سپریم کورٹ سے اچھی خبر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مروجہ عدالتی نظام میں گواہ کی اہمیت مسلمہ ہے۔  فریقین اپنے اپنے موقف کی تائید میں گواہ پیش کرتے ہیں جن کی زیر حلف شہادت زبانی یا دستاویزی باقاعدہ عدالت میں ریکار ڈ کی جاتی ہے۔  گواہ کا بیان تب تک ناقابل بھروسا رہتا ہے جب تک کہ فریق مخالف اس پر جرح نہ کر لے جس کا مقصد گواہ کی قانونی حیثیت، مقدمہ کے ساتھ اس کے بیان یا پیش کردہ ریکار ڈ کی نسبت relevancyاور بیان یا شہادت ریکارڈ کرواتے وقت گواہ کی جانب سے جھوٹ کی آمیزش یا مکمل جھوٹ کی نشاندہی جس سے گواہ اور اس کے بیان کی حیثیت مشکوک ٹھہرے کو اجاگر کرنا ہوتا ہے یوں جرح کی قطع و برید سے صحت شہادت کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور اس شہادت کی بنیاد پر ہی مقدمات کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

شہادت ریکارڈ کروانے سے پہلے عدالت میں گواہ سے حلف لینا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ گواہ صرف سچ اور سچ پر مبنی حقائق جن سے گواہ یقینی طور پر واقف ہے اور جو حقائق مقدمہ میں امر نزاع کی بابت ہوں عدالت کے سامنے رکھے تاہم سچ تک رسائی محض گواہ کے اپنے ریکارڈ کردہ بیان پر موقوف نہیں بلکہ قانون فریق مخالف کو یہ حق دیتا ہے کہ گواہ پر معقول جرح کرے تاکہ بیان کردہ حقائق ملاوٹ اورجھوٹ سے پاک ہوں اور قرابت داری کی وجہ سے طرفدارانہ نہ ہوں بلکہ گواہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروائے اور حلف لیتے وقت یہ کلمات کہے کہ وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلف اُٹھاتا ہے کہ وہ عدالت میں سچ کہے گا، سچ کے علاوہ کچھ نہ کہے گا تاہم اس حلف کے باوجود گواہ کے بیان میں پوشیدہ ارادی یا غیر ارادی طرفداری، جھوٹ، بہتان، غیر متعلق بیان یا سچ کے ساتھ جھوٹ کی ملاوٹ کا امکان موجو د رہتا ہے جسے فریق مخالف کی جر ح سامنے لاتی ہے۔

اب اگر جرح کے دوران یہ ثابت ہو جائے کہ گواہ جھوٹ بول رہا ہے تو قانون اس کی گواہی پر انحصار کرنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس کی شہادت غیر معتبر تصور کی جاتی ہے۔  اسی لیے مقدمات کے فیصلوں میں ہر ایک گواہ کی شہادت پر فرداً فرداً بحث کرنے کے بعد عدالت اس کے بیان پر انحصار یا مسترد کرتے ہوئے اس مخصوص تنقیح کا فیصلہ کرتی ہے جس کی بابت گواہ نے شہادت پیش کی۔ فوجداری مقدمات میں استغاثہ کے گواہان کی اہمیت کہیں زیاد ہ ہے چونکہ قانون ہر شخص کو معصوم تصور کرتا ہے تاوقتیکہ اس پر جرم ثابت نہ ہو جائے۔

اسی اصول کے مطابق یہ استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی ملزم کے خلاف الزام ثابت کرنے کی خاطر شہادت پیش کرے نہ کہ ملز م کی کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرتا پھرے۔  مہذب معاشروں نے اس اصول کو اپنا کر الزام لگانے والے کو پابند کیا ہے کہ اپنا الزام ثابت بھی کرے نہ کہ الزام علیہ کوکہ اپنے حق میں شہادت پیش کرے البتہ قانون ملزم کو اپنے حق میں شہادت پیش کرنے سے منع نہیں کرتا۔ یہ الگ بحث ہے کہ ہمارے ملک میں اب یہ روش عام ہو گئی ہے کہ الزام لگتے ہی ملزم کو مجرم کے طور پر میڈیا میں پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بنیادی انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے چور، ڈاکو، قاتل، غدار یا دہشت گرد کہہ کر جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی اسے عوام کی نظروں میں باقاعدہ مجرم بنا دیا جاتا ہے یہ موضوع ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے جس پر میں لکھنے کی جسارت کروں گا۔ شہادت کی جانچ پڑتال اورپرکھ کے لیے قانون شہادت اور اصول شہادت سے رجوع کیا جاتا ہے۔  قانون شہادت گواہ کی اہلیت، شہادت کی حیثیت اورامر نزاع کے ساتھ نسبت کی وضاحت کرتا ہے جبکہ اصول شہادت مروجہ یاعالمگیر نوعیت کے اصول ہیں جو عدالت اور وکلاء کی راہنمائی کرتے ہیں۔

اسی طرح کا ایک اصول falsus in uno falsus in omnibus ہے۔  جس کا مطلب ہے گواہ کا ایک جھوٹ اس کے پورے بیان کو مشکوک بنا دیتا ہے جس کو کلی طور پر رد کیا جانا ہی قرین انصا ف ہے۔  1951 سے پہلے پہل اس اصول کو ہمارے عدالتی نظام میں بھی تسلیمی حیثیت حاصل تھی تاہم ایک فوجداری اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد منیر نے اس اصول کو رد کرتے ہوئے اپنی طر ف سے ایک اصول وضح کیا جس کو Sift the chaf from the grainکہا جاتا ہے یعنی عدالت سچ کو جھوٹ سے الگ کر کے سچ کا اعتبار کرے اور جھوٹ کو رد کرے۔

اس کی صراحت فاضل جج نے یوں کی ہے کہ کسی گواہ کے بیان کو مکمل طور پر رد یا معتبر تصور کرنے کی بجائے اس بیان میں سے سچ کو جھوٹ سے الگ کیا جائے اور جھوٹ کو رد کرتے ہوئے سچ پر اعتبار کیا جائے تو ہی مقدمات کا فیصلہ انصاف کے مطابق ہو سکے گا وگرنہ اس بات کا امکان ہے کہ کسی گواہ کی تمام تر قابل اعتبار شہادت کے باوجود اس کی طرف سے ایک دانستہ یا نا دانستہ جھوٹ کی آمیزش اس کی شہادت کو ضائع کر دے اور اول الذکر اصول کو من و عن لاگو کرنے سے یہاں انصاف فراہم کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

یہ فیصلہ بعنوان غلام محمد وغیرہ بنام تاج برطانیہ PLD 1951 Lahore High court Page 66 میں رپورٹ ہوا۔ اس فیصلے کو ایک نظیر کی حیثیت حاصل ہو گئی اور ا س کے بعد خاص طور پر تمام فوجداری مقدمات میں جب بھی گواہ کی شہادت کی پرکھ veracityکا سوال آیا جسٹس منیر کے وضح کردہ اصول کو ہی اہمیت دی گئی یہاں تک کہ بعد میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی متعدد فیصلوں میں یہ قرار دیا کہ اس ملک میں اعلی عدالتوں نے پہلے ہی اصول falsus in uno falsus in omnibus کومنسوخ کر دیا ہے جب کہ یہ جج کا منصب ہے کہ وہ سچ کو جھوٹ سے ممیز کرے یوں جسٹس محمد منیر اب تک کیے گئے بے شمار فیصلوں میں اپنے وضح کردہ اصول کی وجہ سے حاوی رہے جس کی وجہ سے متعدد مقدمات میں جھوٹے گواہان کی سچی شہادت کی تلاش جاری رہی۔

اب سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف جسٹس جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بننے والے تین رکنی بنچ جس میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس محمد منیر کے استدلال اور اس کے نتیجے میں وضح کردہ اصول کو قانونی، تاریخی، سماجی، مذہبی اور اخلاقی پیمانوں پر بحث کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر رد کیا اور اصول شہادت falsus in uno falsus in omnibus کو پھر سے تمام فوجداری عدالتوں میں لاگو کرتے ہوئے یہ ہدایت کی ہے کہ نہ صرف عدالتیں اس اصول کی روشنی میں شہادت کی پرکھ کریں بلکہ گواہ جھوٹا ثابت ہونے پر اس کے خلاف قانون امتناع دروغ گوئی تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی عمل میں لائیں۔

عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ PLD 2019 Supreme court 527 میں رپورٹ ہوا ہے۔  اس فیصلہ میں سپریم کورٹ نے جسٹس محمد منیر کے سنائے گئے فیصلہ کے اس حصہ کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جس میں جسٹس منیر کا استدلال یہ تھا کہ۔ چونکہ اس صوبہ  (پنجاب)  کے لوگ عمومی طور پر سچ کے ساتھ جھوٹ کی آمیزش کرنے کے عادی ہیں لہٰذا بیان کردہ شہادت میں سچ کے ساتھ جھوٹ کی ملاوٹ کے امکانات قوی ہیں اب اگر اصول شہادت falsus in uno falsus in omnibus کو من و عن لاگو کیا جائے تو جھوٹ کے ساتھ سچ کے ضائع ہونے کا امکان ہے اور اس سے فوجداری عدالتی نظام اور فراہمی انصاف کو خطرناک حد تک نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور یوں بھی جھوٹ کی مثال صفر کے برابر ہے جس کو کسی بھی ہندسہ کے ساتھ ضرب دینے سے جواب صفر ہی آئے گا اسی طرح جھوٹ اور سچ کی ملاوٹ ہو ہی نہیں سکتی گواہی کا جھوٹا حصہ کچھ بھی ثابت نہ کر سکے گا جب کہ سچا حصہ مقدمہ ثابت کرنے میں مفید ہو گا اور یہ کہ میرے نزدیک جج کا منصب یہی تو ہے کہ وہ سچ کی تلاش کرے اگرچہ یہ کام مشکل ہے مگر فوجداری مقدمات میں بجائے عمومی اصول شہادت  (falsus in uno falsus in omnibus)  پر پرکھنے کے، سچ کو جھوٹ سے ممیز کرتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وسیم اقبال اخونزادہ کی دیگر تحریریں
وسیم اقبال اخونزادہ کی دیگر تحریریں