جمہوری مخمصہ اور عوام کا نفسیاتی استحصال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم عجیب لوگ ہیں۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کو ظالمانہ سمجھتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اس کے اندر بہتری کا امکان کم اور عمل سست رفتارہوتا ہے۔ معمولی تبدیلی کے کچھ وقفے ضرور آتے ہیں، جس کی اس نظام کو ضرورت ہوتی ہے کیونکہ حبس جب حد سے زیادہ بڑھ جائے تو خود نظام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ سو اس نظام کی خیرخواہی کے لیے، نہ کہ عوام کے لیے، کبھی کبھارہوا کے تازہ جھونکے فراہم کیے جاتے ہیں لیکن اس اہتمام کے ساتھ کہ ان جھونکوں کی مقدار ایک خاص حد تک ہی سانس لینے میں آسانی پیدا کرنے والی ہو۔ فضا اتنی بھی خوشگوار نہ ہوجائے کہ لوگ مست ہو جائیں اور کچھ اور سوچنے لگیں۔ انھیں ان کی اوقات میں رکھنا اور کسی نہ کسی طرح الجھائے رکھنا ہی سرمایہ دارانہ دانش مندی کا تقاضاہے۔

ایسی عجیب و غریب باتیں کرنے والے ہم بد قسمت لوگ ہمیشہ حزب اختلاف میں رہتے ہیں۔ جب ن لیگ کی حکومت تھی تو ان کی خراب پالیسیوں پر کھل کرتنقید کرتے اور اس کے خلاف لکھتے تھے لیکن کچھ دوست اور خود ہم بھی یہ کہتے اورسمجھتے تھے کہ ان باتوں کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ کو ہوتا ہے۔ سواس وقت حکومت پر تنقید کے ساتھ ساتھ اس بات کا اظہارضروری سمجھتے تھے کہ ہمارا خدا نخواستہ ’اُدھر‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب دھرنوں وغیرہ میں اور پاناماسکینڈل کے بعد سلیکٹڈ احتساب کے شور میں یہ بات عیاں ہوگئی کہ حکومت کی کسی غلط پالیسی کے خلاف بات کرنے کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ کو پہنچتا ہے اور یہاں احتساب سلیکٹڈ ہو رہا ہے تو ہم بھی محتاط ہو گئے اور حکومت کے خلاف ہتھ ہولا کر لیا۔

یار لوگوں نے ہمیں طعنہ دیا اورکچھ نے تو باقاعدہ حیرت کا اظہار کیا کہ آپ جیسا پڑھا لکھا بندہ اور نواز شریف جیسے کرپٹ کی حمایت؟ تو ہم جواب میں بس اتنا کہتے کہ جو کچھ ہورہا ہے یہ وہ نہیں ہے جو ہم چاہتے ہیں۔ اس سے اس نظام کا کچھ نہیں بگڑنا بلکہ ہمارے لیے مزید بھیانک ہو جانا ہے اور یہ فضا مزید حبس آلود ہوجانی ہے۔ آج انھی دوستوں سے پوچھتا ہوں دیکھ لیجے کیا ایسا نہیں ہوا؟ کیا اب گھٹن بڑھ نہیں گئی؟ کیا اب سانس لینا مزیدمشکل نہیں بنا دیا گیا؟

اس سب کے ذمہ دار اس نظام کے سب سے مضبوط، طاقتور اور مرکزی کھلاڑی ہیں۔ بار بار کی غیر آئینی مداخلتوں نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ اب نظام کے خلاف کسی قسم کی بغاوت یا اس معاشرے اور یہاں کے انسانوں کی زندگی میں بہتری کے کسی امکان یا امید کے اظہارکا مطلب فوج کی حمایت لیا جانے لگا ہے، کیونکہ اگر کسی منتخب حکومت کے خلاف کوئی تحریک کامیاب ہوتی ہے اور اس دوران میں اگر حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں تو انھیں سنبھالنے کے لیے آنے والے نوے دن کے بہانے گیارہ سال لگا جاتے ہیں۔ سو ہماری یہ الجھن کہ ہم کیا کریں، یہی اسٹیبلشمنٹ کے پروپیگنڈہ کی کامیابی اور ان کا کارنامہ ہے۔

انھیں کون سمجھائے کہ کئی ممالک میں اسی سرمایہ دارانہ نظام نے جہاں شہریوں کو کم از کم زندگی کی بنیادی سہولتیں دے رکھی ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کی وجہ سے نہیں بلکہ جمہوری تسلسل کے باعث دے رکھی ہیں۔ سیاسی عدم استحکام تو مسائل کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے اور اس صورت میں معیشت کبھی بھی ترقی نہیں کرتی بلکہ حالات خرابی کی طرف ہی جاتے ہیں۔ سو ہماری گزارش یہی رہی کہ عوام کا یہ کام خودعوام اور ان کے نمائندوں کو کرنے دیں اور تسلسل سے کرنے دیں۔ آپ ایک طرف ہو جائیں اور باقی سب اپنا اپنا کام کریں۔

لیکن نہیں۔ ایسا نہیں ہوا نہ اب ہونے کا کوئی امکان ہے۔ کیونکہ حالات کے جبر کا شکار مجبور انسانوں کی اکثریت کی یہ فطرت بن جاتی ہے کہ وہ ہر گزرے حکمران کو اپنی محرومیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ سو حکمرانوں کو ہتھکڑی لگنے کے خواب دیکھنے اور دکھانے والوں کی اپنی ایک دنیا ہے اور اس دنیا میں دکان دار و خریدار بے شمار ہیں۔ حکمرانوں کو سلاخوں کے پیچھے دیکھ کر ایک تسکین کا احساس بھی انھی محرومیوں کی دین ہے، جس کا فائدہ یہ قوتیں اٹھاتی ہیں اورپروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کا نفسیاتی استحصال کرتی ہیں۔

حکمرانوں کے خلاف تسلسل سے پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ انھیں آپس میں لڑایا جاتا اور ایک دوسرے کے ہاتھوں ذلیل و رسوا کرا یا جاتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے دیکھو یہ ایسے ہیں یہ ویسے ہیں اور کبھی بھارت دشمنی اور کبھی دین و مذہب کے نام پران کے خلاف دھرنے دلوائے جاتے اور الزامات کو ہوا دی جاتی ہے۔ ان کے خلاف ہروہ حربہ آزمایا جاتا ہے کہ جس سے عوام کے دلوں ان کی عزت کم ہو اور نفرت بڑھ جائے۔ لیکن کیا کیا جائے اس لولی لنگڑی جمہوریت کا کہ اس سب کے باوجود وہی ’چور، غدار، کرپٹ، اور دین دشمن‘ لوگ کروڑوں ووٹ حاصل کرلیتے اور یہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اس کاکوئی توڑ ان کے پاس نہیں ہے۔ ان کی تو خواہش ہے کہ اس نظام کو کسی طرح ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا جائے اور ملک میں سیاست اور سیاست دانوں کا کوئی کا نام لینے والا نہ بچے، یعنی سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •