اپوزیشن تحریک چلانے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آل پارٹیز کانفرنس کی رہبر کمیٹی کے اجلاس نے بالآخر پی ٹی آئی کے نامزد کردہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ تو کر لیا ہے لیکن جس انداز میں رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا ، اس سے اپوزیشن کے موثر رہنے کے بارے میں کافی سوال اٹھتے ہیں۔ پہلے توشنید تھی کہ میاں شہبازشریف اے پی سی کے پہلے اجلاس جس میں رہبر کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا کے سربراہ ہوں گے لیکن برادرخورد اور جانشین اول محترمہ مریم نواز سرے سے اجلاس میں آئے ہی نہیں۔

یہ غیر حاضری کسی سیاسی مصلحت یا ذاتی مجبوری کا نتیجہ تھی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن تحریک کے ذریعے حکمرانوں کو نکالنے کی بڑھک لگانے والی جماعت جس کا انتخابی نشان شیر ہے اب شیرِ قالین بنی ہوئی ہے۔ شہبازشریف کی لائن تو ہمیشہ سے ہی میانہ روی پر مبنی پرواسٹیبلشمنٹ رہی ہے۔ انھوں نے حکومت کو کیا گرانا ہے وہ تو اپنے بھائی جان جو عام انتخابات سے پہلے جب لاہور پہنچے تھے بوجوہ ان کا استقبال کرنے گئے تھے ۔

شہبازشریف کی مخصوص سیاست کے علاوہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کے بازو نیب کے بیلنے میں آئے ہوئے ہیں جنہیں ان کی جانب سے انتقامی کارروائیاں قرار دیا جا رہا ہے ۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شہبازشریف کے برخوردار اور سیاسی جانشین حمزہ شہباز اپنے ذرائع آمدن سے بڑھ کر زندگی گزارنے اور دیگر الزامات کے تحت جیل میں ہیں ۔مسلم لیگ (ن ) کے اصل روح رواں میاں نوازشریف پاناما گیٹ میں نااہلی کے بعد جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

انتہائی فعال خواجہ سعد رفیق نیب کیسز میں گرفتار ہیں۔ بعض پارٹی رہنما جن میں دانیال عزیز قابل ذکر ہیں منظر سے غائب ہو گئے ہیںاور اب ٹاک شوز میں بھی نہیں آتے، یہی حال طلال چودھری ، صدیق الفاروق، عابد شیر علی کا ہے۔ پارٹی کے فرنٹ لائن لیڈر شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال اور خواجہ آصف برملا کہہ رہے ہیں کہ ہم جیل جانے کی تیاری کر رہے ہیں ۔آ جا کر مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر جو بلا کم و کاست اپوزیشن کے لتے لیتے تھے اب ہیروئن کیس میں کیمپ جیل میں ہیں۔

آج رانا صاحب کے بارے میں منشیات سمگلنگ کے الزام کو بہت کم لوگ سچ مانتے ہیںاور اسے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میںاس وقت کے اپوزیشن لیڈر چودھری ظہور الٰہی مرحوم کے خلاف بھینس چوری کے مقدمے سے تشبیہ دیتے ہیں ۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ رانا صاحب کو بھی سیاسی منظر سے ہٹا دیا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ محترمہ مریم نواز جو اپنے والد صاحب کی رہائی یا جان خلاصی کے لیے برسر پیکار نظر آتی ہیں کوئی فعال اور موثر رول ادا نہیں کر پائیں گی۔

اب انہوں نے نیا شوشہ چھوڑا ہے۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو پر تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ویڈیو کے مطابق جو لندن میں مقیم میاں نوازشریف کے آگے گھومنے والے ناصر بٹ نے بنائی تھی،جج ارشد ملک تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے بلیک میل ہو کر دباؤ کے تحت میاں صاحب کے خلاف العزیزیہ کیس میں فیصلہ دیا تھا۔اب متعلقہ احتساب کے جج نے اپنے وضاحتی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ویڈیو جعلی ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

اس طرح جج صاحب نے تشنہ سوالات کا جواب دینے کے بجائے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ویڈیو کی قانونی حیثیت ہو نہ ہو اس کے جاری کرنے سے سیاسی طور پر حکومت کے احتسابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینانقصان پہنچا ہے۔ ان معاملات کے ساتھ ساتھ ڈیل کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اس بات کی تردید کی جاتی ہے کہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے لیکن ایسے شواہد ملتے ہیں جن سے واضح طور پر یہ لگتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کی جا رہی ہے ۔

مثال کے طور پر پہلے وزیراعظم عمران خان کہتے تھے کہ کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ اب بھی یہی کہتے ہیں لیکن حال میں جب انھوں نے کہا ہے کہ پلی بارگین کریں اور چلے جائیں اور یہ کہ ڈیل کے لیے دو دوست ممالک کے ساتھ میاں نوازشریف کے صاحبزادے نے رابطہ کیا ہے گویا کہ دوسرے لفظوں میں آدھی ڈیل تو ہو چکی ہے۔ میاں نوازشریف کے وکیل باقاعدہ طور پر اعلیٰ عدالتوں میں یہ درخواست دے چکے ہیں کہ ان کے موکل کو خرابی صحت کی بنا پر رہا اور انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے ۔

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ میاں صاحب سیاست چھوڑ کر علاج کے بہانے لندن پدھارنا چاہتے ہیں ۔مریم نواز بھی اپنی ایک پریس کانفرنس میں اشارہ دے چکی ہیں کہ نوازشریف کے علاج پر دو سال بھی لگ سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں سابق حکمران جماعت جو پنجاب میں مسلسل دس برس اور وفاق میں پانچ سال حکومت کر چکی ہے، کی لیڈر شپ ہاتھ پیر چھوڑتی جار ہی ہے اور خطرہ ہے کہ تحریک چلانا تو ایک طرف رہا کہ کہیں یہ شتر بے مہار نہ بن جائے ۔

پیپلزپارٹی کا حال مسلم لیگ (ن) سے کچھ بہتر ہے ،کم ازکم بلاول بھٹو بڑے دھڑلے کے ساتھ جلسے کر رہے ہیں لیکن جہاں تک آصف زرداری کا تعلق ہے انھوں نے بھی میانہ روی کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ صادق سنجرانی کا تعلق مسلم لیگ (ن) کو توڑ کر راتوں رات بننے والی بلوچستان عوامی پارٹی ’’باپ‘‘سے ہے۔ ’باپ‘ کا گاڈ فادر کوئی بھی ہو لیکن اس عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں خود آصف زرداری نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

اس لیے اب سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ ایک سٹریٹجک فیصلہ ہے اور ان قوتوں کو ناراض کرنے کے مترادف ہوگا جو ان کو لائی تھیں۔ تکنیکی طورپر نمبر گیم میں اپوزیشن کے اتحاد کو تحریک انصاف کے مقابلے میں بھاری عددی اکثریت حاصل ہے، تاہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ سینیٹ کا چیئرمین کسے بنایا جائے گا ۔اس ضمن میں مسلم لیگ (ن) سے راجہ ظفرالحق، مصدق ملک کے علاوہ پی پی سے رضا ربانی کا بھی نام لیا جا رہا ہے لیکن ایک نام جو اس سارے بیانیے سے غائب نظر آتا ہے وہ سینیٹر مشاہد حسین ہیں ۔

مشاہد حسین قبل ازیں چودھری شجاعت حسین کے دست راست تھے ۔چودھری پرویز الٰہی کی مخالفت کے باوجود انھیں مسلم لیگ (ق) کا سیکرٹری جنرل بنایا گیا اور چودھری شجاعت نے اپنی سینیٹ کی نشست ان کی نذر کر دی تھی لیکن بعدازاں وہ مسلم لیگ (ق) میں غیر فعال ہوتے چلے گئے اور آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں آ گئے اور شریف برادران کے منظور نظر بن گئے اور پھر میاں نوازشریف نے انھیں سینیٹ کی سیٹ دے دی۔

اب وہ پھر خاموش اور الگ تھلگ ہیں اور زیادہ تر مختلف تھنک ٹینکس کے ساتھ کام کرنے کے علاوہ سی پیک کے حوالے سے غیر ملکی دوروں پر رہتے ہیں۔ مشاہد حسین انتہائی قابل اور پڑھے لکھے سیاستدان ہیں لیکن لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست سے انھیں اب کوئی سروکار نہیں ورنہ وہ سینیٹ کے چیئرمین کی سیٹ کے اچھے امیدوار ہو سکتے تھے۔

ان حالات میں اے پی سی کا یہ اعلان کہ 25 جولائی کو عام انتخابات کے انعقاد کی پہلی سالگرہ کے موقع پر یوم سیاہ منایا جائے بہت بڑا سیاسی ارتعاش نہیں پیدا کر سکے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکمران جماعت جو یہ کہتے نہیں تھکتی کہ نیب، ایف آئی اے، اے این ایف کی کارروائیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ان کے ہتھکنڈوں سے فی الحال اپوزیشن مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔ اپوزیشن کی اس خواہش کو کہ حکومت کو جلداز جلد گرایا جائے اس کی راہ میں خود اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ (ن) کے اپنے تضادات حائل ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •