زین العابدین، بنگال کا قحط اور امرتیا سین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنگال میں قحط کا عفریت منہ پھاڑے کھڑا تھا۔ ہر ہفتے اوسطاً ایک لاکھ افراد بھوک اور غذائی کمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے نتیجے میں موت کے منہ میں جا رہے تھے۔ سنہرے بنگال کے ندی نالوں اور چنچل سنتھالی کنیاﺅں کی تصویر کشی کرنے والا ایک پچیس سالہ مصور ڈھاکہ کی ایک سڑ ک پر جا رہا تھا۔ سڑک کے کنارے اس نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے اسے جھنجھوڑ ڈالا۔ ٹیگور کی رومان پسندی کا بت ایک لمحے میں چٹخ گیا اور حقیقت پسند مصور زین العابدین پیدا ہوا۔ سڑک کے کنارے پھولے ہوئے پیٹ اورسوکھی سڑی ٹانگوں والا چند ماہ کا ایک بچہ اس امید پر اپنی مردہ ماں کے پستان بھنبھوڑ رہا تھا کہ شاید زندگی کے اس منبع سے دودھ کا کوئی قطرہ مل سکے۔ مردہ ماں کی پتھرائی ہوئی ادھ کھلی آنکھوں اور معصوم بچے کی بے بسی نے ڈھاکہ آرٹ سکول کے اس نوجوان استاد پر ایسا اثر کیا کہ وہ اپنے اسٹوڈیو میں جا گھسا۔ چند ہی ہفتوں میں اس نے کورے کینوس پر چند لکیروں کی مدد سے قحط بنگال کے دو ہزار مناظر کھینچ ڈالے۔ یہ 1943 کا برس تھا، اس مصور کا نام زین العابدین تھا۔

قحط کی آفت تاریخ میں انسانوں کے ساتھ ساتھ چلی ہے۔ تاریخی طور انسانوں کی اجتماعی ہجرت کے پس پشت جنگ کی تباہ کاری تھی یا خشک سالی۔ آگے بڑھنے سے پہلے مجھے اپنے استاد احمد بشیر کو یاد کرنے دیجئے۔ استاذی فرماتے تھے، “جنگ ہمارا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، ڈرنا ہو تو قحط سے ڈرو۔ قحط تمہاری تاریخ، تمہارا جغرافیہ، تمہارا اندر باہر سب کچھ بدل سکتا ہے اس سے ڈرو۔ اس کے خلاف جہاد کرو، علم سے ، عمل سے، خبر سے، لوگوں کو تعلیم دے کر، برابری پیدا کر کے اور آبادی کے دباﺅ کو رکوانے کے لیے احساس ذمہ داری کو پھیلا کر۔ اور صدیوں سے خون چوسنے والے ان خونیوں سے چھٹکارا پا کر جو اب جنونیوں کی صف میں شامل ہو چکے ہیں۔”

کیا آپ نے غور کیا کہ جنگ کی تباہ کن تصویر میں معصوم بچوں کے گھروندے تباہ ہوتے تھے، کاشت کار کی فصل اجڑتی تھی، باغبان کا باغ لوٹا جاتا تھا، عورتوں کی عزت سے کھیلا جاتا تھا اور اس بھیانک کھیل میں چند لوگوں کی دولت دوچند ہو جاتی تھی۔ اگلے روز برادر سہیل وڑائچ نے ایک مجلس میں بتایا کہ مغل شہنشاہ اکبر کے قیام لاہور کے دوران شاہی پڑاؤ میں لگنے والی آگ ایسی پھیلی کہ شاہی خزانے کا سونا پگھل کر لاہور کی گلیوں میں بہنے لگا۔ مجھے خیال آیا کہ کیا اکبر کپڑا بننے کی کھڈی چلاتا تھا، ہل چلا کر گندم اگاتا تھا، مٹی کے برتن بناتا تھا۔ دہکتی ہوئی بھٹی کے پاس بیٹھ کر پگھلے ہوئے لوہے سے اوزار بناتا تھا۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔ اکبر کے پاس پیشہ ور قاتلوں کے گروہ تھے جنہیں جنگوں کے نام پر لوٹ مار کے لئے بھیجا جاتا تھا۔ اور زمانہ امن میں اس لوٹ مار کی دھمکی دے کر محصولات کے نام پر لوگوں سے ان کی محنت چھینی جاتی تھی۔

zainul abedin

جنگ ہی کی طرح قحط پر بھی نظر ڈالیے۔ کیا کسی قحط میں دولت مند لوگوں کے مرنے کی اطلاع بھی آئی؟ ایسا اس لئے نہیں ہوتا کہ خشک سالی میں وہی لوگ بھوک کا نشانہ بنتے ہیں جن کے قوت خرید پہلے سے کمزور ہو اور جن کے جسم دن رات کی مشقت سے بھوک اور بیماری سے مدافعت کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ اور جن کے پاس طاقت کے بل پر اناج کے ذخائر جمع کرنے اور ان کی زبردستی حفاظت کرنے کے وسائل نہیں ہوتے۔

فنون عالیہ کی تاریخ دیکھیے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ وکٹر ہوگو نے 1862 میں les miserable لکھا۔ کہانی کیسے شروع ہوتی ہے۔ اپنی بھوکی بہن کے لئے روٹی چرانے کے الزام میں 19 برس کی قید کاٹنے والا بالآخر رہا ہوتا ہے تو معاشرہ اس کی مجرمانہ شناخت کی آڑ میں اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔ ناروے کے مصنف نٹ ہمسن کا ناول “بھوک” پڑھیے۔ 1890 میں لکھے گئے اس ناول کا ساٹھ کی دہائی میں اردو ترجمہ بھی ہوا تھا۔ فرانز کافکا نے1922  میں A hunger Artist کے عنوان سے ایک کہانی لکھی تھی، پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ امریکی مصنف جان سٹین بیک نے 1939 میں امریکہ کی کساد بازاری کا احوال ایک غریب کسان گھرانے کی افتاد کی صورت میں اپنے ناول The Grapes of Wrath میں بیان کیا تھا۔

مصوری میں درک رکھنے والے صاحبان علم کے لئے انیسویں صدی کا فرانسیسی مصور پال سیزان کا نام گویا سامنے کی بات ہے۔ سیزان کی مصوری میں ایک خاص موضوع سیب کا اسٹل لائف ورک ہے۔ سیزان نے بلامبالغہ سینکڑوں سیب پینٹ کئے۔ 1920 کی دہائی میں ارنسٹ ہیمنگوے پیرس میں تھا۔ گمنامی اور غربت سے پنجہ آزمائی کر رہا تھا۔ اپنی کتاب A moveable Feast میں لکھتا ہے کہ جب بھوک بہت ستاتی تھی تو میں کھانے کے وقت سیزان کی پینٹنگ کے سامنے جا کھڑا ہوتا تھا اور چمکتے سرخ سیبوں کو دیکھتے ہوئے بھوک ٹالنے کی کوشش کرتا تھا۔

آپ کو خیال آئے گا کہ شاید درویش بھوک کے بارے میں کتابی باتیں کر رہا ہے۔ آپ سے کیا پردہ۔ ایسی بات نہیں ہے۔ بھوک سے اپنی دوستی پرانی ہے۔ زیادہ نہیں، دو واقعات بتا دیتا ہوں۔ ایک دور دراز گاؤں میں قیام تھا۔ پیسے حسب معمول ختم ہو گئے تھے۔ کوئی جاننے والا موجود نہیں تھا۔ ماں نے سونف اور چینی کا سفوف ایک مرتبان میں ہمراہ کیا تھا۔ وہ ختم ہو گیا۔ کسی کو بتانے میں حجاب تھا کہ پیٹ خالی ہے۔ بھوک لگتی ہے تو پیٹ میں کاٹ دار اینٹھن کے علاوہ معمولی کپکپی اور سر درد کی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ تیسرے دن اس امید پر باہر نکلا کہ شاید کچھ کھانے کو مل سکے۔ گاؤں کے ڈاک خانے کی باڑ پر امرود کا پیڑ تھا۔ ہاتھ بڑھا کر پھل اتارنا چاہا تو معلوم ہوا کہ لکڑی کی طرح سخت ہے۔ چبانا اور نگلنا ممکن نہیں۔

کئی برس گزر گئے۔ بھوک کی آزمائش سچی دوستی کی طرح ہمراہ چلتی ہے۔ دن میں خود کو یہ کہہ کر سمجھاتا تھا کہ ابھی تو بھوک نہیں لگی۔ ابھی سے کھانا ٹھونسنے کی کیا ضرورت ہے۔ ذرا دن ڈھل لے۔ بھوک چمک اٹھے تو کھانا کھائیں گے۔ ایک روز اسی کشمکش میں رات زیادہ نکل گئی۔ اب جو سڑک پر نکلا تو معلوم ہوا کہ کھانے کے سب ٹھکانے بند ہو چکے۔ کافی دیر ادھر ادھر بھٹکنے کے بعد ترکوں کی ایک دکان نظر آئی۔ روٹی میں لپیٹ کے ایک کباب مل سکتا تھا۔ جیب میں ہآتھ ڈال کر ایک پاؤنڈ کا سکہ نکالا اور پہلے دکان دار کے ہاتھ پر رکھا۔ خوف تھا کہ کہیں گم تو نہیں ہو گیا۔ بھوک میں اپنے آپ سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •