سب اچھا سمجھنے والوں کو خبر ہو ، بازی پلٹ رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نوازشریف کی ویڈیو لیک نے بازار سیاست میں ایک بارپھر ہلچل مچادی ۔شفاف اور غیر جانبدارنہ تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ایک دن ضرور ہوگا ۔لیکن فی الحال مریم نواز عدالتی نظام کی شفافیت اور نوازشریف کے مقدمہ کو ایک بار پھر ملک گیر سطح پر زیر بحث لانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔نوازشریف کا مقدمہ سیاسی ہے یا قانونی۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس پررائے عامہ تحریک انصاف اور نون لیگ کی قسمت کا فیصلہ لکھے گی۔

مریم نوازبالآخر نون لیگ کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکی ہیں۔ اعتدال پسند اور صلح جو شہباز شریف کو حالات نے بتدریج پارٹی قیادت سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیا ان کا بیانیہ پارٹی کو یکجااور سرگرم رکھنے میں ناکام رہا۔سیاست کی باریکیوں کے فہم سے عاری حکومتی اقدامات نے نون لیگ کے اندرجوشیلی اور شعلہ بیان مریم نواز کے لیے راہ ہموار کی حالانکہ سردوگرم چشیدہ اور بڑی حد تک مقتدرہ قوتوں سے رنجیدہ شہباز شریف دوستانہ میچ کھیلنے پرآمادہ نظرآتے تھے۔

ابن آدم نے سیاست اور کاروبار حکومت کو صدیوں سے شطرنج کے کھیل کی طرح کھیلا ہے۔یہ پیچیدہ ترین انسانی سرگرمی کہلاتی ہے ۔بصیرت اور ذہانت کے اعلی ترین معیار کی متقاضہ ہے۔ آج کل کے جمہوری ممالک اور معاشروں میں یہ سائنس کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ رائے عامہ کے جذبات اور احساسات سے کھیلنے اور انہیں اپنا ہمنوا بنانے کا نام سیاست کہلاتاہے۔ عمران خان اور حزب اختلاف کے مابین رائے عامہ کو ہمنوا بنانے کا کھیل کئی برسوں سے جاری ہے۔

عمران خان مخالف سیاستدان کے اعصاب شل کرنے میںکامیاب رہے ۔مقتدر قوتوں کو ہمنوا بنایااور سیاسی جغادریوں کو ایوان اقتدار سے نکال باہرکیا۔ بازی اب پلٹی نظر آرہی ہے۔بیتی ہوئی سات دہائیوں میں پاکستانیوں نے دھوکے بہت کھائے۔ باربار ان کے اعتبار اور بھروسہ کا خون کیاگیا۔ لہٰذا وہ سرکار اور اس کے اداروں کی نیت پر شک کرتے ہیں۔ انہیں عوام دوست تصور کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

رائے عامہ کا حال اس اردو محاور ے کی ماند ہے’’ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتاہے‘‘ ۔ مریم نواز کی سیاست میں دبنگ انٹری حکومت کی مشکلات میں اضافے کا باعث نظر آتی ہے۔ غالباًوہ نون لیگ کی سب سے بہادرلیڈر ہیں۔ جچی تلی گفتگو کرتی ہیں۔ سیاست کی حرکیات سے بھی بخوبی آشنا ہیں۔ آزمائشوں اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہردم مستعد پائی جاتی ہیں۔ ان کی بدن بولی عکاسی کرتی ہے کہ وہ آہنی ارادوں کی حامل خاتون ہیں آسانی سے جھکنے والی نہیں۔

پاکستانیوں کی نفسیات ہے کہ وہ بہادر سیاستدانوں کو پسند کرتے ہیں۔ خاص طورپر پنجاب کے باسی جرأت مند سیاستدانوں اورلڑاکا سالاروں کے جلد گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ مریم نواز نے فرنٹ فٹ پر آکر کھیل جاری رکھا تو وہ جلد قومی منظر نامہ پر نمایاں ہوسکتی ہیں۔ یہ خاکسار کئی بار لکھ چکا کہ ہمارا معاشرہ بدعنوان اور کرپٹ لوگوں سے نفرت کرتاہے او رنہ انہیںاچھوت بناتاہے۔حکمران اشرافیہ ہویا سویلین بیوروکریسی ، سیاستدان ہوں یا فوجی حکمران سب نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔

نامی گرامی صنعت کاروں نے بینکوں کے قرض ہڑپ کیے۔ مقتدرطبقات اور پراپرٹی ٹائیکوں کا گٹھ جوڑ اور زمینوں پر قبضے ابھی کل ہی کا قصہ ہے۔چنانچہ ایک ایسا کلچر پیدا ہوا جہاں جائز اور ناجائز کی تمیز ختم ہوئی۔سرکاری ادارے بے وقار ہوئے شہریوں اور ریاست کے درمیان اعتماد اور بھروسے کا رشتہ ہی ٹوٹ گیا۔ جج ارشد ملک کی آڈیو اور ویڈیو کے فرانزک ٹیسٹ کے بعداصل حقیقت کا پتہ چلے گا۔

تحریک انصاف کی معاشی ٹیم اچھی ہی نہیں بلکہ بہت اچھی ہے حضور! حفیظ شیخ، شبرزیدی اورعالمی مالیاتی اداروں سے وابستہ رہنے والے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر باقر رضا نے کبھی اس دھوپ چھاؤں کا مزہ ہی نہیں چکھا جو تھر کے صحراؤں سے اٹھتی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ خبیر اور ملاکنڈ کے کچے گھروں میں بسنے والوں کو دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔

پاکستان محض شہروں اور شہروں کے پوش علاقوں میں آباد جدید بستیوں کا نام نہیں۔ جہاں کے ڈرائنگ روموں کا درجہ حرارت سالہاسال یکساں رہتاہے۔ جہاں کے مکینوں پر سردی گرمی کا کوئی اثر ہوتاہے اورنہ مہنگائی ان کی راتوں کی نیند حرام کرتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں ۔وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ اہل ثروت کو ٹیکس دینا ہوگا تاکہ محروم طبقات کے لیے سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ جدید دنیا کا یہ ہی اصول ہے کہ امراء سے وسائل جمع کرکے کمزور شہریوں پر خرچ کرتی ہے۔لیکن حالیہ بجٹ میں کمزور طبقات پرپڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کی کوئی قابل ذکر کوشش نظر نہیں آتی۔

کاش!حکومت سارے ملک کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے بجائے ترجیحات مقرر کرتی۔ مرحلہ وار ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیاجاتاتو اگلے چند برسوں میں مطلوبہ اہداف حاصل کیے جاسکتے تھے۔ حکومت ایک اور تلخ حقیقت بھول رہی ہے کہ نوے کی دہائی کی سیاست کے داؤ پیچ آج کے ماحول میں سازگار نہیں۔سرکار اپنے اصطبل میں گدھے گھوڑے خرید کر جمع کرسکتی ہے لیکن رائے عامہ کی تائید سے محروم ہوجائے گی۔ ایک زمانے میں بھان متی کا کنبہ جمع کرکے قاف لیگ یا صدر ایوب خان کی کنونش لیگ بھی بنائی گئی تھی۔

رسی ڈھیلی پڑی تو آج بھی یہ لوگ کسی نئی چراگاہ ، اگلی منزل اور رہبر کی تلاش میں دوڑ پڑیں گے۔ پاکستان سماج کی بنت جمہوری اقدار پر استوار ہوئی ہے۔ لوگوں کو موقع ملتاہے تو وہ اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے کتراتے نہیں۔ اپریل 1986کی شام محترمہ بے نظیر بھٹو ائیر پورٹ سے نکلیں تو عوامی کے ہجوم بے کراں نے جنرل ضیاء الحق کی دس سالہ آمریت کا جنازہ پڑھا ۔

زیرک سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ سرکارچلائے رکھنا بڑی بات نہیں اصل چیلنج اس کا بھرم، اخلاقی وجود اور عوامی اعتبارقائم رہنا ہے۔موجودہ حکومت کو اپنے اخلاقی وجود کو قائم رکھنے پر دھیان دینا ہوگا ۔سب اچھا لکھنے والوں کو خبر ہو! وقت ریت کی طرح مٹھی سے پھسل رہاہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 125 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood