سراب کا مستقبل – سگمنڈ فرائیڈ کی کتاب کا ترجمہ اور تلخیص
انسانی ضمیر کی پرورش انسانی شخصیت کے ارتقا کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ جن لوگوں میں ضمیر کی پرورش صحتمند خطوط پر ہوتی ہے وہ جوان ہو کر تہذیب کی مخالفت کرنے کی بجائے اس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور انسانی معاشرے کے ارتقا ء میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور کسی بھی معاشرے میں ایسے لوگوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوتی ہے، اتنا ہی وہ معاشرہ صحتمندخطوط پر استوار ہوتاہے اور لوگوں کی خارجی پابندیاں آہستہ آہستہ داخلی پابندیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور انسانوں کے ذہنوں میں حکومت کی خارجی عدالت کی بجائے ضمیر کی داخلی عدالت قائم ہو جاتی ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام کے لیے ایک صحتمند زندگی گزارنے کی خاطر خارجی اورداخلی دونوں طرح کی عدالت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کے لیے نفسیاتی دباؤ کے ساتھ ساتھ معاشرے کا اخلاقی دباؤ بھی ضروری ہوتاہے۔ صدیوں کے معاشرتی ارتقا کے بعد ہمیں بہت سے ایسے لوگ مل جائیں جو قتل سے تو دور رہیں گے لیکن اگر انہیں سزا کا ڈرنہ ہو تو وہ جھوٹ بولنے، دھوکا دینے، اپنے غصے اور جنسی جذبات کا غیر صحتمندانہ اظہار سے دریغ نہ کریں گے۔ ایسے لوگوں کو راہ راست پر رکھنے کے لیے خارجی قوانین اور پابندیاں ضروری ہیں۔
اگر کسی معاشرے میں ایسے طبقے اور اقلیتیں موجود ہوں جو بنیادی حقوق سے محروم ہوں تو وہ گروہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ایسی صورتِ حال کو بدلیں تاکہ ایک منصفانہ نظام قائم ہوسکے اور امیر و غریب، مرداور عورتیں، اور کالے اور گور ے سب ایک ہی قطار میں کھڑے ہو سکیں۔ ایک غیر منصفانہ نظام میں اقلیتوں میں غصے، نفرت اور بغاوت کے جذبات بڑھتے ہیں اور وہ تہذیب اور قانونی پابندیوں کو تباہ کرنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں ایسی صورت حال پیدا ہو جائے کہ منصفانہ نظام سے اکثریت متاثر ہونے لگے اور صرف ایک اقلیت آسودگی اور خوشحالی کی زندگی گزار رہی ہو تو وہ اکثریت احتجاج کرنے لگتی ہے اور بالآخر ایک انقلاب لے آتی ہے۔ میری نگاہ میں اسی اقلیت کو جو اکثریت پر ظلم اور جبر کرتی ہو اور ان کے مسائل سے ہمدردی نہ رکھتی ہو اسے حکومت کرنے کا ویسے بھی حق نہیں ہونا چاہیے۔
کسی معاشرے کی تہذیب کے ارتقا ء کے لیے صرف وہ پابندیاں ہی اہم نہیں ہیں جنہیں لوگوں نے اپنے ضمیر کی آواز کے طور پر اپنا لیا ہو بلکہ اس کے لیے تخلیقی کارروائیاں اور فن پارے بھی اہم ہیں جو اسی معاشرے کا سرمایہ ہیں اور جن سے لوگ ایک مخصوص قسم کا حظ اٹھاتے ہیں۔ کسی معاشرے میں تہذیبی سرمائے میں وہ آدرش بھی شامل ہوتے ہیں، جن کے حصول کے لیے عوام ہر ووقت کوشاں رہتے ہیں اور جو لوگ ان تک پہنچتے میں کامیاب ہوجائیں، انہیں انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔
ایسے آدرشوں تک رسائی کے لیے افراد کی کوشش، صلاحیتیں، معاشرے کی مدد اور حوصلہ افزائی سب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض دفعہ تو کوئی معاشرہ اپنے آدرشوں کو اتنا عزیز رکھتا ہے کہ وہ ایک مقام پر پہنچ کر یہ ثابت کرنے لگتاہے کہ اس کے آدرش باقی معاشروں کے آدرشوں سے بہتر ہیں۔ اس طرح ان میں ایک طرح کا احساس برتری پیدا ہو جاتاہے اور یہ احساس مختلف معاشروں، قوموں اور ثقافتوں میں رشک، حسد اور دشمنی کے بیج بوتا رہتاہے۔
عوام کی اس احسا س برتری کا بعض دفعہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عوام جن رہنماؤں سے شاکی ہوتے ہیں وہ رہنما جب دوسری قوموں سے مقابلے پر اتر آتے ہیں، تو یہی عوام ان رہنماؤں کا ساتھ دینے لگتے ہیں اور انہیں اپنا ہیرو بنا لیتے ہیں۔ اس طرح وہ لیڈ ر جو عوام میں مقبول نہیں ہوتے، جب دشمن سے جنگ کا اعلان کرتے ہیں تو وہ اپنی عوام کی ہمدردیاں حاصل کرلیتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ کئی ظالم اور جابر حاکموں نے اس حربے سے خوب فائدہ اٹھایا اور مدتوں حکومت کرتے رہے۔
ہر معاشرے کے لوگ اپنے فنی اور تخلیقی کمالات کا خوشی سے ذکر کرتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ عوام کی اکثریت ان فنون لطیفہ کے شاہکاروں سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتی کیونکہ ان کے ذوق کی ان خطوط پر تربیت نہیں کی جاتی لیکن وہ پھر بھی ان شاہکاروں پر فخر کرتے ہیں۔
جب ہم کسی معاشرے کی نفسیاتی زندگی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور عوام کے آدرشوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتاہے کہ اپنے رہنماؤں اور فنون لطیفہ کے شاہکاروں پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور حقیقت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے، جس پر اب تک ہم نے توجہ مرکوز نہیں کی اور وہ ہیں ان کے مذہبی نظریات اور اب میں اسی موضوع پر تفصیل سے بات کرتا چاہتاہوں۔ (باقی آئندہ)
۔ ۔ ۔

