پرائے دیس میں دیس کی یاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرانی عمارتیں، پرانی گلیاں، پرانے مجسمے، پرانے گانے، پرانی کتابیں، پرانے شاعر اور پرانی یادیں، ان سب کا اپنا ہی فسوں ہے۔ اور عمر کے ساتھ ساتھ جیسے ان بیتی یادوں کے رنگ اور بھی شوخ ہوتے جا رہے ہیں۔

ہمارے ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی کی عمارت تقریباً پچھتر سال اور سول ہسپتال کی اصل عمارت تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانی ہے۔ پیلی اینٹوں کی بنی، اونچی چھتیں، بڑے بڑے برآمدے، کھڑکیاں بڑی اور ایسے رخ پر کہ شدید گرمیوں میں بھی وارڈ ہوادار اور روشن۔ اس کے برعکس ہسپتال کے نئے بلاک بوسیدہ، اندھیر، سیلن اور گھٹن ذدہ۔

‏اتفاق اور خوش قسمتی سے ہم نے میڈیسن کے جس وارڈ میں ہاؤس جاب کی تھی وہ پرانی عمارت میں تھا۔ وسیع عمارت اور عمارت کے باہر تقریباً اسی کے ہم عمر گھنے پیپل، نیم اور برگد کے درخت۔

‏ گورنمنٹ ہسپتالوں میں ہاؤس افسر ز کی زندگی بیک وقت قابلِ رحم اور قابلِ ستائش دونوں ہوتی ہے۔ کوٹ پہنے اسٹیتھو اسکوپ گلے میں لٹکائے وہ ماشا اللّہ سے ڈاکٹر، نرس، وارڈبوائے، چوکیدار اور کبھی کبھی تو ضرورت کے وقت مریض کے لیے خون کا بندوبست کرتے اہل خانہ کے فرائض بھی سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ جس دن ہمارے وارڈ کی ایمرجنسی اور ہماری نائٹ ڈیوٹی ہوتی وہ دن گہما گہمی، بھگدڑ اور شدید ترین مصروفیت کا ہوتا تھا۔

صبح او پی ڈی میں مریض دیکھنا پھر وارڈ آکر سارے نئے داخل شدہ مریضوں کی ہسٹری لینا، ان کی فائلیں بنانا، بھاگم بھاگ ان کے ضروری ٹیسٹ، ایکس رے کروانا۔ اور اس سب افراتفری سے فارغ ہوتے ہوتے شام کے چار بج جاتے تھے۔ چار پانچ بجے تک دن کی ڈیوٹی والے ڈاکٹر اور مریضوں کے ساتھ آئے رشتہ دار اپنے گھروں کو جا چکے ہوتے۔ مریض بھی تھک ہار کر آرام کا سانس لیتے۔ وارڈ میں ایک خاموشی سی چھا جاتی۔

‏اس وقت ہم اپنی دوستوں کے ساتھ وارڈ کی سیڑھیوں پر کچھ دیر سستانے کے لیے بیٹھ جاتے۔ ہماری دوستیں کیا باتیں کرتیں ہمیں کچھ پتا نہیں ہوتا۔ ہم تو بس خاموشی سے شام کو محسوس کرتے۔ ڈھلتا ملگجا سورج جو شاید دن بھر قہر برسا کر خود بھی تھک سا گیا ہو، دن بھر سورج کی ڈیوٹی سنبھالنے کے بعد شام کو سمندر سے کچھ ٹھنڈک مستعار لاتی خوشگوار سی ہوا، پتوں کی سرسراہٹ، دور قریب سے آتی کوؤں کی کائیں کائیں بھی کانوں کو بھلی لگ رہی ہوتیں اور اس دوران ہوا کے دوش پر کہیں سے کوئل کی آواز آ جاتی تو بس جیسے ساری تھکن اتر جاتی اور دل خوشی سے بھر جاتا۔

‏کالج کے وہ دن وہ شامیں اور ان کا ایک ایک لمحہ جیسے ذہن میں محفوظ سا ہے۔ ہم کینڈا کی گرمیوں میں کراچی کی شاموں کو تلاشتے اور محسوس کرتے رہتے ہیں یا شاید گزرے وقت کو۔

یوسفی صاحب کے کردار کی طرح سب کو اپنی حویلی کی فوٹو تو نہیں دکھاتے کہ ”میاں یہ چھوڑ آئے ہیں“

لیکن دن بھر کی تھکن، اخبارات اور سیاست کی سنسنی کو گھر کے اندر چھوڑ کر شام کو بیک یارڈ میں آرام کرسی پر بیٹھے آنکھیں بند کیے جب پرندوں کی آوازیں کانوں میں رس گھولتی ہیں اور معتدل سی ہوا پتوں کو کھلکھلانے پر مجبور کرتی ہے تو اپنا ملک، اپنا شہر، اپنے لوگ اور اس کی شاموں کو یاد کرتے سوچتے ہیں کہ ”کیا کچھ چھوڑ آئے ہیں“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •