چینی ہم سے مایوس ہیں ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین میں ساہیوال کول پاور پلانٹ مکمل کرنیوالی چینی کمپنی کے مرکزی دفتر میں داخل ہو رہا تھا۔ ان کی انتظامیہ سے ہماری ملاقات طے تھی۔ چلتے چلتے اچانک میری نظر ان کے دفتر میں لگی دو تصویروں پر ٹھہر گئی۔ یہ کیا نواز شریف اور شہباز شریف کی تصاویر وہ بھی اقتدار سے روانگی کے اتنے عرصے بعد تک۔ اقتدار میں ہوں تو تصویر نظر آ سکتی ہے مگر اب آخر ماجرا کیا ہے۔

گفتگو کے آغاز میں ہی ان کی انتظامیہ سے یہی سوال کر ڈالا۔ چین میں کمپنیاں سرکاری ہی ہوتی ہیں پھر دوسرے ملک کا معاملہ۔ لیکن جواب بڑا واضح ملا کہ انہوں نے کمال کر دیا تھا، اس لئے وہ ہمارے لئے ایک رول ماڈل کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ساہیوال کول پاور پلانٹ کا منصوبہ صرف 21مہینوں میں مکمل کروا دیا گیا تھا۔ حالانکہ اس پر سپر کریٹیکل اسٹیم انجن لگایا گیا جس کا استعمال پاکستان میں پہلی بار کیا گیا اور سب سے دلچسپ بات یہ کہی کہ آپ ان 21مہینوں کو عام بات نہ سمجھیں۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ جیسا منصوبہ پاکستان تو درکنار کبھی چین میں بھی اتنے کم وقت میں مکمل نہیں ہوا۔ اور یہ صرف ان دونوں صاحبان کی بدولت ہی ممکن ہوا تھا۔ میں دل ہی دل میں مسکرانے لگا کہ جب ایسی سرگرمیاں دکھائیں گے تو نواز شریف سے اسحاق ڈار تک نتائج تو بھگتیں گے۔ بھلا یہاں کون برداشت کرتا ہے کہ کوئی کارکردگی دکھائے۔

ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا تو ایک چینی ذرا سا جھکا اور بولا صرف ہمارے دفتر میں ہی نہیں آپ کو ان کی تصاویر چین میں بہت جگہ دکھائی دیں گی۔ ہمارے ملک میں سلوک چاہے جیسا بھی ہو رہا ہو بہرحال دنیا انہیں تسلیم کرتی ہے۔ میں آج کل ایک وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر ہوں۔ اس دورے کا اہتمام چینی سفارتخانے اور انڈر اسٹینڈنگ چائنہ کے سربراہ ظفر محمود نے کیا ہے۔ بلکہ وہ اس کے روح رواں ہیں۔

شرکائے سفر کا تعارف مظہر برلاس کروا چکے ہیں کہ جن سے سوچ کے اختلاف کے باوجود میرا محبت کا بڑا گہرا تعلق ہے اور وہ ہیں بھی محبت کے لائق۔ گزشتہ عشرے سے لیکر اب تک بار بار چینیوں کی دعوت پر چین جانے کا اتفاق ہوا۔ اور ہر بار یہ خیال مزید پختہ ہوا کہ وہاں کے اہل رائے کے نزدیک پاکستان کی حیثیت مسلم ہے۔ ہاں! اب ذرا پریشانی ہے کہ جس کا تذکرہ آگے چل کر کرتا ہوں۔

چینی بجا طور پر اپنی ترقی پر نازاں ہے اور اس ترقی کا سبب وہ اپنے ملک میں قائم مستحکم سیاسی نظام کو قرار دیتے ہیں کہ جس میں سب کچھ ایک مناسب منصوبہ بندی سے ہو رہا ہے اور وطن عزیز کی مانند انہونیاں وجود میں نہیں آتیں۔ وہاں پر اس بات کا اہتمام کیا گیا ہے کہ یہ ترقی صرف کاغذات تک ہی محدود نہ ہو بلکہ اس کے ثمرات سے عام آدمی بھی بہرہ مند ہو اور ان ثمرات کا ہی اثر ہے کہ اب چین میں خط غربت سے کم سطح پر حکومت چین کے اعداد و شمار کے مطابق صرف سولہ لاکھ افراد رہ گئے ہیں اور لامحالہ ایسی صورتحال کے زبردست مثبت اثرات سماجی زندگی پر بھی پڑ رہے ہیں۔

اس کے باوجود بہرحال وہاں پر دنیا کے دیگر ممالک کی مانند جرائم پیشہ افراد بھی بکثرت موجود ہیں۔ لیکن چین میں اس حوالے سے بہت افسوس پایا جاتا ہے کہ جب پاکستان میں پاکستانی خواتین کی چینیوں سے شادی کے معاملات سامنے آئے تو اس کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ جیسے تمام چینی پاکستان میں صرف جرائم کی نیت سے آ رہے ہیں۔ چین کی ساکھ کو خراب کرنے کی غرض سے اس معاملے کو خوب اچھالا گیا۔

مجھے ایک چینی سرکاری افسر نے کہا کہ 7ہزار پاکستانیوں نے چینی خواتین سے شادیاں کیں ان میں مسائل بھی سامنے آئے۔ اس وقت 50 سے زیادہ پاکستانی چین میں ایسے موجود ہیں جن کو مختلف جرائم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ دیگر جرائم اس کے علاوہ ہیں۔ لیکن ہم نے اس پر دھما چوکڑی نہیں مچائی کہ جس سے یہ تصور جاتا کہ تمام پاکستانی جو چین آ رہے ہیں، جرائم پیشہ ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر معاشرے میں ایک قلیل تعداد جرائم پیشہ ذہنیت کی ہوتی ہے۔

پاکستان میں بھی اس بات کو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ تمام چینی جرائم کی نیت سے نہیں آ رہے ہیں لیکن افسوس ایسا نہ ہوا بلکہ اس تصور کو بڑھاوا دیا گیا اور یہ بڑھاوا اس لئے دیا گیا کہ ہمارے کمزور ہونے کا تصور مضبوط کیا جا سکے کہ ہم دنیا کی ایک دوسری طاقت کے مقابلے میں پاکستان میں کمزور ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کیونکہ اگر ہم کمزور نہ ہوتے تو سی پیک کے معاملات ایسے نہ چل رہے ہوتے جیسے گزشتہ ایک سال سے چل رہے ہیں۔

ہمیں گزشتہ حکومت سے پنجاب میں سیف سٹی پروجیکٹ کے معاہدے کے لئے پہلے شہر میں نفع کے بجائے صرف اصل لاگت پر پروجیکٹ مکمل کیا کیونکہ ابھی باقی شہر پڑے تھے کہ وہاں سے کما لینگے۔ مگر موجودہ دور میں یہ منصوبہ عملاً سرد خانے کی نذر ہو گیا اور ہم پھنس گئے۔ اسی طرح ایک آن لائن شاپنگ والی معروف چینی کمپنی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے لیکن اس کی راہ میں بھی روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔

یہ رویہ اس دوسرے بڑے ملک کے ساتھ کہیں روا نہیں رکھا جاتا۔ چینیوں کے منہ سے اتنی مایوس کن گفتگو اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی اور یہ صرف چند محدود افراد کی رائے نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ چین کے معاملات سے منسلک جو چینی ہے، وہ اس صورتحال پر بہرحال پریشان ہے۔

یہ پریشانی صرف چینیوں کے لیے نہیں بلکہ پاکستانیوں کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ محدود مدتی اور طویل مدتی دونوں معاملات میں ہم چین سے اپنے تعلقات کو جوش و خروش کی سطح سے کم پر نہیں رکھ سکتے۔بہرحال ہمارے تزویراتی مفادات اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس سے میرا کہنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم کسی دوسرے سے دور ہو جائیں لیکن کسی دوسرے کی خاطر چین سے ایک بھی قدم پیچھے ہٹ جانا مناسب نہیں۔ دونوں کے درمیان توازن درکار ہے اور یہی ہماری ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •