امریکہ نے کیسے ترقی کی؟
سپینی عیسائی مبلغین نے امریکہ کے ان علاقوں میں وسیع پیمانے پر بیماری پھیلنے کی اطلاعات دیں، جس سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو رہے تھے، اور بیماری مسلسل پھیل رہی تھی، اس بیماری نے امریکہ کے دونوں بر اعظموں کو متاثر کیا۔ بہت بڑی تعداد میں مقامی لوگ چیچک سے ہلاک ہو گئے۔ ان بیماریوں پر آج بھی تحقیق جاری ہے۔ 16 ویں صدی میں چیچک نے امریکہ رہنے والے انسانوں کو شدید متاثر کیا۔ چیچک کی بیماری یورپ سے امریکہ پہنچی۔
50 سے 90 فیصد مقامی آبادی چیچک کی بیماری سے ختم ہو گئی، کولمبس کی دریافت کے پچاس سال میں سپینی لوگوں کو انسانی آبادیاں نہیں ملیں، چیچک سے اکثر مقامی لوگ مر چکے تھے، انہیں وسیع علاقے جنگلات کے ملے، ان جنگلات میں ہزاروں اقسام کے جانور پرندے یورپی افراد نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ سپینی مشنریز نے رپورٹ دی کہ ایسے جانور جن کے کوئی نام نہیں، ان کے بارے میں دنیا کی کسی قوم کو علم نہیں ہے۔ یہاں قدرت جنگلی حیات کی نئی اقسام پال رہی تھی۔
سپنی لوگوں نے مختلف قسم کے جانوروں کو بحری جہازوں کے ذریعے سپین بھیجنا شروع کیا، اس کے ساتھ مکئی، ٹماٹر اور آلووغیرہ بھی۔ یہ چیزیں یورپ کے لئے اجنبی تھیں۔ ان چیزوں کے ساتھ امریکہ سے چند بیماریاں بھی یورپ پہنچی جو یورپ میں موت کا ذریعہ بن گئیں۔ یہ بیماریاں یورپ کے دیہاتوں، قصبوں، شہروں میں تیزی سے پھیلنے لگیں۔ بیماری کے شکار پاگل ہو جاتے تھے اور مرنے میں بہت وقت لگتا تھا۔ یہ بیماری فرنچ پاکس، یا سپینش بخار کہلائی۔ یورپ کو معلوم نہ تھا کہ یہ بیماری امریکہ سے آئی ہے۔
امریکہ میں آباد کاری اور وسائل کا استعمال۔ 17 ویں صدی میں یورپ سے بڑی تعداد میں لوگ نئی جگہوں پر آباد ہونے کے لئے مختلف خطوں کی جانب روانہ ہورہے تھے۔ انگلینڈ نے سپین کو ہرا کر نئی سپر پاور ہونے کا مقام حاصل کر لیا۔ 1607 میں امریکہ کے مشرقی علاقے میں پہلی انگلینڈ کی کالونی جیمز ٹاؤن کے نام سے قائم ہوئی جسے اب ورجینیا کہتے ہیں۔ یہ امریکہ میں ایک نئی دنیا کی تعمیر کی ابتدا تھی۔ ان کا کام برٹش کمپنی کے لئے پیسہ کمانا تھا۔
ان شاندار وسیع علاقوں کا مالک کوئی نہیں تھا۔ ان علاقوں میں 14 ہزار مقامی لوگ چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں رہتے تھے۔ دریاؤں اور ساحل کے ساتھ دو سو گاؤں آباد تھے اور گھنے جنگلوں میں بڑے گھر واقع تھے۔ وہ بینز اور مکئی اگاتے تھے۔ یہ لوگ کسان اور شکاری تھے۔ یہاں آباد کاروں کی امید کے برعکس سونا یا چاندی نہیں تھا۔ صرف زمینیں اور وہاں کے لوگ تھے۔ شروع میں آباد کار اور مقامی لوگ آپس میں کسی ٹکراؤ کے بغیر رہتے رہے۔
یہ سرزمین ایسے قدرتی وسائل سے مالا مال تھی جن کی یورپ میں کمی تھی۔ آباد کاروں کی طرف سے امریکہ کے دریاؤں سے بڑے پیمانے پر مچھلیاں پکڑی جانے لگیں اور بڑی تعدا میں یہ مچھلیاں انگلینڈ، سپین وغیرہ بھیجی جانے لگیں۔ آباد کاروں نے دو سو سال میں امریکہ سے اتنا حاصل کر لیا جو یورپ میں ہزاروں سالوں میں حاصل کیا گیا تھا۔ کئی جہاز زیادہ مچھلی کے وزن کی وجہ سے ڈوب جاتے۔ اتنے وسیع پیمانے پر مچھلیوں کے شکار سے مچھلیوں کی افزائش پر نہایت برے اثرات مرتب ہونے لگے۔ پیسوں کے لئے مچھلی خشک کر کے نمک میں رکھ کر بھی یورپ بھیجی جاتی تھی۔
نہ ختم ہونے والے جنگلات یورپئینز کے لئے حیران کن تھے، کاشت کاری کے لئے جنگلات کے درخت کا صفایہ کیا جانے لگا اور یہاں سے لکڑی بھی یورپ بھیجی جانے لگی۔ درختوں کے وسیع پیمانے پر کٹاؤ سے 17 ویں صدی میں کریبین اور اٹلانٹک آئی لینڈ کے وسیع علاقوں سے جنگلات کا مکمل صفایہ ہو گیا۔ آباد کاروں کے گھروں میں دن رات ہر وقت ہر کمرے میں آگ جلتی رہتی تھی، جلانے کے علاوہ کاشت کاری اور تعمیرات کے لئے بھی تیزی سے درخت کاٹے جا رہے تھے۔ یورپی لوگوں نے امریکہ کے وسائل لوٹ کر خطے کو بدل دیا اور ساتھ ہی اپنے ساتھ لائی چیزوں سے بھی امریکہ کو تبدیل کر دیا۔
اپنی ملکیتی زمینوں کے خواہشمندیورپی لوگ بہتر زندگی کے لئے امریکہ کا رخ کرنے لگے۔ وہ مذہبی آزادی کے بھی متلاشی تھے۔ ان کا یقین تھا کہ وہ اپنی کامیابیوں اور خوشیوں کے خود ذمہ دار ہیں۔ پہلی بار آباد کاروں کے ساتھ عورتیں بھی امریکہ پہنچنے لگیں اور وہ اپنے ساتھ استعمال کی مختلف مزید اشیا بھی لے کر آئیں۔ وہ بھیڑیں، مرغیاں، پودے اور یورپی فصلوں کے بیج بھی ساتھ لائیں جو اس خطے کے لئے نیا تھا۔ انہوں نے کاشت کاری کے یورپی اوزاروں اور طریقوں سے زمینوں میں کاشت کاری شروع کی۔
ماحولیاتی تبدیلی وقوع پزیر ہونے لگی اورجلد ہی گندم اور دوسری یورپی فصلیں امریکہ میں بھی پیدا کی جانے لگیں۔ گائے کی طرح کے امریکی جانور بائیسن کی جگہ بیل گائے زیادہ نظر آنے لگیں۔ مویشیوں کی تعداد یورپ کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑہنے لگی۔ بیلوں کی آبادی بڑہنے سے امریکہ میں بیج مختلف زمینوں تک پھیلتے چلے گئے۔ یورپی لوگوں کے لائے گئے جانور امریکہ میں تبدیلی کی ایک اہم بنیاد ثابت ہوئے اور ان کی آبادی مختلف حصوں میں پھیلتی چلی گئی۔
آباد کاروں کی گھر لکڑی کے ستونوں کی دیواروں کے حصاروں میں قائم کیے گئے۔ ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ گوشت امریکہ میں سستی ترین خوراک بن گئی۔ ان کے پاس یورپ سے لایا گیا آتشی اسلحہ، ہتھیار، اوزار تھے۔ کاشت کاری وسیع ہوتی گئی، درخت کاٹ کر مزید علاقے کاشت کاری کے قابل بناتے ہوئے ہر قسم کے چیزیں اگائی جانے لگیں۔ انہوں نے یورپی درخت بھی علاقے میں لگانے شروع کر دیے۔ یورپ سے لائے گئے پھلوں کے درخت بھی لگائے گئے۔
یورپ کے پودے، پھول لگانے سے امریکہ میں شہدکی پیداوار بھی شروع ہو گئی۔ یورپی شہد کی مکھیاں بھی یہاں شہد پیدا کرنے لگیں جو مقامی شہد مکھیوں کی نسبت ہر قسم کے پھولوں سے شہد حاصل کر سکتی تھیں۔ سیب کے باغات سے شمالی امریکہ میں سیب کی پیدار واربڑی صنعت بن گئی، جس کاتخمینہ پانچ ملین ٹن سالانہ تھا۔ یورپی پھل وغیرہ امریکہ میں اچھی پیداوار دینے لگے۔ امریکہ سے ٹماٹر اور آلو وغیرہ کی یورپ آمد سے یورپ کے کھانوں میں نیا اضافہ ہوا۔
امریکہ سے لائے گئے ٹماٹر اور آلو کی پیداوار یورپ میں تیزی سے ہونے لگی۔ 16 صدی میں ٹماٹر یورپ کے اکثر حصوں میں پیدا کیا جانے لگا اورروس میں بھی ٹماٹر اگایا جانے لگا۔ یورپ کے امرا ء میں چائے کے ساتھ چینی اور تمباکو کا استعمال سٹیٹس سمبل بن گیا۔ تمباکو امریکہ سے ہی یورپ لایا جانے لگا اور آباد کاروں نے اس کی پیداوار یورپ بھیجنا وسیع پیمانے پر شروع کیا۔ یورپ کی طلب پوری کرنے کے لئے گنے اور تمباکو کی کاشت میں اضافہ ہونے لگا۔ امریکہ کے ان کھیتوں میں کام کرنے کے لئے یورپ سے افریقی غلاموں کو بھی امریکہ لایا جانے لگا، ۔ دس ملین افریقی غلام امریکہ لائے گئے۔ ان افریقی غلاموں کے ذریعے یورپ کی طلب پوری کرنے کے لئے امریکہ میں گنا، گندم، تمباکو، چاول کی وسیع کاشت ہونے لگی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں









