یاد بھی نہ رکھا اسے بھول بھی نہ پائے
میں نے ہی اس سے کہا تھا کہ اب ہم شاید ہمیشہ کے لیے جدا ہوجائیں۔ اس دن ہم لوگ اپنے پسندیدہ تھائی ریسٹورنٹ میں ملے جہاں پہلی دفعہ ساتھ کھانا کھایا تھا ہم نے۔
”میری نوکری ختم ہوگئی ہے۔ میں نے ٹکٹ خریدلیا ہے، میں پاکستان واپس جارہا ہوں۔ سوچا تو یہ تھا کہ کبھی نہیں جاؤں گا، تمہارے ساتھ زندگی گزاروں گا مگر یہ ممکن نہیں ہے۔ بس کسی جھوٹ کی بنیادوں پر اس رشتے میں داخل نہیں ہوسکتا ہوں، جوپہلے سے ہی قائم ہے معتبر ہے جس میں تمہاری حیثیت کسی دیوی کی سی ہے اور تمہارے بغیر اس ملک میں، میں رہ بھی نہیں سکوں گا۔ جہاں بھی جاؤں گا تم میرا پیچھا کرتی رہوگی، مجھے ہانٹ کروگی۔ میں تڑپتا رہوں گا۔ یہ توکوئی زندگی نہیں ہوگی۔ “
تڑپتا تو میں پھر بھی رہا۔ وہ میرا پیچھا کرتی رہی، ہانٹ کرتی رہی اورمیں اسے بھلانے کے لیے پتا نہیں کیا کچھ کرتا رہا۔ اس نے میری یادوں میں رہنے کے لیے کوئی جتن نہیں کیے۔ وہ تو بس ساتھ تھی ہر وقت ہر جگہ، ہر لمحہ رات دن، صبح شام۔ کیسی بڑی بھول تھی میری کہ بھول جاؤں گا اسے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ رو دی تھی، آنسوؤں کی لڑیاں تھیں جوپھوار کی طرح برس رہی تھیں۔
میں نے کہا تھا کہ جہاں بھی ہویہ یاد رکھنا کہ ایک آدمی ہے جس کے وجود کا حصہ ہو تم، جو تمہیں کبھی بھی نہیں بھولے گا۔ میں نے کہا تھا، وعدہ کرو کہ جب کبھی بھی مشکل میں ہو تو مجھے یاد کروگی۔ نجانے کیسی عجیب رومانی خواہش تھی میری۔ شاید سارے محبت کرنے والے لوگ اسی طرح سے سوچتے ہوں گے، یہی باتیں کرتے ہوں گے۔ اسی طرح کی قسم دیتے ہوں گے۔ ہم لوگ جدا ہوکر بھی جدا نہیں ہوں گے اور تم بھی یاد رکھنا سمندروں کے اس طرف، تمہارے گھر سے، ملک سے بہت دور کوئی ہے جس کے دل میں تمہاری محبت کی شمع روشن ہے، روشن رہے گی۔ پھر اس نے بھی میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ یہ وعدہ کرو کبھی بھی کسی بھی مشکل میں ہوگے تو مجھے خبر کروگے۔ یہ سمجھ رکھنا کہ ایک دل کے دروازے ہیں جو ہمیشہ کھلے رہیں گے۔
دروازے کھلے رہے، ہمیشہ کھلے رہے۔ پاکستان آکر میں اسے کبھی بھی نہیں بھولا۔ ہسپتال میں، گھر میں، بازار میں وہ کیتھولک لڑکی ایک ایگنوسٹک کے دل و دماغ پہ چھا کر رہ گئی۔ میں سوچتا رہا کہ اس نے شادی کرلی ہوگی کسی کیتھولک کے ساتھ، کسی چرچ میں پادری کے سامنے۔ ماں باپ کے ساتھ تصویریں بنی ہوں گی۔ چلو خوش تو ہوگی جہاں بھی ہوگی۔ حالات نے مجھے خوشیوں سے محروم رکھا، کوئی بات نہیں وہ تو خوش ہوگی۔ یہی سوچ سوچ کر میں زندگی گزارتا رہا، اپنے کام میں مصروف سے مصروف تر ہوتا گیا۔ گھر والوں کی ضد کے باوجود میں شادی نہیں کرسکا۔ دیکھتے ہی دیکھتے آٹھ سال گزرگئے پھر یکایک مجھے خبر ملی تھی کہ وہ لندن کے کینسر ہسپتال میں داخل ہے۔ تین سال پہلے اسے چھاتی کا کینسر ہوگیا تھا جس کے بعد اس کا آپریشن کیا گیا پھر کیموتھراپی ہوئی تھی پھر دو سال کے بعد مرض دوبارہ ہوگیا تھا۔
نو گھنٹے کا سفر اسی طرح سے گزرا تھا، صرف اس کے بارے میں سوچتے ہوئے اور بار بار اونگھتے ہوئے، اسی کے خواب دیکھتے ہوئے، اس کے سایے کے ساتھ ساتھ، اس کے قدموں کا پیچھا کرتے ہوئے۔ انسانی ذہن بھی کیا چیز ہے؟ کب کیا یاد رکھے گا کب کیا بھولے گا، پتا ہی نہیں لگتا ہے۔ دماغ میں جیسے فلش لائٹ کے جھپاکے ہوتے رہے۔ ایسی ایسی باتیں یاد آئیں جو پہلے کبھی بھی یاد نہیں آئی تھیں۔ ایسی بھولی ہوئی باتیں جو میرے اور اس کے درمیان تھیں اپنی صرف اپنی۔ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے میں نے ٹیکسی لی اورساؤتھ لندن کینسر ہسپتال پہنچا تھا۔
گرمیوں کے طویل دن تھے۔ رات کے آٹھ بجے تھے اورسورج ابھی تک موجود تھا۔ مجھے آسانی سے اس کا کمرہ مل گیا۔ وہ وارڈ کے آخر میں ایک سائڈ روم میں موجود تھی۔ شیشے کی دیوار کے پیچھے دور تک گھانس کا میدان نظر آرہا تھا۔ شام کی روشنی، بیمار روشنی اس کے چہرے پر پڑرہی تھی۔ سفید چادر سے اس کا جسم ڈھنپا ہوا تھا۔ اس کے کمزور سے چہرے پر بڑی بڑی آنکھوں میں وہی رونق تھی۔ مجھے لگا جیسے اس نے بڑی مشکل سے اپنی کمزور پلکوں کو اٹھا کر مجھے دیکھا ہے۔ اس کے چہرے پر جیسے بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔ میں نے جھک کر اس کی آنکھوں کوچوما۔ ”مجھے بہت غصہ ہے تم پر۔ مجھے بتایا کیوں نہیں، فون کیوں نہیں کیا؟ خط لکھ دیتیں، اکیلے تنہا لڑتی رہی ہو ان مسائل سے۔ “ میری آواز روہانسی ہوگئی۔ ”یہی تو وعدہ تھا۔ “
اس نے زور سے میرے ہاتھ کو دبایا۔ دیر تک پکڑے رہی، میں اسے تکتا رہا۔ وہ مجھیے تکتی رہی۔ ”میں موت سے نہیں ڈرتی۔ اپنی موت سے خود ہی نمٹنا ہوتا ہے۔ “ اس نے دھیرے سے کہا، میری آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے۔ ”تم آجاتے سب کچھ چھوڑ کر مجھے پتا ہے۔ یہ احساس ہی کافی تھا میرے لیے۔ اب تم آگئے ہو، مرنے سے پہلے تمہیں دیکھنے کی خواہش تھی وہ پوری ہوگئی۔ میں اب سکون سے مرجاؤں گی۔ “
میں بہت دیر تک اس کا ہاتھ پکڑے بستر پر اس کے ساتھ ساتھ بیٹھا رہا۔ اس کے چہرے کو تکتا رہا، وہ مجھے دیکھتی رہی۔ اس نے مجھے بتایا کہ دونوں چھاتیاں نکال دی گئی ہیں۔ کینسر ریڑھ کی ہڈی سے لے کر جگر تک پہنچ چکا ہے۔ اندر سے کینسر کھا رہا ہے اور اوپر سے میں نامکمل ہوچکی ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ عورت ہی نہیں ہوں میں۔ ایک ڈھانچا ہے ہڈیوں کا، کھال میں مُنڈھا ہوا۔ اس نے میرے ہاتھوں کو پکڑ کر ایسے گالوں پہ رکھا، اپنی آنکھوں سے لگایا۔ آہستہ سے بولی، ”ایک نامکمل عورت کا اب کام ہی کیا ہے میرے دوست؟ “ میں ناچاہتے ہوئے بھی بے قرار ہوکر رو دیا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔


