اولاد کی ستائی ماں اور مجبور ڈاکٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوپہر دو بجے کا وقت تھا۔ لاہور کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی چل رہی تھی۔ معمول کے مطابق رش تھا۔ میری ڈیوٹی دو بجے شروع ہونی تھی۔ ایمرجنسی کا یہ اصول ہوتا ہے کہ وہاں جب تک دوسری شفٹ کا ڈاکٹر نہیں آتا پہلی شفٹ والا جا نہیں سکتا اس لیے وہاں دیر سے پہنچنے کا رواج نہیں ہوتا۔ میں بھی دو بجے ایمرجنسی میں موجود تھی۔ پہلی شفٹ کے ڈاکٹر سے اوور لینا شروع کیا۔ وہ صبح چھ بجے سے ایمرجنسی میں ڈیوٹی پہ تھا اس لیے ہر مریض تفصیل سے بتا رہا تھا۔

ایک مریضہ کے بستر پہ پہنچے تو اس نے بتایا کہ ان کے ٹیسٹ بھیجے ہیں اگر کوئی مسئلہ نکلے تو داخل کر لینا اس مریض کا مرض شاید اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے مریض تفصیل سے دیکھنے شروع کیے۔ ان ماں جی نے مجھے ہاتھ کہ اشارے سے بلایا تو میں سب سے پہلے ان کے بیڈ پہ چلی گئی۔ ان کی عمر غالباً ساٹھ کہ قریب ہو گی وہ ایک دبلی پتلی جسامت کی عورت تھی جن کو شاید پرانا جوڑوں کامرض تھا اس کی وجہ سے ان کی انگلیاں ٹیڑھی ہو چکی تھیں ان کے ہاتھوں اور پاوں کے ناخنوں میں میل بھری ہوئی تھا۔

ان کے بال بھی الجھے ہوئے تھے ان کے چہرہ پہ باقاعدہ گھبراہٹ اور پریشانی نظر آرہی تھی۔ وہ بار بار اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیرتی کبھی انکھیں بند کر لیتی۔ ان کے جسم کی ہر جنبش میں ایک عجیب سی گھبراہٹ عیاں تھی جو میری سمجھ سے باہر تھی۔ میں نے ان سے ان کی بیماری کی تفصیل پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ مجھے پرانا جوڑوں کا مرض ہے اور میرے جوڑوں میں شدید درد رہتا ہے۔ مزید بتایا کہ میرے حلق سے نیچے کچھ نہیں اترتا۔

میرے سے کچھ نہیں کھایا جاتا میں بہت بیمار ہوں مجھے داخل کردو۔ ان کا سارا زور اس بات پہ تھا کہ مجھے داخل کر دو۔ مجھے ہسپتال میں داخلے کی ضرورت ہے۔ ان کے ساتھ ایک لڑکی تھی جو اس پوری گفتگو میں خاصی لا تعلق سی بیٹھی تھی۔ اس کے انداز میں بیزاری جھلک رہی تھی۔ مجھے بچپن سے لوگو ں کے چہرے پڑھنے کا فن آتا ہے۔ اور اس وقت بھی اس بوڑھی عورت کا چہرہ کوئی اور کہانی سنا رہا تھا۔ میں نے ان کو کچھ دوائیاں وغیرہ لکھ کر دیں اور دوسرے مر یض دیکھنے چلی گئی۔

اس دوران میں دورسے ان پہ گاہے بگاہے نظر بھی ڈال لیتی تھی۔ اتنے میں وہ لڑکی میرے پاس آئی کہ ڈاکٹر صاحبہ میرے مریض کہ بارے میں بتا دیں میں نے اس سے پوچھا کہ یہ خوراک لیتی ہیں گھر پہ یانہیں تو اسنے بتایا کہ یہ سب کھا لیتی ہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے ان کو۔ آپ ان کو دوائی وغیرہ دے کہ چھٹی دے دیں میرے لیے ان کو داخل کروانا مشکل ہے میں اکیلی ہوں۔ میں نے اسے جواب دیا کہ ٹھیک ہے رپورٹس کہ بعد فیصلہ کرہں گے۔ تھوڑی ہی دیرمیں وہ لڑکی کہیں گئی تو مجھے کسی اور مریض کے ساتھ والے نے بتایا کہ وہ ماں جی آپ کو بلا رہی ہیں۔

اس وقت میں اپنے سارے مریض دیکھ چکی تھی اس لیے ان کے پاس چلی گئی۔ میں ان کے ساتھ والے بیڈ پہ بیٹھ گئی کیونکہ مجھے اندازہ تھا کہ اب کوئی نئی کہانی کھلے گی۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان کے پاس بیٹھ گئی ان سے پوچھا جی ماں جی بتائیں کیا ہوا۔ ان کے اندر کا آتش فشاں ان محبت بھرے دو بولوں سے شاید پھٹ گیا تھا۔ ان کی آنکھوں سے آنسووں کی لڑیاں بہہ رہی تھیں۔ انھوں نے بتانا شروع کیا کہ میرا کوئی خیال نہیں رکھتا کوئی میرا علاج نہیں کراتا مجھے بہت درد ہوتا ہے مجھے داخل کر لو بیٹا۔

ان کے بچے ان کا خیال نہیں رکھتے تھے۔ اچانک انھوں نے دونوں ہاتھ جوڑ لیے اور میری منت کرنے لگیں کہ مجھے داخل کرلو۔ وہاں ایک بوڑھی ماں میرے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھی یہ منظر دیکھ کر میری روح کانپ اٹھی تھی۔ وہ جھوٹ نہیں بول رہی تھیں وہ واقعی بیمار تھیں بس فرق یہ تھا کہ ان کی بیماری جسم تک محدود نہیں تھی۔ ان کے اپنوں کے رویے نے ان کی روح بھی گھائل کردی تھی۔ وہ محبت اور توجہ کی طالب تھیں۔ مگر ان کی بے حس اولاد کو فرق نہیں پڑتا تھا۔

میں نے بڑی مشکل سے ان کے ہاتھ پکڑے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ انہیں کیسے سمجھاوں کی ماں جی میں جسم کی بیماریوں کا علاج کر سکتی ہوں کسی کی روح پہ لگے زخموں کا علاج نہیں کرسکتی اپنوں کی بے حسی کا علاج نہیں کر سکتی میں کافی دیر ان کے پاس بیٹھی رہی اور انھیں یقین دلایا کہ میں آپ کو داخل کر دوں گی آپ پریشان نہ ہوں۔ اس کے بعد وہ کافی مطمئن نظر آرہی تھیں میں وہاں سے اٹھ کہ ڈاکٹرز کاونٹر کی طرف گئی تو وہ مجھے دعائیں دے رہی تھیں اور کافی دیر تک ان کی دعاوں کی آواز سنائی دی۔

میری آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔ دل بوجھل سا ہو رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ لڑکی واپس آچکی تھی۔ میں نے اسے پاس بلایا اور پوچھا کہ اب کیسی طبعیت ہے ماں جی کی۔ اس نے شکوہ شروع کردیے کہ دیکھیں بالکل ٹھیک ہیں۔ کھانا بھی کھا رہی ہیں بلاوجہ داخل نہ کیجیئے گا ان کو میں اکیلی ہوں اور ان کے بچے یہاں نہیں آئے۔ میرے پوچھنے پہ اس نے بتایا کہ میں ان کی بہو ہوں۔ یہ میری ماں نہیں ہیں۔ اس وقت میرا دل چاہا کہ اسے سمجھاوں کہ ماں تو صرف ماں ہوتی ہے وہ تیری یا میری کب ہوتی ہیں۔ مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں نہ مگر کسی سے سنا تھا کہ اپنے الفاظ ان پہ ضائع کرنے چاہیں جن پہ کسی اثر کی امید ہو۔

میں نے بھی ایک بے حس ڈاکٹر کا روپ دھار لیا اور اسے کہا کہ ہمارے پاس تو ویسے ہی وارڈ میں جگہ نہیں ہے ہم انہیں چھٹی دیں گے کیونکہ ان کی رپورٹسں ٹھیک ہیں۔ اور اس نے فوراً ہی ماں جی کو یہ خبر سنا دی کہ آپ کو چھٹی مل رہی ہے انھوں نے مجھے بلانا شروع کر دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں انہیں کیسے سمجھاوں کہ ماں جی ہسپتال میں داخلے کے لیے بھی ان کے ساتھ کوئی اپنا ہونا ضروری ہے۔

میں نے اپنے آپ کو اتنا بے بس کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ بہت مشکل سے ہمت جمع کر کے ان کے پاس گئی اور انھیں سمجھایا کہ ماں جی آپ کی ساری رپورٹس ٹھیک ہیں۔ یہ سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے زندگی میں پہلی دفعہ کسی کو تندرست ہونے پہ دکھی دیکھا تھا۔ انسان بھی کبھی کبھی کتنا بے بس اور مجبور ہوتا ہے۔ وہ ماں جس نے ساری زندگی بچوں کو پالا پوسا انہیں بڑا کیا وہ اتنا بھی حق نہیں رکھتی کہ اس کے بچے اس کا خیال رکھیں۔

وہ محبت کی بھیک مانگ رہی تھی اور میں مجبور کھڑی تھی میں انسانیت کی بنیاد پہ انھیں داخل کر بھی دیتی تو ان کا خیال تو ان کے اپنوں نے رکھنا تھا۔ بہت مشکل سے انھیں قائل کیا کہ آپ کو جس علاج کی ضرورت ہے اس کے لیے صبح آنا پڑے گا۔ اور انہیں شعبہ نفسیات میں ریفر کر دیا۔ انھیں اپنوں کے رویے نے نفسیاتی مریض بنا دیا تھا۔ اور یہ ہمارے معاشرے کا بھیانک روپ ہے کہ ایک بوڑھی ماں جسے محبت اور توجہ کی ضرورت ہے اسے نفسیاتی مریض قرار دیا جاتا ہے۔ وہاں ایک ڈاکٹر مجبور کھڑا تھا اور انسانیت شرمندہ تھی۔

مٹی کی مورتوں کا ہے میلہ لگا ہوا
آنکھیں تلاش کرتی ہیں انسان کبھی کبھی

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •