کیا ہم ذہنی طور پر اپاہج قوم ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

15 جون کو ڈان اخبار میں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کا کا لم پڑھا، عنوان تھا ”بیڈ میتھ۔ بگ بلنڈر“۔ ہمیشہ کی طرح تلخ حقاحق پر مبنی تحریر تھی۔ اس کا لم میں پرویز ہودبھائی نے کسی بھی ناکام منصوبے کی وجہ حکومتی فیصلوں میں ما ہرین کو شامل نہ کرنا لکھا ہے، اور ساتھ ہی یہ بی لکھا ہے کہ، پاکستان میں ریاضی کی کم علمی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، یہاں تک کہ پاکستان کے نام نہاد ایوارڈ یافتہ ماہر ریاضیات بی اگر میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آ ف ٹیکنالوجی کا گریجویٹ امتحان دیں، تو فیل ہو جائیں گے ۔ ساتھ ہی اس بات پر بی زور دیا ہے کہ، ریاضی صرف نہ بدلنے والے قاعدوں کا مضمون نہیں، جیسا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے، بلکہ اگر محنت اور قا بل معلم سے پڑھا جائے تو یہ ایک منطقی مضمون ہے۔ دوسرا، علم ریاضی صرف اسی صورت میں فائدہ مند ہو سکتا ہے جب ہم اس کے قوانین کو سچ سمجھیں۔ ریاضی کی رو سے، اس بات کو کہ مظاہر کائنات کو چلانے میں فزکس کے اصولوں کا عمل دخل ہے سچ ماننا چاہیے نا کہ منصوبہ سازی کو عقیدے کے زیر اثر رد کر دیا جاہے۔

بتاتے چلیں کہ میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آ ف ٹیکنالوجی دنیا کی بہترین جامعات کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہے۔ ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری اسی شہرت یافتہ درسگا ہ سے حاصل کی، اور وطن واپس آنے کے بعد جامعہ قائداعظم، جواس وقت جامعہ اسلام آباد کہلاتی تھی، سے منسلک ہو گئے۔

جامعہ قائداعظم کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کی ترقی میں ڈاکٹر صاحب کی مثبت شراکت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ یہ ڈیپارٹمنٹ پاکستان میں سب سے زیادہ سائنٹسٹ پیدا کرتا ہے، جو نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی معروف اداروں میں صف اول کے کامیاب سائنس دانوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی علم دوستی کا اس سے اچھا ثبوت کیا ہو گا کہ پاکستانی درس گاہوں میں فری لیکچرز کا انعقاد اور نئی پیش رفت کے بارے میں طلبہ کو آگا ہ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے اس کالم میں ایک واقعہ کو بیان کیا کہ کیسے بنا کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے حکومتی فنڈز، وقت کا زیاں کرنے کے بعد، یہ کہہ کر پیچھا چھڑوا لیا جاتا ہے کہ اللہ کی رضا ہی یہی تھی ۔ اسی طرح ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلہ کو سمجھنے میں ریاضی کا فارمولا ا یکسپوننشل گروتھ کو سمجھنا بھی وقت کی اہم ضرورت میں شمار کیا ہے۔ ا یکسپوننشل گروتھ کے مطابق آبادی میں شرح اضافہ موجود افراد کی تعداد سے نسبت رکھتی ہے۔ مطلب آبادی میں اضافہ کانسٹنٹ ریٹ سے نہیں ہو رہا، اور ہر 33 سال بعد آبادی ڈبل ہوتی جاہے گی۔

طبعیات اور ریاضی ایک دوسرے سے منسلک ہیں، یہ تو ہم سب جانتے ہیں، ایسے ہی جیسے ریاضی، شماریات اور معاشیات ہیں۔ لیکن بعد قسمتی سے پاکستان میں نہ تو مختلف ڈیپارٹمنٹس کا آپس میں تعاون ہے، اور نہ ہی طالب علم اپنے مضمون سے ہٹ کر دوسرے مضامین کے بارے میں علم رکھتے ہیں، بلکہ کچھ تو اپنے مضمون کا علم بی نہیں رکھتے ۔ ایک ایسے ملک میں جہا ں، استاد کسی بی قسم کے سوال کو طلبہ کے علم میں اضافے کے بجائے اپنے علم پر تنقید سمجھتے ہوں ۔ تحقیق کا مقصد ایک مقالہ شائع کروا کر ڈگری لینا ہو، وہاں تعلیمی اصلاحات نافذ کیے بنا، اور اساتذہ کی تربیت کیے بنا کسی بی قسم کی مثبت تبدیلی لانا اور متعلقہ ماہرین کو حکومتی فیصلہ سازی میں شامل کرنا ممکن نہیں۔

آبادی کے مسئلہ کو ہی لے لیجیے، آبادی کے اعدادو شمار کو بنیاد بنا کر مستقبل کی کامیاب منصوبہ بندی کرنا، ڈیموگرافک کا کام ہے۔ ڈیموگرافی شماریات کی ایک شاخ ہے، جس میں آبادی کے خواص کا مطالعہ پیدائش، ہجرت، عمر رسیدگی اور موت کے موجودہ اعدادو شمار کی اساس پر کیا جاتا ہے ۔ پاکستان ادارہ شماریات، ڈیموگرافک اینڈ ریسرچ سروے کے نام پر ابھی تک مکمل اور درست اعدادو شمار مہیا نہیں کر سکا، نیشنل انسٹیٹیوٹ آ ف پاپولیشن اسٹڈیز ایک اہم حکومتی ادارہ ہے، مگر دوسرے اداروں کی طرح یہاں بھی اہم عہدوں پر کام کرنے والے افراد کی تعلیم چیک کی جائے تو ایک بھی اس شعبہ کا ماہر نہیں، اب تو ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کسسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہر نااہل فرد کو حکومتی اداروں میں لگا کر ملک سے کوئی پرانی دشمنی نکال رہی ہے۔

اگرچہ مذہب کو اپنے غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کئی مثالیں تاریخ میں رقم ہیں، پھر بھی اتنے برے حالات کبھی نہیں آہے تھے کہ ریاستی امور اور تعلیمی سرگرمیوں میں بھی مذہبی کارڈ کو اپنی ناکامیوں چھپانے کا ذریعہ بنایا جائے گا۔ بجائے یہ ثابت کرنے کے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ماضی میں پاکستان کی ہر برسر اقتدار حکومت نے بالعموم اور تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے بالخصوص مذہبی کارڈ عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے استعمال کیا۔ پھر چاہے وہ سائنس کے مقابلہ میں سپر سائنس کی بات کرنا ہو، یا معاشیاتی پا لیسیاں میں ناکامی کی بعد ریاست مدینہ کی مثالیں دینا۔

پس یہ لازم ہو گیا ہے کہ ہم مسائل کو حل کرنے کے لئے سائنسی طرز فکر اختیار کرہں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے اور اپنی ہر ناکامی قسمت پر ڈال کر مطمین ہو جانے کا زمانہ گزر چکا ہے۔ اقوام عا لم مریخ پر زندگی کے آ ثار تلاش کر رہی ہے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بدولت انسانی ڈی این اے کی ساخت میں تبدیلی کا مطالعہ کرنا ممکن ہو چکا ہے۔ اور ایک بیچارے پاکستانی ہیں، جو ابھی تک قمری کیلنڈر اور سائنسی کیلنڈر میں الجھے ہوئے ہیں۔

ہم طبعیات کے قوانین اور ملا کے فتوی کے درمیان الجھی ذہنی اپاہج قوم بن چکے ہیں۔ علم طبیعیات ہمیں سوچنا، غور و فکر کرنا اور سوال کرنا سکھاتا ہے، جبکہ ملا کا فتوی ہمیں چپ رہنا اور سوال کو گستاخی سمجھنا سکھاتا ہے۔ یاد رکھیے، اگر اب بھی ہم نے اپنی سوچ نہیں بدلی تو ہماری آنے والی نسلیں ہمہیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •