یاد بھی نہ رکھا اسے بھول بھی نہ پائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس نے اپنی چھاتیوں پر ایک گانٹھ سی ایک ابھار سا یا کچھ عجیب سا محسوس کیا ہوگا۔ ایک جھنجھناہٹ جیسے آہستہ آہستہ بہت ساری چیونٹیاں رینگ رہی ہیں اور ساتھ ہی سر سے لے کر پیر تک خوف کی ایک ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی ہوگی۔ کینسر، چھاتیوں کا سرطان، مجھے سوچ کر پسینہ آگیا۔ موت اپنا پرعزم چہرہ لیے سامنے کھڑی ہوگی اس کے۔ پھر تسلی دی ہوگی اس نے اپنے آپ کو، نہیں، کینسر نہیں ہوگا یہ۔ ایسی ہی معمولی سی بات ہوگی، معمولی سی معصوم سی سسٹ مگر پریشان تو ہوئی ہوگی وہ۔

جہاز کی سیٹ پر بیٹھتے ہی سب سے پہلا خیال میرے ذہن میں یہی آیا۔ مجھے لگا جیسے میرے سر میں شدید درد شروع ہوگیا ہے۔ میں نے آنکھیں موند کر سر سیٹ کے پیچھے ٹکادیا۔

وہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھی، نازک سی، لانبی سی، بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ اپنی سحر انگیز مسکراہٹ لیے۔ وہ آئی، بیٹھی، ہنسی اس کی باتیں مسکرا مسکرا کر اپنے بال جھٹکتے ہوئے مجھ سے بحث کی پھر مسکرائی، چاؤ  پھر ملیں گے کہہ کر چلی گئی۔ وہ ایسی ہی تھی۔ آتی تھی توکھل اٹھتا تھا میں، جاتی تھی تو اُداس کرجاتی تھی، بے کل کرتی تھی مجھے، گھنٹوں، دنوں بے قرار رہتا تھا میں اس کے بغیر۔

میری اس کی ملاقات میں ایک پب میں ہوئی۔ شام کا وقت میں ہسپتال سے فارغ ہوکر پکاڈلی سرکس پر امجد سے ملنے آیا تھا کہ کسی تھائی ریسٹورنٹ میں کھانا کھا کر غڑمستی کریں گے یا پھر کوئی فلم دیکھی جائے گی۔ پر سات بجے اس کا فون آگیا کہ وہ کسی مسئلے میں پھنس چکا ہے او اسے ہسپتال واپس جانا پڑگیا ہے لہٰذا وہ نہیں آسکے گا۔ میں نے سوچا اکیلے ہی سہی لیکن پہلے تھوڑی سی پی لی جائے۔ اس پب میں جا کر میں نے جیک ڈینیل کا آرڈر دیا اور شیشے کی دیوار سے روڈ پر چلنے والے جم غفیر کو تاڑ نے بیٹھ گیا۔

پکاڈلی کا علاقہ بھی کیا علاقہ ہے۔ دنیا ی ہر نسل کا آدمی، ہر مذہب کا پیروکار اور ہر زبان بولنے والا وہاں پر نظر آجاتا ہے۔ گورا کالا چینی جاپانی یورپین امریکن ہری راما ہری کرشنا کے جاپ کرتے ہوئے نئے نئے بننے والے ہندو اور تبلیغی جماعت کے مسلمان اپنے اپنے بیگ اٹھائے ہوئے یا کسی بنیاد پرست عیسائی فرقے کا تبلیغی پمفلٹ بانٹتا ہوا کوئی داڑھی والا عیسائی۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر اک ہر کسی کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور کسی کو بھی کسی کی خبر نہیں ہوتی۔

پھر یکایک پھوار برس پڑی۔ لندن شہر کا موسم تو محبوبہ کے موڈ سے بھی خراب ہے مگر اس خرابی میں ایک خوبی ہے کہ ہر ایک اسی شہر کا اسیر ہوجاتا ہے۔ بارش کے ساتھ ہی یکایک بہت سارے لوگ پب میں گھس آئے تھے۔

اسے بھی میں نے شیشے کے اس طرف دوڑ کر پب کی جانب آتا دیکھا۔ پھر وہ دروازے سے در آئی۔ پب میں جگہ نہیں تھی پر میرا ٹیبل خالی تھا۔ بے اختیار دل میں یہ بات آئی کہ اسے میرے پاس ہی آنا چاہیے۔ پھر وہ چھم سے میرے سامنے آگئی۔

”کیا بیٹھ سکتی ہوں؟ “ اس نے ہچکچا کر پوچھا۔

”میں جیک ڈینیل پی رہا ہوں، آپ کیا پئیں گی؟ “ میں نے سوال سے سوال کا جواب دیا۔

وہ مسکرا کر بیٹھ گئی۔ ”نہیں میں منگاتی ہوں۔ “ اس نے اسی طرح سے مسکراتے ہوئے کہا۔

”میں منگوالوں گا تو اس میں کون سی برائی ہے۔ “ میں نے ویٹر کو اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا۔

وہ جھجکی تھی پھر مسکراکر ہی بولی ”گنس چلے گی۔ “ ویٹر موٹی سفید پھین والی سیاہ گنس لے کر آیا اور میں نے فوراً ہی بل کے پیسے دے دیے۔

”میں عارف ہوں، پاکستان سے تعلق ہے میرا۔ ایک ہسپتال میں کام کرتا ہوں۔ “ میں نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تھا۔

”میں آئرش ہوں شنین نام ہے میرا۔ یو سی ایل میں پڑھتی ہوں۔ “ اس نے مسکرا کر مجھ سے ہاتھ ملایا۔

پھر اچانک اس سے دوستی ہوگئی، وقت ضائع کیے بغیر۔

ایک اور جیک ڈینل اور گنس منگائی تھی اس نے اور ہم دونوں ہی کھل گئے تھے ایک دوسرے سے۔

میں نے اسے بتایا کہ می نے دو سال ڈبلن میں کام کیا ہے، وہاں سے فیلوشپ کرنے کے بعد اب لندن میں کام کررہا ہوں۔ دو چار سال اورٹریننگ لوں گا پھر واپس پاکستان چلا جاؤں گا۔ پھر میں نے اسے آئرش لوگوں کے کھل کھلاتے ہوئے لطیفے سنائے اوروہ بھی کھل کھلا کر ہنسی تھی۔

میں نے سوچا کہ اب امجد نے تو آنا نہیں ہے کیوں نہ شنین کے ساتھ ہی کھانا کھا لیا جائے۔ اسی تھائی ریسٹورنٹ میں۔ جیک ڈینل کے آتے ہی میں نے اس سے پوچھا، کیا وہ میرے ساتھ کھانا کھائے گی؟ میں نے اسے بتایا کہ میرا ایک دوست کے ساتھ انڈیا کی فلم بینڈت کوئن دیکھنے کا پروگرام تھا۔ جس کے بعد تھائی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانا تھا جہاں دو افراد کی جگہ ابھی بھی بک ہے۔ وہ تو آیا نہیں ہے تو تم ہی میرے ساتھ کھانا کھا لو۔

شنین مسکرائی، ”کسی اور کے ساتھ تو نہیں کھاتی لیکن پاکی کے ساتھ کھالوں گی۔ “ اس نے بڑی ادا سے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو گھما کر کہا۔

میرے دل سے بے ساختہ چیخ سی نکل گئی، کہاں تھی شنین اب تک کہاں تھی۔

اگر چھاتیوں میں کوئی بھی گٹھلی سی محسوس ہو، کوئی ابھار سا لگے تو پاکستان میں فوراً ہی لوگ میمو گرام کراتے ہیں حالاں کہ میمو گرام کی ضرورت تو اس وقت ہوتی ہے جب شک ہو کہ کچھ ہوگا۔ جب کچھ محسوس نہیں ہوتا تو میموگرام کیوں؟ لیکن یہاں تو کمیشن بازی کا چکر ہے۔ جو بھی میموگرام کرانے بھیجتا ہے پندرہ سو کی فیس میں تین سو کا حصہ دار بن جاتا ہے۔ اس کی چھاتیوں پر یقینی طور پر کوئی گروتھ ہوگی ورنہ اتنا جلدی تو یہ سب کچھ نہیں ہوجاتا۔

میں نے سوچا کہ آپریشن تھیٹر میں اس کی گروتھ والی چھاتی میں باریک سی سوئی ڈال کر پانی نکالا گیا ہوگا۔ مہربان ڈاکٹر نے کہا ہوگا کہ اب ان میں خلیوں کا مشاہدہ کیا جائے گا کہ کہیں ان میں سرطان کا اثر تو نہیں ہے۔ اگر سرطان ہوگا تو پھر شاید چھاتی کا تھوڑا حصہ نکال دیا جائے گی یا شاید مکمل طور پر چھاتیوں کوہی نکال دینے کی ضرورت ہوگی۔ تھیٹر کا وہ کمرہ پرچھائیں کی طرح میری نظروں کے سامنے گھوم گیا۔

میرے سامنے پھر اس کا چہرہ آگیا۔ وہی معصوم شرارت سے بھرا ہوا شفیق چہرہ یہ سنتے ہی سفید ہوگیا ہوگا۔ اس نے سوچا ہوگا کہ اسے کینسر ہوگیا ہے، اس کا آپریشن ہوگا وہ مرجائے گی۔ کینسر سے کون بچتا ہے خاص طور پر چھاتیوں کا کینسر توجان لیوا ہوتا ہے، ختم کردیتا ہے انسان کوتیزی کے ساتھ۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں آنسوؤں کے سمندر میں ڈوب گیا ہوں۔

جہاز آہستہ آہستہ حرکت کرکے اپنی اڑنے کی پوزیشن میں آچکا تھا۔ میں نے رومال نکال کر اپنی آنکھوں کو آہستہ آہستہ پونچھا۔

”میں موت سے نہیں ڈرتی ہوں۔ “ اس نے سینما ہال سے نکلتے ہوئے کہا تھا۔

ہوا یہ تھا کہ اس ملاقات کے پانچ دن بعد ہی اس کا فون آیا کہ اس نے بینڈت کوئن کے دو ٹکٹ خرید لیے ہیں، اگر میں فرصت میں ہوں تو ضرور فلم دیکھوں پھر کھانا بھی وہ کھلائے گی، فلم کے بعد اوکسفرڈ سرکس کے پاس پاکستانی ریسٹورنٹ میں۔ میں نے جھٹ حامی بھرلی۔ یہ تو فلم تھی کھانا تھا، وہ کچھ بھی کہتی میں کرلیتا۔ ڈیوٹی پہ ہوتا تو ڈیوٹی چھوڑ کر چلا جاتا۔ ایسی ہی تھی وہ، بھرپور۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •