انجم رومانی اور ”کوئے ملامت“ کی شاعری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ دنیا ہے اور ہم سب دنیا دار۔ دنیا اور آسمان جن کے پاٹوں میں جو آیا ثابت نہیں گیا۔ عجب چکرا دینے والا چکر ہے۔  چکی جھونے والے تھک گئے۔  دانے ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔  ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا۔ اس صورتِ حال میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس آپا دھاپی میں بھی اپنے عمل کا حساب رکھنا نہیں بھولتے۔  اپنے آپ کو کوئے ملامت میں رکھتے ہیں۔  ایسا حوصلہ کم لوگوں میں ہوتا ہے۔  انجم رومانی نے اپنے آپ کو اس کوچے میں رکھا۔ اپنا مقابلہ اپنے ساتھ کیا۔ اچھا ہی کیا۔ مقابلہ ہمیشہ برابر کے ساتھ ہوتا ہے اور کوئے ملامت میں کھڑے ہوئے شاعر کا مقابلہ اس سماج کے لوگوں سے ہر گز نہیں کیا جا سکتا جس میں ہر دوسرا آدمی تیس مار خاں ہو۔ انجم رومانی کو سانس لینے کے لیے جو زمانہ ملا وہ کوئی ایسا متوازن دور نہیں تھا۔ والدین تقسیم کی نذر ہو گئے اور خود لٹے پٹے قافلوں کے ساتھ نئے وطن میں قیام کیا۔ نئی زمین، نیا ماحول، نئے لوگ، نئے لہجے۔  اس کیفیت میں شعر کو شعار کیا اور جیون کاٹ دیا۔ لمحوں کی اس آر جار سے جو کچھ ملتا گیا شاعر نے اسے کوئے ملامت میں محفوظ کر دیا۔

 زہرابِ غم جو ہم نے پیا تو کسی کو کیا

 خود کو خراب ہم نے کیا تو کسی کو کیا

 کرتے تو کس امید پہ رودادِ غم بیاں

 ہم نے اگر لبوں کو سیا تو کسی کو کیا

 جب پا شکستگی تھی ہوا کون دستگیر

 اب غم نے ہم کو تھام لیا تو کسی کو کیا

 اک عمر سے تھی شوق کی بازی لگی ہوئی

 دل اس میں ہم نے ہار دیا تو کسی کو کیا

 دیکھو جسے ہے اپنی ہوا باندھنے سے کام

 بجھتا ہے گر کسی کا دیا تو کسی کو کیا

 انجم کسے پڑی ہے بٹائے کسی کا درد

 مر مر کے کوئی ہم سا جیا تو کسی کو کیا

 اس غزل کو آپ جتنی بار پڑھیں ہر دفعہ ہمارا سامنا دکھ کی عجیب ٹیسوں سے ہو گا۔ یہاں تنہائی، نارسائی، بے طاقتی، دل گرفتگی، حزن کی ایسی فضا ہے جس میں بیسویں صدی کی حسیت کراہ رہی ہے۔  جو لوگ اس خیال کی تکرار کرتے نہیں تھکتے کہ غزل گل و بلبل کے قصوں سے بھرپور، ریزہ خیالی کی حامل صنفِ سخن ہے انھیں اس طرح کا کلام ضرور پڑھنا چاہیے۔  ہم اشتہاری معاشرے میں سانس لینے والے لوگ ہیں۔  ہمیں شعر بھی وہی اچھے لگتے ہیں جن میں فوریت ہو۔ اعلان کرتے ہوئے۔  ہم ایک ایک شعر لے کر شاعر کی قدر کا تعین کرتے ہیں۔  شاعر ایک دو یا دس شعروں سے پہچان میں نہیں آتا۔ شاعر کے احساس سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے اُسے کلیت میں پڑھنا پڑتا ہے۔  ایک ایک شعر پر دھیان دینا پڑتا ہے۔  تب جا کر اُس شاعر کی شاعری کا پورا طیف آپ کی آنکھوں میں سما جانے کے قابل ہوتا ہے۔  ممکن ہے اور ایسے ہونا بھی چاہیے کہ کسی شاعر کے کلام میں کمزور حصہ بھی موجود ہو۔ آخر ہر شعر ایک جتنا ہموار اور ایک جیسی توانائی کا حامل نہیں ہو سکتا۔ شاید ایک دو کلاسیکی شاعروں کو یہ اختصاص ہو کہ ان کے کلام میں ناہمواری برائے نام پائی جاتی ہو ورنہ تو اس سے کوئی فن پارہ خالی نہیں۔  انجم رومانی نے اپنے آس پاس کی شعری فضا سے خود کو بڑی دانائی سے فاصلے پر رکھا۔ ترقی پسندی، رومانیت، میریت سے ایک طرف ہو کر کلاسیکی فضا کے اندر رہ کر شعر میں تازہ کاری کی مثال قائم کی۔

 ہم ہیں کہ اک غبارِ تمنا سفر میں ہے

 رستہ دکھائی دے نہ مسافر دکھائی دے

 اس قبیل کی شاعری جب سویرا میں چھپی تو محمد حسن عسکری نے سہیل احمد خاں کو خط لکھتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا کہ آج کے زمانے کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پرانی لفظیات کے استعمال سے غزل میں نیا پن نہیں آ سکتا۔ یہ شعر اُن کے اس خیال کی نفی کرتا نظر آتا ہے۔  عجیب شعر ہے۔  خود کو غبارِ تمنا سے تعبیر کرنے میں لاحاصلی کی ایسی غیر مختتم کیفیت ہے کہ انسان اپنے آپ میں نہیں رہتا۔ آپ پڑھتے چلے جائیں یہ شعر دور تک اور دیر تک آپ کا ساتھ دیتا چلا جائے گا۔ ایک تازہ دمی کی کیفیت ہے جو اس طرز کی شاعری میں ہاتف نے روا رکھی ہے۔  انجم رومانی کا مصرع ٹُھکا ہوا ہوتا ہے۔  اس میں منطق ہوتی ہے۔  اس میں علت اور معلول کا رشتہ ہوتا ہے۔  روا روی اس کلام کا خاصہ نہیں۔  یہی وجہ ہے کہ کوئے ملامت کو چھپتے چھپتے چالیس سال کا طویل انتظار کھینچنا پڑا۔ انجم رومانی ریاضیات کے مدرس تھے۔  ریاضی چیزوں کی ماہیت کو اُن کی اصل میں دیکھنے کی حِس عطا کرتا ہے۔  منطق میں استدلال کی رعایت انسانی ذہن کو ممکنہ حد تک غلطی سے بچاتی ہے۔  کوئے ملامت میں ایک تجزیاتی ذہن سے ہمارا سابقہ قائم ہوتا ہے جو شاعر کی تخلیقی طاقت سے مل کر خیال اور حقیقت کے آمیزے سے نئی دنیا تخلیق کرتا نظر آتا ہے۔  خیال اور بیان میں ہمدمی اور احساس میں کروٹ کا گمان ہوتا ہے۔  انجم مرض کی ٹھیک ٹھیک تشخیص کرتے ہیں اور پھر طنز کے نشتر سے ہماری توجہ اس مظہر کی طرف مبذول کرواتے ہیں جس میں کسی سطح پر کوئی نہ کوئی کجی رہ جاتی ہے۔

 کیا چلے زور اُن پہ، اے دل! جن کا زور

 جب چلے بے اختیاروں پر چلے

 زندگی ہے کچھ تجارت تو نہیں

 آپ کس کے اشتہاروں پر چلے

 ۔

 راجا پیاسا، پرجا پیاسی، اے انجم رومانی

 میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون بھرے گا پانی

 ۔

 یہ کائنات حقیقت ہے یا فسانہ ہے

 جنابِ شیخ ابھی استخارہ کرتے ہیں

 ۔

 سچ کے سودے میں نہ پڑنا کہ خسارہ ہو گا

 جو ہوا حال ہمارا سو تمھارا ہو گا

 مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •