وجاہت مسعود کا فکری بیانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وجاہت مسعود پاکستان کے سیاسی، سماجی اور علمی و فکری حلقوں میں ایک ممتاز دانشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی شناخت انسانی حقوق کے معروف کارکن، صحافی، مصنف، تجزیہ نگار اور استاد کی ہے۔ وہ ایک سنجیدہ طرز فکر کے لکھاری ہیں جن کی تحریریوں میں آپ کو سنجیدگی اور منطق کا پہلو نمایاں نظر آئے گا۔ جذباتیت کے مقابلے میں دلیل کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کرنے والے وجاہت مسعود شخصیات پر مبنی محاز آرائی میں الجھنے کی بجائے مسائل پر مدلل انداز میں اپنی بات کرتے ہیں۔ سیاست، سماج اور معاشرت پر ان کا اپنا ایک مخصوص نکتہ نظر ہے اور اپنا تجزیہ پیش کرتے وقت شواہد اور تاریخی حوالہ جات کی مدد سے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ ان کا مطالعہ بھی کمال کا ہے اور سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ محض اپنے نکتہ نظر کا مطالعہ نہیں کرتے بلکہ مخالف سوچ اور فکر کے لوگوں کی تحریریوں کا مطالعہ کرنا اور پھر اس مطالعہ کی بنیاد پر اپنی رائے پیش کرنا بھی ان کا خاصہ ہے۔

وہ ایک بڑے قومی روزنامہ سے منسلک ہیں اور اپنی تحریروں کی مدد سے فکری محاذ پر کافی سرگرم اور فعال حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ ان کی شاندار خدمات پر ان کو حکومت پاکستان کی طرف سے 2015میں صدارتی تمغہ برائے حسن کاکردگی عطا کیا گیا جو ان کی بلاشبہ فکری محاذ پر خدمات کا اعتراف بھی ہے۔ ان کی حالیہ کتاب ” محاصرے کا روزنامچہ 2“ان کے پچھلے برسوں میں لکھے گئے اہم کالموں کا مجموعہ ہے۔ کالموں کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں لکھے گئے مضامین موضوع اور صحت کے اعتبار سے اب بھی اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے ماضی اور مستقبل پر نظر رکھ کر بات کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے کالموں سے تحقیق سے جڑے افراد بھی راہنمائی لے کر مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔

اگرچہ ان کا انداز بیان بہت سادہ نہیں لیکن پڑھے لکھے افراد میں ان کے لکھے ہوئے لفظوں کی اہمیت ہے اور اپنا وسیع حلقہ بھی رکھتے ہیں۔ ان کی ہر بات سے اتفاق کرنا بھی ضروری نہیں اور خود مجھے کئی بار ان کی تحریروں سے اختلاف رہا ہے۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ اس فکری محاذ پر اختلاف کے باوجود ان سے محبت کا رشتہ بھی ہے۔ خود وجاہت مسعود ان لوگوں میں سے ہیں جو اختلاف بھی سلیقہ سے کرتے ہیں اور ان کے حلقہ احباب میں دائیں اور بائیں بازو کے لوگ موجود ہیں۔ اختلافی مسائل پر تنقید کرتے وقت وہ اپنا توازن برقرار رکھتے ہیں اور اس سلیقہ سے اختلاف کرتے ہیں وہ کسی نئی بحث کا حصہ بن جاتا ہے۔ اختلاف کی بنیاد کو ذاتی رنجش یا دشمنی میں نہیں بدلنے کی بجائے مکالمہ کے حامی ہیں اور مکالمہ کی بنیاد پر ہی اپنی فکری جنگ لڑتے ہیں۔

وجاہت مسعود ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے فکری محاذ پر جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، انتہا پسندی، دہشت گردی، صنفی امتیاز کے خاتمہ، سیکولر سیاست کے لیے اپنی جنگ لڑی ہے اور اب بھی اسی فکر کی بنیاد پر لڑرہے ہیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی پر ان کے بہت سے مضامین لاجواب ہیں اور اس وقت بھی ملک میں انتہا پسندی کے خاتمہ میں ایک نئے بیانیہ کی جنگ میں سرگرداں ہیں۔ ان کی اس حالیہ کتاب میں شامل تمام مضامن پڑھنے کے بعد پڑھنے والوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ معاملات کا محض تجزیہ ہی نہیں کرتے بلکہ مسائل کا سنجیدگی سے حل بھی پیش کرتے ہیں۔

75 کے قریب اہم مضامین اس کتاب کا حصہ ہیں جسے سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔ ان کی تحریروں پر معروف دانشور آئی اے رحمان کہتے ہیں کہ ” وجاہت مسعود کے باکمال کالم نویس ہونے میں زبان و بیان پر عبور ہونے کے علاوہ جن عوامل کا دخل شامل ہے ان میں ان کا تاریخ، سیاست اور ادب کا وسیع مطالعہ، تاریخی حوالوں تک دسترس اور ایک حیران کن یادداشت کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ “اسی طرح اجمل کمال کے بقول ”ان کی تحریروں کی دو خوبیاں عمدہ نثر اور متین انداز بیان ہیں اور یہ خوبیاں پاکستان کی اردو صحافت سے قریب قریب رخصت ہوچکی ہیں۔ “ اس سے قبل وجاہت مسعود دس کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں نصاب گل، جمہوریت کیا ہے، بنیاد پرستی کیا ہے؟ جمہوریت کے سو برس، طالبان یا جمہوریت، سیکولر ازم کیا ہے؟ پاکستان میں زرعی اصلاحات، تنقیدی شعور کیا ہے؟ جیسی کتابیں شامل ہیں اور چھ کے قریب کئی اہم کتابو ں کے ترجمہ بھی کرچکے ہیں۔

وجاہت مسعود ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے انتہاپسندی جیسے اہم اور حساس مسئلہ پر بہت خوب لکھا اور ایسے وقت میں لکھا جب بہت سے لکھنے والے لوگ انتہا پسندی کا کسی نہ کسی حوالے سے جواز پیش کیا کرتے تھے۔ لیکن انہوں نے تمام تر خطرات کے باوجود اس مسئلہ پر لوگوں کی فکری راہنمائی کی اور باور کروایا ہے کہ انتہا پسندی پر مبنی سیاست اس ملک کے وجود کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ جمہوریت کے داخلی اور خارجی مسائل پر بھی بہت لکھا اور اب بھی جمہوریت کو ہی اس ملک لیے ناگزیر سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سیاست دانوں کی غلطیوں کے باوجود ہمیں سیاست اور سیاست دانوں کا مذاق آڑانے کی بجائے اصلاحات کے عمل پر توجہ دینی چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اصلاحات کا عمل کیسے ہوگا اور کیوں سیاسی جماعتوں کی موروثی سیاست داخلی جمہوریت کے نظام کو مضبوط بنائے گی۔ کیونکہ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے ازخود اپنی جماعتوں میں اصلاحات کا دروازہ بند کیا ہوا ہے۔

وجاہت مسعود کی یہ تحریریں بنیادی طور پر ہماری سیاسی، سماجی تاریخ کی کہانی بھی ہے اور ان کی تحریروں میں ایسے لاتعداد حوالہ جات پڑھنے کو ملتے ہیں جو قاری کو یقینی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ وہ نظام کو درست کرنے کی خواہش کی بنیاد پر لکھتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہمارا اپنا حکمرانی کا نظام منصفانہ بھی اور شفاف بھی۔ انہوں سے سیاست کے علاوہ سماجی موضوعات پر بھی خوب لکھا ہے اور معاشرے میں موجود بڑی سماجی پس ماندگی،غربت، سیاسی، سماجی و معاشی ناہمواریاں، عدم انصاف، اقلیتوں کے مسائل،بچوں اور عورتوں کے حقوق سمیت مزدور اور کسان طبقات کے مسائل پر ان کی تحریریں قابل قدر ہیں۔ وہ کیونکہ خودکئی دہائیوں تک سماجی شعبہ میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عام اور کمزور طبقات کے مسائل کیا ہیں۔ بہت قریب سے عام اور کمزور طبقات کے ساتھ وقت گزرانے والے وجاہت مسعود ان کے مسائل کو بڑی طاقت سے اپنی تحریروں کی حصہ بناتے ہیں۔

سیاست میں شائشتگی اور تحمل و بردباری کے فقدان پر بھی وجاہت مسعود کافی رنجیدہ نظر آتے ہیں اور ان کے بقول محض سیاست ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر سماج میں مکالمہ کا کلچر کمزور ہوا ہے اور لوگوں میں انتہا پسندی یا شدت پسندی بڑھ رہی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ الجھاو میں نظر آتے ہیں جو مثبت عمل نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس شدت پسندی کو بڑھانے میں جہاں دیگر عوامل کارفرماہیں وہیں ہمارے اہل سیاست نے بھی ان خرابیوں میں اپنا بڑا حصہ ڈالا ہے۔ جو لب ولہجہ اب اہل سیاست میں پروان چڑہ رہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاست میں انتہا پسندی کم نہیں بلکہ اور زیادہ بڑھے گی۔ کیونکہ جب سیاست درست سمت میں نہیں چلے گی تو وہاں جان بوجھ کر ایسی سیاست کی جاتی ہے جو لوگوں میں محاز آرائی پیدا کرنے کاسبب بنے اور طاقت ور طبقات کے مفادات کو کوئی ضرب نہ لگے۔

وہ ایک مضبوط ریاست کے تناظر میں کہتے ہیں کہ ”معیشت اور سیاست کی سمت درست کرنے کے لیے ہمیں شہریت کی مساوات بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ رعایا اور شہری میں حکم اور استحقاق کا فرق ہوتا ہے۔ شہری ٹیکس دیتا ہے اور ملکی معاملات میں شرکت کاحق رکھتا ہے، شہریوں کے درمیان حقوق اور رتبے کی مساوات قائم کیے بغیر ریاست کا نصب العین واضح نہیں ہوسکتا۔ہمیں اپنے آئین، قوانین اور تمدن پر نظر ڈل کر سوچنا چاہیے کہ ہم نے شہریت کے تصور کو مجروع تو نہیں کیا۔ “

وجاہت مسعود آج کل بڑی شدت سے ایک بڑی سیاسی مفاہمت پرزور دے رہے ہیں اور ان کے بقول اگر اہل سیاست چاہے وہ حکمران جماعت ہو یا حزب اختلاف کی سیاست ان کو سیاست اور معیشت کے تناظر میں باہمی اختلافات کو دور کرکے ایک جامع پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت سیاست میں جو بداعتمادی ہے یا جو محاز آرائی کی سیاست جہاں ایک دوسرے کے وجود کو ہی قبول کرنے سے انکا ر کیا جارہا ہے وہاں کیسے مفاہمت کی سیاست ہوسکتی ہے۔ یہ ہی وہ بڑا چیلنج ہے جو اس وقت ہماری سیاست کو درپیش ہے اور اس سے نکلنا ہی وقت کی ضرورت بھی ہے۔

بشکریہ ایکسپریس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •