانی کی رقم لے کر، آپ کی جگہ قربانی کی ذمہ دار ہو جاتی ہے۔ اس سے حاجی کو بڑی سہولت مل جاتی ہے۔ لیکن پاکستانی مولوی، اس سے روکتے ہیں کہ سعودی حکومت پہ اعتبار نہیں البتہ ان پاکستانی دلالوں پہ اعتبار ہے، جن کی روزی روٹی حاجیوں کی قربانیوں کے کمیشن سے بندھی ہوئی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سارے گروپ لیڈر یا ان کے پینل پہ آئے مولوی، اس کمیشن میں حصہ دار ہوتے ہیں مگر یہ کمیشن ایجنٹ، بڑے چرب زبان ہوتے ہیں اور کئی حج گروپوں کو ایک ہی ریوڑ دکھا کر، ان کو ماموں بناتے رہتے ہیں۔

چونکہ یہ ٹوکن سسٹم، سعودی حکومت نے بزور نافذ نہیں کیا بلکہ حاجی کی صوابدید پہ رکھا ہے تو ہمارے مولویوں کا فتوی چل رہا ہے مگر کبھی انہوں نے ڈنڈے کے زور سے نافذ کر دیا تو بھائی لوگ، چوں بھی نہیں کریں گے۔ مجھے یاد ہے، کسی زمانے میں، طواف کی ابتداء میں ایک سبز لکیر لگی ہوتی تھی اور مولوی لوگ کہا کرتے کہ اس لکیر سے ایک انچ بھی پاؤں ادھر ادھر نہ ہونے پائے۔ لوگ پورے طواف میں اس لکیر کی ٹینشن میں رہتے تھے کہ مولوی ان پہ \”دم\” نہ ڈال دیں۔ پھر ایک دور آیا سعودی حکومت نے لکیر ہٹا کر یہاں دو فٹ چوڑی پٹی لگا دی تو اپنے مولوی صاحبان نے بھی فتوے کو لکیر سے پٹی تک پھیلا دیا۔ اس زمانے میں ہر حاجی، طواف کے ہر چکر میں، ہجوم کے پاؤں میں سر گھسا گھسا کر، پٹی کو ڈھونڈا کرتا۔ آجکل سعودی حکومت نے لکیریں، پٹیاں سب ہٹا دی ہیں۔ ایک طرف سبز بورڈ لگا دیا ہے جس کی سیدھ میں آپ طواف شروع کردو۔ حاجیوں کےلئے مزید آسانی ہوگئی ہے۔

یہی کارگزاری، رمی یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے کی ہے۔ کبھی شیطان ایک برجی کی شکل ہوتا تھا۔ ہجوم بڑھا اور نشانہ لینے والوں کو دقت ہونے لگی تو دیوار بنا دی گئی اور آج کل 30 میٹر چوڑی صراحی بنا دی گئی ہے۔ مگر ان سارے ڈیزائینوں میں اصل ہدف حاصل ہوجاتا ہے یعنی کنکری، بنیاد میں جاکر، اسی برجی کو جاکر لگتی ہے۔ پس سوچنے والے علماء، سہولت دیا کرتے ہیں اور کتابی مولوی، زندگی اجیرن کیا کرتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ جو مولوی، سعودی قربانی ٹوکن کے مخالف ہیں ان کو کمیشن کا لالچ ہوگا۔ ایک اور وجہ، مکتبہ فکر کا اختلاف بھی ہوسکتی ہے کیونکہ حنفی فقہ کے مطابق، حاجی تب ہی قربانی کرے گا جب پہلے دن کی کنکریاں مار لے اور اس قربانی کے بعد ہی سر منڈوا کر احرام کی چادر کھولے گا۔ جب کہ عربوں کے فقہہ کے مطابق، قربانی، رمی، حلق وغیرہ آگے پیچھے ہونے سے حج پہ کوئی فرق نہیں پڑتا چنانچہ حنفی مولوی، حاجیوں کو خود اپنے ہاتھوں سے قربانی کرنے کی نصیحت کرتے ہیں تاکہ ترتیب برقرار رہے۔ مگر ہوتا یوں ہے کہ ہر گروپ میں چند لوگوں کو نمائندہ بنا کر ذبح خانے بھیجا جاتا ہے جو موبائل پر باقی حاجیوں کو بتاتے ہیں کہ آپ کی قربانی ہوگئی پس احرام کھول لیں۔ ان نمائندگان کو مسلخ (ذبح خانے) والے کیونکر بیوقوف بناتے ہیں، یہ تفصیل پھر سہی مگر بات یہ ہے کہ اگر گروپ لیڈر کے نمائندگان پہ اعتبار ہے تو حکومت پہ کیوں نہیں؟

اب میں اپنے اصل سوال کی طرف آتا ہوں کہ کیوں نہ حاجی، اپنے حج شکرانہ کی قربانی اپنے متعلقہ ملکوں میں ہی کیا کریں؟

مثلاََ پاکستانی حجاج، جب منی میں رمی سے فارغ ہوجائیں تو پاکستان میں اپنے رشتہ داروں کو فون کریں کہ میری طرف سے قربانی ادا کر کے، گوشت غریبوں میں تقسیم کر دو۔ آخر وہاں بھی تو موبائل فون سے خبر لے کر احرام کھولتے ہیں۔

اس بات میں ایک شرعی مشکل تو یہ کہ وہاں دس ذوالحج ہوگی تو یہاں نو ذوالحج ہوگی۔ اگرچہ یہ معاملہ بھی اہل علم میں زیر بحث ہے کہ پورے عالم اسلام میں، سعودی عرب کے چاند پہ ہی کیوں نہ عید، رمضان کیا جائے۔ تاہم اگر دن کا فرق بھی ہو تو معلوم ہونا چاہئے کہ حاجی کی قربانی، عید کی قربانی سے الگ ہے یعنی یہ حج کے شکر کی قربانی ہے۔

دیکھئے، نہ تو میں اس پہ کوئی فیصلہ دینے کے قابل ہوں نہ ہی کسی فرد کو ایسے اجتماعی معاملات میں فیصلہ کا حق ہے۔

میں فقط علما کے سامنے اپنا سوال واضح کر رہا ہوں کہ براہ کرم، اس مسئلہ پر تدبر کریں۔ 30 لاکھ حاجی، اوسطاََ فی بکرا 10 کلو کا ذبح کریں تو یہ 30 ہزار ٹن گوشت بنتا ہے جو آدھے کلو گوشت کے حساب سے 6 کروڑ غریب گھرانوں کے ایک دن کا کھانا بنتا ہے۔ مسئلہ صرف گوشت کا ہی نہیں۔ 10 لاکھ جانوروں کو دنیا بھر سے مکہ پہنچانا، ان کے لئے جگہ و چارہ کا بندوبست، ان کے ذریعے بیماریوں کا پھیلنا، بعد از ذبح، مکہ میں تعفن اور صفائی، اور اس ساری مشقت کے بعد، انہی جانوروں کا گوشت جہازوں میں بھر کر واپس غریبوں تک پہنچانا، کچھ عجیب سا معاملہ نہیں لگتا؟

مجھے تو خاص طور پر حنفی علماء سے گلہ ہے کیونکہ امام ابوحنیفہ کی شہرت یہ تھی کہ وہ الفاظ کی بجائے، حکم کی روح کو دیکھا کرتے۔ میں نے ایک بار ایک بڑے عالم سے پوچھا کہ امام ابوحنیفہ، طواف کی حالت میں، سینہ کعبہ کی طرف موڑنے کو کیوں مکروہ فرماتے ہیں؟ فرمایا اس میں ان کی اصل منشاء لوگوں کو تکلیف سے بچانا ہے۔ طواف کرتے ہوئے، سب ایک پوزیشن میں ہوں تو طواف آسان ہیں۔ اس رش میں کسی نے اپنا سینہ کعبہ کی طرف موڑا تو ٹریفک کے فلو میں رکاوٹ بن جائے گا۔

علماء میں رائے کا اختلاف ہونا،بری بات نہیں بلکہ عین منطقی ہے۔ اختلاف رائے تو ہوتا ہی اہل حق میں ہے۔ اہل باطل میں کہاں ہوتا ہے؟ حرام مال کھانے کا معاملہ ہو تو لٹیروں میں کیوں اختلاف ہوگا؟ مگر اس اختلاف میں، لوگوں کی آسانی کو سامنے رکھنا ہی دین کی منشاء ہے جس پہ مخلص مگر کم فہم بندہ نہیں پہنچ پاتا۔ مجھے یاد ہے کہ جب سعی کے برآمدے میں توسیع کا ارادہ ہوا تو سعودی عرب کے دو بڑے علماء میں کانٹے کا میچ پڑا۔ شیخ جبران، توسیع کے حق میں نہیں تھے۔ شیخ فوزان، جن کے فتوے پر توسیع کی گئی، ان کا موقف تھا کہ اگر سعی، حضرت حاجرہ کے نشان قدم پہ دوڑنے کا نام ہے تو پھر وہ ایک آدمی کے دوڑ برابر چوڑا راستہ ہونا چاہیئے اور اگر یہ دو پہاڑوں کے درمیان دوڑنا ہے تو پہاڑوں کی سطحِ زمین سے اوپر اصل چوڑائی ہم کو جیالوسٹ ہی بتائیں گے۔ پس اسی پر توسیع کا فیصلہ ہوگیا۔

خاکسار نے اپنا موقف اہل علم پہ بارہا پیش کیا ہے مگر اب تک ایک علمی عذر سامنے آیا ہے کہ قرآن کی نص صریح کے مطابق، قربانی کا جانور مکہ تک پہنچانے کا حکم ہے۔

میں یہاں، اس حکم اور اس کی تشریحات پہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ عرض کرتا ہوں کہ قرآن کا ایک عجیب اعجاز ہے۔ آپ اس کو جس نیت سے پڑھو گے، وہ ویسے معانی سامنے کردے گا۔ عربی لغت اور سیرت کو ملانے سے تفسیر کے کئی نئے پہلو سامنےآئیں گے مگر کوئی اہل علم ذرا نیت تو کر کے دیکھیں۔

آخری بات یہ کہ میں کیوں مولانا شیرانی سے ہی درخواست کر رہا ہوں کہ اس مسئلے کو اسلامی نظریاتی کونسل کے ایجنڈے پہ رکھیں جبکہ حج ایک انٹرنیشنل ایشو ہے جس میں پاکستان سے سالانہ صرف 5 لاکھ تک حجاج ہی جایا کرتے ہیں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ خاکسار ایک عجیب خوش امیدی کا شکار ہے کہ جلد ہی پاکستان اور اس کے ادارے، عالم اسلام کی قیادت کریں گے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مخلص مگر مختلف الخیال علماء کو پاکستان کی جمہوری منتخب کردہ اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلوں سے ہی راہنمائی لینا پڑے گی۔ چاہے اس وقت تک، اسلامی نظریاتی کونسل کے چئرمین، مولانا شیرانی ہوں یا جاوید غامدی یا کوئی مولوی غلام رسول ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *