یرغمال والدین اور مقابلہ باز بچے


\"Rashidتیرہ بس پہلے ایک دوست نے مجھے قائل کیا کہ میری جگہ ایک پرایویٹ تعلیمی ادارے میں خدمات سرانجام دو۔ اسے بیرون ملک سےنوکری کا بلاوا آ گیا تھا۔ میں نے ہر ممکن کو شش کی کہ کسی طرح، کوئی عذر بیان کر کے اس کام سے بچ سکوں۔ میری اس حرکت کے پیچھے اس وقت جو وجہ کار فرما تھی اس کا تعلق میری ذات سے تھا کہ میں خود کو \”اتالیق\” کے مر تبے کے قابل نہیں سمجھتا تھا۔ میری لا پرواہ سی فطرت، آزادانہ اور باغیانہ رویئے مجھے استاد کے معیار کے قریب قریب بھی بھٹکنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ یہ خود کی پرکھ میں دیانت داری کا سبق مجھے اپنے ایک استاد محترم سے ملا تھا جو فرض کی ادائیگی میں اب بھی ایک حوالہ ہیں۔ استاد کی شخصیت سے آگہی کی کرنیں پھوٹتی ہیں بظاہر یہ معتقدانہ سی کوئی رائے لگتی ہے مگر مثالی شخصیت ایک بچے کی زندگی میں اگر ایک استاد کی ہو تو سمجھیئے آدھا کام ہو گیا یہ لازم نہیں کہ ان کا بیان اور ان کی تحریر ہی متاثر کن ہو بلکہ معلم کی شخصیت کا سحر ہی دراصل تربیت کا ذریعہ ہے۔ وہ جو کہتا ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ ویسا نہ کرے یعنی تلقین اپنے عمل کے ذریعے کرتا ہے۔ بچے استاد کے زیر اثر خود کو ویسا بنانے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں جیسا کہ استاد خود ہوتا ہے۔ بچے ویسا کرتے ہیں جو استاد کو پسند ہوتا ہے۔ ایک کامیاب استاد کی نشانی یہی ہے کہ اس کے طلبا استاد جیسا بننے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ میں متاثر کرنے والی خوبی پہ یقین رکھنے والا شخص، خود کو اس قابل نہیں سمجھتا تھا کہ میں بطور استاد یہ اہلیت رکھتا ہوں کہ بچے مجھ سے متاثر ہو کر کوئی کام کرتے۔

مگر دوست صاحب کا مجھ پہ یقین کچھ زیادہ تھا، وہ بضد تھا کہ \”تم پڑھا سکتے ہو\”۔ میرا اصرار تھا کہ پڑھانے کا حق ادا کرنا میرے لیئے مشکل ہے۔ خیر اس بحث میں میری شکست ہوئی اور وہ وقت ہے اور آج کا یہ دن اس شعبے سے وابستہ ہوئے لگتا ہے کہ صرف اسی کام کے قابل ہوں کسی اور ہنر سے بلکل آشنائی نہیں۔ اس میعار کو بھی پایا جسے ایک مرتبہ سوچا تھا کہ استاد کا متاثر کن ہونا بچوں کے لیئے ضروری ہے۔ آج بیٹھے بیٹھے یہ خیال آیا، کہ صاحب اس عنوان کو چھونا بہت ضروری ہے کہ تربیت کا مسئلہ کتنا سنجیدہ ہے۔ مگر ہم اسے جدید تعلیمی دور میں پس پشت ڈال چکے ہیں۔ ہم کم خیال کرتے ہیں کہ موجودہ دور میں اس فقدان کی بدولت معاشرتی مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ والدین کی خواہشات بھی مادیت پرستی کے دور میں کچھ اس طرح سے بڑھتی جا رہی ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ انکے بچے زندگی کی حاصلات میں آگے آگے ہوں اور دوسروں کو مات دینے کی لگن سب سے اہم خیال ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک انسان بننے سے زیادہ بڑی کامیابی یہ ہے کہ بچے کے پاس عہدہ کیا ہے اور اس پہ رہتے ہوئے وہ کس قدر دولت کما سکتا ہے۔ وہ کتنی بڑی آبادی کو اپنے زیر نگیں رکھ سکتا ہے، کتنے لوگ اسکے تابع یا ماتحت ہو سکتے ہیں،اسکی شہرت کی گونج کتنی دور تک سنائی دے سکتی ہے۔ آخر میں اسکے نام سے کس قدر لوگ خوف کھاتے ہیں \”کہ بہت بڑا آدمی ہے\”۔ گھر کی کتنی منزلیں ہیں اور گاڑیو ں کا قافلہ کس حد تک دھول اڑا سکتا ہے، سرمایہ اور جائداد کی مثالیں دیکر کتنے لوگوں کو انکی محرومی کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔ اس مقابلے اور موازنے نے خواہشات کی اندھی نگری میں لوگوں کو دھکیل دیا ہے۔ دنیاوی شان کو رعبدار حیثیت کا مرہون منت سمجھا جاتا ہے۔ آگے بڑھنے کے لیئے اگر دوسرے لوگوں کی حق تلفی بھی ہوتی ہے تو مقابلے کی رو سے اجازت ہے کہ کوئی بھی آدمی ایسا کر سکتا ہے۔ مقابلے کو اکثر صحت مند تصور کر کے لوگ اپنی اولاد کی جذباتی کیفیات اور انکے ابھار سے محفوظ ہوتے ہیں۔ جیت اور ہار کا تصور اور ان سے منسلک انسانی جذبات کس طرح کے منفی رحجانات کو جنم دیتے ہیں،اس کا تجربہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں کرتے ہیں۔ جب ہمارے ہی بچے ہمیں دھمکاتے ہیں اور دوسروں کے حوالے دیکر ہماری حمایت حاصل کرتے ہیں۔

ایلفی کوہن ایک امریکی مصنف اور استاد ہیں، انسانی رویئے، تعلیم و تربیت اور انسانی نشوونما انکا مطالعاتی میدان ہے۔ \” انکے خیال میں ہم دوسروں سے جیتنا چاہتے ہیں چاہے وہ سکول ہو، کھیل کا میدان ہو یا پھر پیشہ وارانہ کام ہو ۔ اسی لگن نے ہمیں کھونے سے حد درجہ ڈرا دیا ہے۔ ہمیں شاندار مقام کے لیئے مقابلہ کرنے پہ اکسایا جاتا ہے۔ جبکہ یہ عنصر کردار سازی کرنے کی بجائے خود اعتمادی اور باہمی تعلقات کو استوار کرنے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ مصنف کی تحریر

 کے 1992“The Case Against Competition”

والے نظر ثانی شدہ شمارے میں جو اضافہ کیا گیا اس میں جو امر زیر بحث لایاگیا اسکے مطابق بچے ایک دوسرے کے مابین تعاون کو فروغ دیکر سیکھنے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں بنسبت ا سکے کہ انہیں \”نمبر ون\” بننے کے مقابلے پہ آمادہ کیا جائے۔ \”

ایلفی کوہن کے تصورات وسیع طور پہ مقبول تعلیم و تربیت کے نظریات سے متصادم ہیں۔ لیکن اس مختلف تصور نے دنیا کو ایک نئی راہ ضرور دکھائی ہے ایک اشا راہ ہے کہ کس طرح ایک \”خیالی مہذب انسان\” میں روح پھونکی جا سکتی ہے۔ کس طرح اسکی حیوانی جبلتوں کو انسانی سطح پہ عمدگی کیساتھ نبٹایا جا سکتا ہے۔ اہداف کا حصول اہم ہے یا دوسروں کو شکست دینا زیادہ محترم و مقدس فریضہ ہے۔ کسی سے بازی لے جانے والی خواہش اگر یونہی پھلتی پھولتی رہی تو پھر انسان کے لیئے یہ امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس میدان میں مقابلہ کرے اور کس میدان کو خالی چھوڑ دے۔ ایک وقت ایسا بھی اسکتا ہے کہ جب اسکی یہ کچلنے والی تیز رفتاری اسکی اپنی ذات کے لیئے نقصان دہ بن جاتی ہے۔

آج جب بچوں کے والدین ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتے تو اس کے بدلے میں وہ دھمکیاں دیتے ہیں کہ ہم \”کچھ کر لیں گے\” \”خود کو ختم کر لیں گے\”۔ \”بائیک نہیں دلائی یا موبائل لے کے نہیں دیا تو میں ہمیشہ کے لیئے چلا جاؤں گا، دیکھو وہ فلاں لڑکے کے پاس یہ سب ہے \”۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ بچے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ اپنے والدین کی کمزوری ہیں اگر والدین کو یہ ڈر لگ جائے کہ بچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے تو وہ اپنی حیثیت کو نہیں دیکھتے وہ اولاد کی طلب کو پورا کرنے کا سوچتے ہیں۔ کیونکہ بچے والدین کی معاشی صورتحال کو اور انکی مجبوریوں کو خاطر میں نہیں لا تے بہت کم بچے ایسے ہوتے ہیں جو گھر کے حالات کو پیش نظر رکھ کے اپنی خواہشات کے دائرے کو وسعت دیتے ہیں۔ ورنہ جو میسر ہو اس پہ زیادہ اعتراضات نہیں اٹھاتے۔ والدین جتنا اپنی اولاد کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں جوابا بچے اس طرح کی سوچ کا اظہار کیوں نہیں کرتے یا انکی مالی حالت کو کیسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ دراصل معاشرے میں موجود مسابقتی وضع سے بچے یہ اخذکرتے ہیں کہ انکے پاس بھی وہ کچھ ہونا چاہئے جو دیگر بچوں کے پاس ہے۔ یہ احساس انہیں بے چین کرتا ہے اور اس موازنے کیوجہ سے وہ اپنے مطا لبے میں شدت پسندی کے مر تکب بنتے ہیں۔ والدین کے لیئے بچوں کی خوشی بہت عزیز ہوتی ہے مگر جب وہ انکی پہنچ سے دور ہو تو انکے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اسے مسترد کریں۔ پھر وہ جذباتی وابستگی کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں اور جوان اولاد کے \”کچھ کر گزرنے\”کے خوف کے باعث بے بس ہو جاتے ہیں۔

والدین بچوں کی تربیت میں مناسب کردار ادا کرنے کی کو شش کر بھی لیں مگر باقاعدہ تربیت کا گھر وہ بنیادی تدریسی ادارہ ہے جہاں وہ ایک مخصوص ماحول میں موجود ہوتے ہیں جہاں نگرانی اور مشاہدے کے ذریعے انکی صلاحیتوں اور رحجانات کو جانچا جا سکتا ہے۔ انکی ذہنی سطح کے مطابق، میلان اور دلچسپی کو مد نظر رکھ کے رہنمائی فراہم کی جا سکتی ہے۔ بچے کے سیکھنے کی صلاحیت کو ماپنا اور اسکے مزاج کو جاننا اور پھر ایک کار آمد شہری بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا بحرھال ایک ماہر استاد کا کام ہے۔ یہ وہی متاثر کن شخصیت ہے جسکے نقش قدم پہ چلنا بچوں کا شیوہ بن جا تا ہے۔ اس پیچیدہ مخلوق کیساتھ اول برتاؤ یہ طے کرتا ہے کہ انکے بعد کے معا ملات میں انکا نقطہ نظر کس قسم کا ہو گا۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ عصری علوم کیساتھ ساتھ ہم نے کردار سازی اور سماجی تربیت کے لیئے موثر انتظامات نہیں کیئے اور نہ ہی اس طرح کے استعدادی شعبہ جات کے لیئے کسی قسم کی کوئی پیش رفت ہمارے ہاں نظر آتی ہے۔ پچھلے دنوں یاسر پیر زادہ صاحب کا کالم پڑھا انہوں نے بلا شبہ ایک اعلی بات کی ہے کہ بطور والدین ہماری فکر محض یہ ہے کہ \” فلاں نے کتنے \”مارکس\” لیئےاب ہمارا بچہ اس سے زیادہ لیگا\”۔ ایک دوڑ ہے جو جاری ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس نتیجے کو معیار مان کر بھی بہت سارے ذہین ترین بچے اس \”نمبری نظام\” کیساتھ میل نہیں کھاتے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انکی تحقیقی فطرت اورجستجو کی عادت بھی انہیں بڑی ندی میں داخل ہونے میں مدد نہیں دیتیں حالا نکہ اسنے کتابوں میں تحقیق کی بڑی فضیلت پڑھ رکھی تھی اساتذہ سے بھی یہی آدرش ملے کہ تحقیقی صفت ہونی چاہیئے مگر عملی طور پہ انہیں مارکس کی دوڑ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح سماجی اخلاقیات کے تمام سوالات پرچے میں لکھنے کے لیئے ہوتے ہیں زندگی میں ان سے کنارہ کر کے ہی جیا جاتا ہے۔ والدین کا یوں اولاد کے ہاتھوں یرغمال بننے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انکے بچے مقابلہ باز ہو گئے ہیں بلکہ تربیت اور کردار سازی کی گنجائش کے با وجود ہمارے ہاں اس پہ کام شاید ناکافی حد تک کم نطر آتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مسابقتی صبح بھرپور روشن ہے۔

 

Facebook Comments HS