یاد بھی نہ رکھا اسے بھول بھی نہ پائے
ضرور کروں گی؟ اس نے بے ساختہ کہا اور اٹھ کر میرے گلے سے لگ گئی۔ یہی تو سوچا تھا میں نے کہ کسی اچھی سی اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرلوں گا اور اسی ملک میں کسی جگہ پر مجھے کنسلٹنٹ کی نوکری بھی مل جائے گی اور کیا چاہیے تھا زندگی سے مجھے۔ پاکستان واپس جانے کا کوئی خاص شوق نہیں تھا مجھے۔ امی تو بچپن میں ہی مرگئی تھیں، ابو نے دوسری شادی کرلی تھی۔ نجانے کیوں پہلے دن سے میں نے اپنی دوسری ماں کو دل سے قبول نہیں کیا۔
حالاں کہ ہر طرح کی محبت اور پیار دیا انہوں نے اوران کے بچوں نے۔ بچوں سے تو میرے اچھے تعلقات تھے لیکن کبھی بھی اپنی امی کی جگہ دوسری ماں کونہیں لاسکا میں۔ نجانے میری شخصیت کیوں ایسی بن گئی تھی۔ ان کی جگہ کبھی بھی کسی اور کو نہیں دے سکا میں۔ میں نے بڑے دکھ سے سوچا کہ کیا فرق پڑجاتا اوپر والے کی اس کائنات میں اگر ایک دفعہ میری بھی مرضی چل جاتی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے ہوجاتے، ایک دوسرے کے ساتھ رہ لیتے، ایک دوسرے کی خوشی میں شریک ہولیتے، ایک دوسرے کے غم میں شامل ہوجاتے۔ ایک ساتھ جیتے، ایک ساتھ مرجاتے۔
کوئی بھی نہیں ہوگا اس کے پاس جب وہ اپنے گھبرائے ہوئے معصوم چہرے کے ساتھ آپریشن تھیٹر لے جائی گئی ہوگی۔ اس کے نازک سے ہونٹوں کے اوپر جہاں ہلکی ہلکی رویں تھیں جو اس کی شکل کوانتہائی جاذب نظر بنادیتی تھیں وہاں چھوٹے چھوٹے ننھے ننھے خوف سے نکلے ہوئے پسینے کے قطرے ہوں گے۔ اس نے خاموش کوریڈور میں سہمی ہوئی نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا ہوگا۔ سراسیمہ آنکھوں سے بوجھل دل سے۔ اندر انہوں نے اس کی رگوں میں کینولا ڈالے ہوں گے۔ مختلف مشینوں کے کنکشن اس کے جسم سے لگائے ہوں گے۔ اسے انجکشن دیا ہوگا۔ اسے بے ہوش کرکے اس کی سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر اسے مشینی پھیپھڑوں کے ساتھ لگادیا ہوگا۔ اس نے آنکھیں میچی ہوں گی، پھر گہری تاریکیوں میں کھوگئی ہوں گی۔ دل اس کا دھڑکتا ہوگا، سانس مشینیں لیتی ہوں گی۔
گلے اور بازوؤں سے لے کر پیٹ تک اس کے جسم پر پایوڈین، اسپرٹ اور دوسری دواؤں کو رگڑ رگڑ کر لگایا گیا ہوگا۔ جسم کے بقیہ حصوں کو موٹے نیلے رنگ کے کپڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ہوگا۔ پھر ایک چاقو کی نوک سے چھاتی شن سے کٹ کر جسم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئی ہوگی۔ گھنٹے دو گھنٹے سرجنوں نے اس کی بغل کے ایک ایک گلینڈ کو غور سے دیکھا ہوگا۔ انہیں آہستہ آہستہ کاٹ کاٹ کر جسم سے الگ کیا ہوگا اور پھر کسی بے حس سوئی سے اس نرم گرم جسم کو سی دیا ہوگا۔ اس نے آنکھ کھولی ہوگی توک ون ہوگا اس کے پاس۔ میں نہیں تھا وہاں، میں نے درد سے سوچا۔ اس نے محسوس کیا ہوگا کہ اب اس کا جسم نامکمل ہے، کمبل، چادر، پٹی اور روئی کے پھایوں کے نیچے کچھ بھی نہیں ہے، صرف سینہ ہے پسلیوں کی ہڈی، جن کے درمیان تھوڑی تھوڑی جگہ۔ اس کے آنسو نکل آئے ہوں گے۔
کاش میں ہوتا، ہاتھ پکڑلیتا اس کے، اس کی آنکھوں کو صاف کرتا، اس کے ماتھے کو اپنے گرم گرم ہونٹوں سے چوم لیتا۔ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے کٹورے میں تھام لیتا، اسے سینے سے لگا کر اپنے آپ میں بسالیتا، اکیلا نہ چھوڑتا اسے۔ یہ تو کرسکتا تھا میں۔ مجھے یکایک شدید غصہ آیا تھا۔ جہاز میں لوگ کھانا کھاکر اپنی اپنی کرسیوں کو پیچھے کرکے سوگئے تھے یا پھر کوئی فلم دیکھ رہے تھے۔ میں نے انہیں بھی ایک طرح کے غصے سے ہی دیکھا تھا۔
اس دن بھی مجھے غصہ آگیا تھا۔ شنین نے بتایا کہ ہماری شادی اسی وقت ہوسکتی ہے اگر میں کیتھولک ہوجاؤں اور پھر شادی چرچ میں ہو۔ یہی اس کے ماں باپ اور چرچ کے پادری کا خیال تھا۔
”کیا بکواس ہے، ابسرڈ ہے، ٹوٹل ابسرڈ۔ ارے میرا نام عارف ہے مسلمانوں والا۔ اس لیے کہ میں مسلمان گھر میں پیدا ہوا ہوں۔ میں کون سے مسلمانوں کے کام کرتا ہوں؟ نہ نماز پڑھتا ہوں، نہ روزہ رکھتا ہوں، شراب میں پیتا ہوں، جھٹکے کا گوشت میں کھاتا ہوں۔ گرل فرینڈ بھی رکھی ہیں میں نے۔ جوا میں کھیلتا ہوں، سود میں کھاتا ہوں۔ پھر کیتھولک کیسے ہوسکتا ہوں میں۔ تمہیں بھی پتا ہے کہ اپنے مولویوں کی طرح پوپ کو بھی ایک جوکر اور ایک ایکٹر ہی سمجھتا ہوں میں؟ “
”ہاں مجھے پتا ہے اوریہ بھی پتا ہے کہ تم جھوٹ موٹ بھی کیتھولک نہیں ہوگے۔ تمہاری فطرت میں بڑا سچ ہے۔ اسی وجہ سے تو میں نے تم سے دوستی کی ہے، محبت کی ہے اور اتنی محبت کی ہے کہ شاید تم سمجھ بھی نہیں سکوگے۔ پہلے دن تم سے ملنے کے بعد تم کبھی بھی مجھ سے جدا نہیں ہوئے ہو اور شاید کبھی بھی نہیں ہوگے۔ اس نے پہلی دفعہ پوری شدت کے ساتھ محبت کا اقرار کیا لیکن میں ایتھیسٹ نہیں ہوں۔ تمہاری طرح اگنوسٹک بھی نہیں ہوں۔
کیتھولک اچھی کیتھولک نہ صحیح پر ہوں کیتھولک۔ پوپ کو جوکر نہیں سمجھتی اور شادی کورٹ میں نہیں کلیسا میں کرنا چاہتی ہوں۔ بچپن سے اب تک اپنے اسکول سے لے کر کالج تک زندگی کے ہر مرحلے پہ پوپ، کلیسا، فادر، میری کرائسٹ، ہولی گھوسٹ، یہ سب میری زندگی کا حصہ رہے ہیں۔ ان سے الگ تو نہیں ہوسکی۔ پہلے الگ نہیں ہوئی تو اب کیسے الگ ہوں گی؟ میں نے کوشش کی تھی مگر ممکن نہیں ہوا۔ تمہاری محبت شدید ضرور ہے لیکن میں اپنے ماضی اوراپنے بیک گراؤنڈ سے علیحدہ نہیں ہوسکتی ہوں۔ “
ہم دونوں ایک دوسرے کودیکھتے رہے۔ چار سالوں میں وہ پہلی شام تھی جب ہم جدا ہوئے تو آنسو تھے ہمارے دلوں میں اورآنکھیں کسی بنجر دریا کی طرح خشک۔
اس کے بعد بھی ہم ملتے رہے، ایک دوسرے سے الجھتے رہے، ایک دوسرے کی سنتے رہے، غموں کے پہاڑ میں دبے ہوئے دکھ کے سمندر میں ڈوبے ہوئے۔
بڑی مشکل سے اس دکھ سے نکلی ہوگی، میں نے سوچا۔ لندن کے ہسپتال میں آپریشن ہوا تھا تو ٹھیک ہی ہوا ہوگا۔ جلد ہی ہسپتال سے گھر چلی گئی ہوگی۔ مگر پھرکیموتھراپی۔ میرے پورے بدن میں ایک جھرجھری سی اٹھی تھی۔ کینسر کے بعد اورآپریشن سے نارمل اورکینسر زدہ چھاتی نکال لینے کے بعد پھر جو دوائیں دی جاتی ہیں وہ توخود ایک عذاب ہیں۔ میں نے اکثر سوچا تھا کہ میں کیا کروں گا اگرمجھے کینسر ہوگیا تو؟ کیا کیموتھراپی بھی کراؤں گا اپنی؟ میں اورمیرے دماغ نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ نہیں اس کے بغیر ہی چاہوں گا کہ مرجاؤں۔ سال دو سال ہی اگر بچنا ہے تو اس کی کیا ضرور ہے مگرسوچنے کی بات اور تھی اور کرنے کی اور۔ میں اپنے سارے مریضوں کو کیموتھراپی کے لیے ضرور بھیجتا تھا۔
شنین کے بھی انجکشن لگے ہوں گے۔ خون کا ٹیسٹ، اینٹی بائیوٹک کا کورس، خون کی بوتل، اس کا تو بلڈ گروپ بھی او نیگیٹو تھا جو بہت ہی کم ملتا ہے پھر اس کے سارے بال گرگئے ہوں گے۔ الٹیاں کر کرکے تھک گئی ہوگی۔ پتا نہیں گھر سے کون آیا ہے۔ دل کتنا خالی۔ من کتنا پاگل۔ شنین نے مجھے خبر تک نہیں کی۔ آخری بار ملے تو کچھ وعدہ کیا تھا ہم دونوں نے، کچھ قسمیں کھائی تھیں، کچھ اعتبار سا جس کے ساتھ جدا ہوئے تھے مگر قسمیں ٹوٹ گئیں، اعتبار کھوگیا، وعدے وعدے نہ رہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


